ہم محبت کے ترسے لوگ

Print Friendly, PDF & Email

جوں ہی فون پر گھنٹی بجی وہ تیزی سے فون کی طرف لپکی۔ ہیلو ہیلو! دوسری طرف شاید آواز نہیں جا رہی تھی۔ ایک تو یہ فون بھی خراب ہے ہمارے ہاں تو کچھ بھی ٹھیک نہیں رہتا۔ مائرہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ دوبارہ فون کی بیل بجی۔ ہیلو مائرہ کیسی ہو ؟ میں ٹھیک ہوں کچھ رسمی گفتگو کے بعد احمد نے اسے یاد دلایا مائرہ تمہیں یاد ہے کل کون سا دن ہے۔ ہاں ہاں مجھے یاد ہے کل محبّت منانے والوں کا دن ہے وہ خوش ہو کر بولی۔ تو مائرہ اس دن تم نے مجھ سے ملنے کا وعدہ کیا تھا نا؟احمد نے پوچھا۔ ہاں وعدہ تو کیا تھا لیکن تمہیں معلوم ہے اس قید سے رہائی بہت مشکل ہے۔مجھے تو فون پر بات کرتے دیکھ کر اماں شک کرنے لگتی ہیں سو سو بہانے بنانے پڑتے ہیں۔ مائرہ غصے سے بولی۔ مائرہ وہ تمہاری دوست بھی تو ہے عیشاء ہر روز اپنے دوست کو ملتی ہے۔

ارے ارے تم کس کی بات کرتے ہو ان کے اور ہمارے زندگی گزارنے میں بہت فرق ہے۔ شاید سب سہولیات اور خوش حالی کے ساتھ ساتھ محبّت بھی امیروں کے نصیب میں لکھ دی گئی ہے۔ ایک وہ ہیں کہ روز یونیورسٹی میں بھی ملتے ہیں، کلب ریسٹورانٹ میں بھی خوب عیاشی کرتے ہیں اور ایک ہم ہیں جن کو محبّت کا ایک دن بھی نصیب نہیں۔ چلو فون رکھو شام میں بات کروں گی۔ کل بھائی بھی گھر ہو گا اسے کام سے چھٹی ہے۔ٹھیک ہے میں انتظار کروں گا احمد آہستہ آواز میں بولا۔ محببتوں کی راہ میں باندھے گئے بند نجانے کب ٹوٹیں گے اور خوشی کا ایک دن ہمیں بھی نصیب ہو گا پتا نہیں یہ امیر لوگ اتنے خوش قسمت کیوں ہوتے ہیں اور ہر مشکل کو جھیلنا ہمارے ہی مقدر میں کیوں لکھا ہے قدرت بھی ان لوگوں پر بہت مہربان ہے اور محرومیوں اور محکومیوں کے ساتھ ساتھ رسم و رواج کے بھیانک ناگ بھی ہمیں ہی ڈستے ہیں۔

آہ ہم دیہاتی لوگ ہیں ہمارے خواب تو کبھی پورے نہیں ہوتے چاہے ہم زندگی بھر نیند میں جھولتے رہیں لیکن ہم روٹی کے بھوکے لوگ محبتیں کیا خاک کریں گے دن ان ہی سوچوں میں گزر گیا اور ڈوبتا سورج بھی افق پر خوب صورت منظر پیش کر رہا تھا سرد ہوا جسم کو چھو رہی تھی اور دھیمہ اندھیرا بھی چھا رہا تھا کہ فون سے روشنی اٹھتی نظر آئی مائرہ نے فون اٹھایا اور بولی سنو! ہم نہیں مل سکتے ہم محبّت کرنے والوں کی قسمت میں بس دوریاں ہیں میرے دیوتا۔ یہاں روایات کے بھوت اور رواجوں کے دیو ہمیں کاٹنے کے لئے تیار کھڑے ہیں ہم مجبور لوگ ہیں ہمیں اپنے رنگین جذبات کو نگل جانا چاہئیے۔

یہ بھی پڑھئے:   کتابِ ذات کا موسم

میں بھی تمہاری طرح ملاقات کی بہت حریص ہوں میں گھر کے کسی ستون کے ساتھ لپٹ کر رو لوں گی مائرہ ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بولی۔ احمد: مائرہ کیا عقائد، رکاوٹیں رسم و رواج کی بندشیں ہم مجبور غریب لوگوں کے لئے ہی ہیں ؟؟۔میرا دل چاہتا ہے میں سرخ پوشاک تمہارے نازک بدن میں اوڑھی ہوئے دیکھوں، تمہارے سلوٹوں والے ہونٹوں سے اپنی آنکھوں کو پر نم کروں تمہارے گیسو کمر پر بل کھاتے دیکھوں تمہاری سمندر جیسی آنکھوں میں ڈوب جاؤں، تمہاری الجھی ہوئی لٹ کو سلجھاؤں تمہارے بدن کی تپش محسوس کروں تمہاری سانسوں کی بھینی بھینی خوشبو سے خود کو معطر کروں میں تمہارے دل کے آنگن کو سنوار دوں بہار کے دل کش موسم تمہارے دل میں اتار دوں تم میری سسکیاں اور آہیں سنو تم میری معصومیت اور میرا دیوانہ پن محسوس کرو اور میں محببتوں کے گلاب موسم تم پر وار دوں۔ محبّت اور چاہے جانے کا احساس کس بد بخت کو نہیں بھاتا مائرہ بولی ہی تھی کہ کال منقطع ہو گئی۔ مائرہ نے ایک جمائی لی فون چارجنگ پر لگایا اور بستر پر لیٹ گئی اور سوچنے لگی۔

یہ ماں باپ بھی عجیب ہوتے ہیں بیٹی کی رخصتی پر آنسوؤں کے دریا بہاتے ہیں اور اس کے ارمانوں کی رخصتی پر ایک آنسو نہیں نکلتا۔ محبّت تو ایک خوب صورت جذبہ ہے، محبّت تو عاجزی ہے محبّت تو زندگی ہے محبّت تو ایک حقیقت ہے محبّت تو صحیفہ ہے جو دلوں پر اترتا ہے محبّت کی کونپلیں تو دلوں میں پھوٹتی ہیں محبّت تو پیاس ہے۔ میرا دیوتا تو میرا گیت سنگیت ہے وہ تو میری زندگی ہے وہ میری چاہتوں کا کنول ہے میں اسے کیسے چھوڑ سکتی ہوں۔ صبح اٹھتے ہی مائرہ نے احمد کو ایک میسج کیا آج 2 بجے ہم پارک میں ملیں گے میں نے اماں کو بتا دیا ہے کہ دوست کے گھر جانا ہے۔ میسج پڑھتے ہی احمد خوشی کا جشن منانے لگا۔

یہ بھی پڑھئے:   کہانیوں کے اندر بھی کچھ کہانیاں ہیں

مقررہ وقت پر احمد پارک میں پہنچ کر مائرہ کا انتظار کرنے لگا۔ چند منٹ میں مائرہ بھی وہاں پہنچ گئی وہ دمک رہی تھی وہ مہک رہی تھی اس کے رخسار گلنار کی مانند سرخ تھے احمد اس کی گہری صحرا کی مانند آنکھوں میں کھو گیا۔ اس کی مسکراہٹ گرم دھوپ میں کالے بادلوں کی طرح چھا گئی تھی درخت جھوم رہے تھے پتے رقص کر رہے تھے ہوا میں خوشبو بکھر رہی تھی اس کا شباب بادلوں میں سخن کے رنگ گھول رہا تھا وہ محبّت میں خوشی کے سب لمحے اس کے نام کر چکی تھی۔ شرم وحیا کی حدود اور سماج کی بے جا پابندیوں نے اس بات کی اجازت نہ دی کہ کچھ بول سکیں۔ وہ کچھ بولنے ہی والا تھا پولیس کی گاڑی آ پہنچی دونوں کو قریبی تھانے لے جایا گیا۔ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے آہ ہا ہم محبت کے ترسے لوگ۔

Views All Time
Views All Time
375
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: