Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اقتدار پر قبضے کی جنگ

by جولائی 10, 2016 سیاست
اقتدار پر قبضے کی جنگ
Print Friendly, PDF & Email

Anwar Abbas Anwar newبادہشت کے زمانے کی بات ہو یا جمہوریت میں قائم منتخب عوامی حکومت کے عوامی جمہوری حکمران کا تذکرہ ہو، یا پھر دنیا کا بدترین اور عوامی نفرت کا منبع ’’فوجی نظام حکمرانی ہو، سب کے مابین ایک چیز قدر مشترک ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ طاقت ،قوت اور اختیارات کو اپنے ہاتھ میں مرتکز کرنا، ہر حکمران چاہے منتخب ہو یا غیر منتخب ،طاقت کے بل بوتے پر برسراقتدار آئے ہوئے باوردی چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹرکی دلی خواہش ہوتی ہے اس کی وجہ اقتدار کو طول دینا ہوتا ہے ،ان حکمرانوں کے خیال کے مطابق لولا لنگڑا اقتدار، کمزور حکومت کے کسی وقت بھی دھڑام سے زمین بوس ہونے کے امکانات ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ بڑے بڑے نیکوکار،تہجد گزار اوراپنے ہاتھوں سے ٹوپیاں سلائی کرکے روزی کمانے والے بادشاہ بھی کبھی نہ کھونے والے اقتدار کی آرزو کے اسیر نکلے، اپنی اس آرزو کی تکمیل کے لیے انہوں نے ناصرف اپنے والد گرامی کو تخت سے سکبدوش کیا بلکہ اسے قید تنہائی میں بھی رکھا، اور بھائیوں کو محض اس لیے موت کے گھاٹ اتارا کہ کہیں وہ اس کے اقتدار کے سورج کو غروب نہ کردیں۔میری مراد اورنگ زیب عالمگیر سے ہے
اقتدار کے رسیا بیوروکریٹس( فوجی اور سول کی کوئی تخصیص نہیں دونوں شامل ہیں) نے اپنے بیوروکریٹسانہ جاہ جلال کے کم ہونے کے خوف سے اور اپنے غیر ملکی آقاؤں کے مفادات کی تکمیل کی خاطر بانی پاکستان قائد اعظم کو موت کے منہ میں دھکیل دینے جیسے گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرنے سے بھی گریز نہیں کیا، بعد میں ان کے رفیق کار اور ملک کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو دن دیہاڑے راولپنڈی کے کمپنی باغ میں قتل کرکے اقتدار کی ہوس کے پودے کی آبیاری کی ،اور نوزائیدہ پاکستان کو ہمیشہ کے لیے تاریکی کے ’’کھوہ‘‘ میں پھینک دیا ،سکندر مرزا نے تو فوجی بیوروکریسی کے اشتراک سے ایسے کارہائے نمایاں سرانجام دئیے کہ دنیا پاکستان جگ ہنسائی کو موجب دبنا دیا گیا، حاضر سروس جنرل ایوب خاں کو کابینہ میں بطور وزیر دفاع شامل کرکے فوج کو اقتدار میں باقاعدہ حصہ داربنا کر اپنی اسی خواہش و آرزو کی تکمیل کی گئی کہ ان کا اقتدار محفوظ ہو جائے، لیکن وزیر دفاع ایوب خاں نے کچھ ہی ہفتوں بعد اسی سکندر مرزا کو بھاری فوجی بوٹوں کے ٹھڈے مار مار کر اسلام آباد سے لندن ایسا بھجوایا کہ آج تک پاکستان واپس نہیں آ سکا بلکہ وہیں لندن کے کسی قبرستان میں ہی دفن ہے۔حیرت اور عبرت کی بات یہ ہے کہ سکندر مرزا کے احسانات کے عوض اقتدار کی پینگ کے مزے اڑانے والوں نے اس کے جسد خاکی کو پاکستان واپس لانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ سکندر مرزا تو شےہی کچھ نہیں ہم محب وطن پاکستانیوں نے تو آج تک پاکستان کا نام تجویز کرنے والے ’’ محسن پاکستان‘‘ چودھری رحمت علی کے جسد خاکی کو دیار غیر سے سرزمین پاکستان میں لاکر سپردخاک کرنے کو بھی غیرت کا مسئلہ بنا لیا ہے ۔
ایوب خاں کے بعد تو فوجی جرنیلوں نے پاکستان اور اس کے دستور و آئین کے ساتھ کھلواڑ کو شیر مادر سمجھ کر خوب اس کی دھجیاں اڑائیں، فوجی جنتا ؤں نے عدالتوں کو اپنے’’ میس‘‘ کی جھاڑوں پونچا‘‘کرنے والی ملازم بنانے میں کوئی کسر نہیں باقی رہنے دی ، سول عدالتوں کے ججز صاحبان کے بھرپور تعاون اور مدد کے باوجود فوجی جنتائیں اس سے بھی مطمئن نہیں ہوئیں اور انہوں نے مروجہ عدالتیں نظام کے متوازی فوجی عدالتوں کا نظام بھی رائج کیا جن کے ذریعہ اپنے سیاسی مخالفین کو عبرت کا نشان بنانے کی کوششیں کی گئیں،لوگوں کو کوڑے مارے گئے،تختہ دار پر چڑھایا گیا مقصد وہیں ایک تھا کہ کوئی ان کے اقتدار کو چیلنج نہ کر پائے۔
آئین و دستور میں درج حقوق و فرائض سے زائد اختیارات کے حصول کیلیے صرف بادشاہ، فوجی حکمران اور منتخب جمہوری سربراہان مملکت و حکومت کے ساتھ ہماری عدلیہ کے سربراہان بھی ان کی تقلید میں کوشاں رہے،اس حوالے سے سابق چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری اور چوہدری پرویز الہی کے درمیان ہونے والی لڑائی کا نظارہ اہل دنیا کرچکی ہے،محترم افتخار محمد چوہدری پنجاب میں اپنی دھاک بٹھانے کی غرض سے لاہور ہائی کورٹ کے اپنے ہم نام چیف جسٹس افتخار حسین چوہدری کو سپریم کورٹ لانا چاہتے تھے جو جہلم کا معروف سیاسی خاندان سے تعلق تھا اور وہ چودھری شہباز حسین ممبر قومی اسمبلی اور سابق گورنر پنجاب چوہدری الطاف حسین کے بھائی تھے، جبکہ چوہدری پرویز الہی اس خیال کے برعکس سوچتے تھے ،کیونکہ چوہدری پرویز الہی چیف جسٹس کی موجودگی میں خودکو اور اپنی پنجاب حکومت کو بہتر انداز میں کام کرتے ہوئے محسوس کرتے تھے جبکہ افتخار محمد چوہدری لاہور ہائی کورٹ میں ’’اپنا ہم خیال چیف جسٹس‘‘ تعینات کرکے پنجاب حکومت کو ڈسٹرب کرنے کی منصوبہ بندی کر چکے تھے،لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افتخار حسین چوہدری چیف جسٹس کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتے تھے بلکہ کئی فیصلوں سے افتخار محمد چوہدری ان سے نالاں تھے، جنرل مشرف نے اس لڑائی میں افتخار محمد چوہدری کی بجائے چوہدری پرویز الہی کے ساتھ کھڑے ہوئے یوں افتخار محمد چوہدری اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان اختلافات کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی وجہ تھی۔
شوکت عزیز اور جنرل پرویز مشرف کے بعد افتخار محمدچوہدری نے آصف علی زرداری اور ان کی جماعت کی حکومت کو لوہے کے چنے چبوائے،اٹھارویں ترمیم میں اعلٰی عدلیہ میں ججز تقرری کے لیے کی گئی ترامیم و اصلاحات کو اپنے مفادات کی راہ میں رکاوٹ سمجھا اور از خود نوٹس اور اپنے منظور نظر افراد کی جانب سے دائر کردہ پٹیشنز پر ان اصلاحات اور ترامیم کو خلاف آئین قرار دیکر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا، جس پرزرداری حکومت جو پہلے سے ہی چوہدری جسٹس کے ہاتھوں زخمی تھی نے ان کی منشاء و مرضی کی ترامیم کرکے انہیں رام کرنے کی کوشش کی جو ناکام ثابت ہوئی کیونکہ جسٹس چوہدری اعلٰی منصب کے خواہش مند تھے اور وہ شریفوں کی پچ پر کھیل رہے تھے۔بعدازاں آصف علی زرداری نے بھی لاہورہائی کورٹ میں اپنی مرضی کا چیف جسٹس تعینات کرنے کی سعی کی تھی لیکن جسٹس چوہدری نے انہیں ناک آوٹ کرکے اپنے ارادوں سے پسپا ہونے پر مجبور کردیا تھا۔طاقت پر قبضے کی جنگ جس کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام کے فرزندگان سے ہی ہو گیا تھا وہ جنگ آج تک جاری ہے اور لگتا تو یہی ہے کہ یہ جنگ دنیا کے خاتمے کے ساتھ ہی دم توڑے گی.

Views All Time
Views All Time
342
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   خود کش حملوں کی شرعی حیثیت اور مفتیان دین-انور عباس انور
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: