بے چارہ مرد

Print Friendly, PDF & Email

sana batoolایک سرد ،دھند لپٹا احساس ابھرا اور پورے وجود میں پھیل گیا۔ایک ایسی کہر جس میں نہ کچھ سجھائی دے نہ دکھائی دے اس نے سارے جسم کو اپنی لپٹ میں لے لیا ۔ذہن کسی تاریکی کے دبیز پردے میں ہے ۔جہاں کوئی منظر کوئی تصویر واضح دیکھائی نہیں دیتی ۔باتیں یکسر معنی کھو دیتی ہیں ۔رشتے ناطے ،تعلق سب بے ترتیبی اور ایسی ابتری کا شکار نظر آتے ہیں کہ چاہ کے بھی کوئی سرا ہاتھ نہیں آپاتا۔عجب بے کیف و بے بیزار کن کیفیت ہے ۔یہ اچانک کیا ہوا وہ ہجوم جس کا میں حصہ ہوں ۔جہاں سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی اپنی بنائی الگ الگ دنیاؤ ں میں مگن ہیں میرے لیے اجنبی کیوں ہو گیا ؟میری تمام زندگی کی تگ و دو جو صبح اٹھ کے آفس بھاگنے،سارا دن نہ چاہتے ہوئے بھی وہاں سر کھپاتے اور پھر شام کو بیوی بچوں کی پیاری اور کبھی کبھار تکلیف پہنچانے والی خواہشوں کو تکمیل پہنچانے کی کوشش کے گرد گھومتی ہے ، تکلیف دہ اس لیے نہیں کہ وہ مجھے نا گوار گزرتی ہیں بلکہ اس لیے کہ کبھی کبھار یہ میری دسترس سے باہر ہوتا کہ میں انہیں پورا کر پاؤں۔ان کی وہ ناتمام خواہشیں میری آنکھوں کا نادیدہ آنسو بن جاتی ہیں۔اس کے باوجود میں کبھی کہہ نہیں پایا کہ مجھے کتنا دکھ ہوتا ہے جب ان کی کوئی خواہش نا تمام رہ جاتی ہے۔کیونکہ میں مرد ہوں مجھے بچپن سے سیکھایا گیا ہے کہ میرا احساسات سے کوئی تعلق نہیں ۔ان کا اظہار میرے لیے ممنوع ہے کہ اس سے میری مردانگی کی شان مین فرق پڑتا ہے ۔
میں کس قدر بے بس ہوں کہ چاہ کے بھی کبھی اپنے مسئلے ،اپنی پریشانیاں اپنے جسم کے ٹکڑوں، اپنے بچوں اور اپنی محبت اپنی بیوی سے نہیں کہ سکتا کہ ایسا کرنے سے مبادہ ان کا مجھ پر مان مجھ پر قائم حوصلہ ہی نہ اٹھ جائے۔میرے دل میں اٹھنے والے طوفان ،پریشانیوں کی تاریکی صرف مجھ تک ہی محدود ہے۔میں کبھی کھل کے رو نہیں سکاکبھی کتھارسس نہیں کر پایا تو یہ تنہائی میرا مقدر کیوں نہ ہو ۔میں کون ہوں کوئی نہیں جانتا شائد میں خود بھی اس آگہی سے نابلد ہوں مجھے موقع اور فرصت ہی کب ملی کہ جان پاؤں۔میں ایک کرخت،غصیلا،رعب دار حکمران ہوں جو بات مناوانا تو جانتا ہے سمجھانا نہیں جانتا ۔
آپ جانتے ہین میں نے اپنی شریک حیات کے کام کی کبھی کھل کے تعریف نہیں کی اس لیے نہیں کہ وہ غیر ذمہ دار ہے۔بلکہ وہ تو گھریلو کام کرنے کے ساتھ ساتھ ملازمت بھی کرتی ہے کہ ہم ایک اچھی اور باسہولت زندگی گزار سکیں ۔لیکن اس سے میری پسندیدگی کے دوران ہی یہ بات مجھ پہ آشکار ہو گئی تھی کہ اگر میں نے اسے سراہا تو وہ ساتویں آسمان پہ جا پہنچے گی۔ہمارے معاشرے میں سر اٹھا کے جینے کے لیے جہاں عورت کو مرد کے نام کی ضرورت ہوتی ہے وہاں دوسری بڑی ضرورت ایک ایسے سہارے کی ہوتی ہے جو جو اس کا بوجھ اٹھاسکے۔اب ورکنگ وومن بوجھ تو نہیں ہوتی تو عیں ممکن ہے کہ میں اس کی تعریف کروں تو میری اہمیت جو اس کی نظر میں ہے ختم ہو جائے۔اس لیے میں ہر ممکن کوشش کرتا ہوں اسے یہ یقین دلانے کی کہ اس کی ملازمت محض ایک چونچلا ہے وقت گزاری کا بہانہ ہے۔یقین جانیے میں اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ وہ میرے لیے کتنی مددگارثابت ہوتی ہے۔لیکن یہ جو انا ہے نا کیا کرں اس کا ۔عقل اور محبت ایک طرف اور یہ ظالم انا سب پہ بھاری۔
میرا کردار ایک ایسے سربراہ کا ہے جو ربورٹ کی طرح اپنے فرائض کو سر انجام دیتا ہے ۔گھر میں میں کوئی خوشی ہو کوئی غم ہو میں ہر طرح کے انتظامات میں پیش پیش ہوتا ہوں خوشی کے موقع پر جب سب قہقے لگاتے ہیں ،ہنستے گاتے ہیں وہاں میں ہلکا سا مسکرانے پر اکتفا کرتا ہو لہ اگربہت گھل مل گیا تو میرا دبدبہ ہوا ہو جائے گا ۔اور غم کا موقع ایک تو یونہی سوہان روح ہوتا ہے پھر بظاہر بہادر بن کے جو مجھے خاموشی سے خون کے آنسو پینا پڑتے ہیں وہ میرے لیے کس قدر اذیت ناک ہوتے ہیں بیان سے باہر ہے۔یہ خوف کہ لوگ کیا کہیں گے مجھے نا کھل کے جینے دیتا ہے نا مرنے دیتا ہے۔لوگوں کا سامنا مجھے ہی کرنا پڑتا ہے اپنے اور اپنے خاندان کے ہر عمل کا جواب دہ میں ہی تو ہوں۔یہ بھی کیا زندگی ہے۔اور پھر عذاب یہ کہ مجھے تو میرے بچے تک سمجھنے سے قاصر ہیں انہیں تو غالبا میری محبت پہ بھی شک ہے ۔انہوں نے تو کبھی محسوس ہی نہیں کیا کہ میری ساری دوڑ دھوپ انہی کے لیے تو ہے۔وہ تو مجھے دیکھ کر ایک دم یوں خاموش ہوجاتے ہیں جیسے کوئی اجنبی بنا پوچھے گھر میں گھس آیا وہ۔اتنی اجنبیت ،ایسی سرد مہری لیکن میں اسے توڑنے کی جرات بھی نہیں کر پاتا کہ اس سے میرا اپنا خول ٹوٹ جائے گا۔
یہ سوچوں کا طوفان میری روح ،میرے دماغ اور دل کو بہا لے جائے گا ۔میں ٹوٹ کے بکھر جاؤں گا لیکن کچھ کہہ نہیں پاؤں گا کہ محبت کی بھیک نہیں چاہیے مجھے ۔کہ ایک انا پرست مرد مجھے ہر گز بیچارہ نہ سمجھیے۔لیکن ایک گزارش ہے ہو سکے تو میرا درد محسوس کیجیے خدا را مجھے انسان سمجھیے مجھے بھی ہنسنے،رونے،اپنی خوشی غم،محبت اور نفرت کا برملا اظہار کرنے دیجیے۔ مجھے کھل کے جینے دیجیے۔َِ

Views All Time
Views All Time
1041
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سمِ قاتل – پہلا حصہ

3 thoughts on “بے چارہ مرد

  • 23/06/2016 at 6:41 صبح
    Permalink

    عام طور پر ادب میں مخالف کرداروں میں فیصلے(ہار جیت) کیلئے اگر مصنف مثبت کرداروں کو اتفاقی حالات کا سہارا دیتا ہے تو یہ اُس کی اپنےکرداروں پر کمزور گرفت کو سامنے لاتا ہے۔ محترمہ ثناء بتول صاحبہ نے "مخالف کردار” کو جس طرح سے سمجھا اور "بے چارہ مرد” میں سمجھا یا ہے یقیناً "بے چاروں” کیلئے بہت سُودمند ہے۔شفقت، محبت اور حوصلہ افزائی مثبت جذبات کو جنم دیتا ہے مجھ سے "بے چارے” کو سمجھ جانا چاہیئے ورنہ ایسا نہ ہو کہ کہیں "بے چارگی” کو پار کرکے "جہالت” میں نہ پہنچوں۔ اُمید کرتا ہوں کہ مصنفہ "بے چارہ” کے بعد اگر "جاہل” پر بھی قلم کاری کرینگی تو بھی اتنی ہی بہترین ہوگی۔

    Reply
    • 26/06/2016 at 5:53 شام
      Permalink

      بنیادی مقصد سوسائٹی کی اس سوچ پر تنقید هے جو مردوں کو مصنوعی طور اتنا سخت بنا دیتی هے که وه احساسات کے اظهارکو توهین سمجھتا هے .نتیجتا وه حکمران تو بنتا هے لیکن اس کے بدلے میں وه اپنے احساسات کی قربانی دیتا هے.تو وه دلی طور پر بهت گیوینگ هونے کے باوجود اس محبت کو نهیں پا سکتا جس کا وه حقدار هے..یهاں نه تو کسی ایک صنف کو ظالم ثابت کرنے کی کوشش کی گئ هے نه هی کسی کو مظلوم کے طور پر پیش کرنے کی

      Reply
  • 01/07/2016 at 6:26 صبح
    Permalink

    کہیں پڑھا تھا کہ:
    "بچپن سے اپنے بیٹوں اور بھائیوں کو سکھایا جاتا ہے کہ "مرد روتے نہیں!!!”
    کاش انہیں یہ بھی سکھایا جائے کہ ” مرد رُلاتے بھی نہیں!!!”
    لا ریب "بے چارے” کی جھوٹی انا پر مصنفہ نے کمال قلمکاری کی ہے کیونکہ تحریر پڑھ کر مجھ قاری کو ایسا لگا کہ اس سے "رونا ” آسان ہوجاتا ہے۔ اسلئے کچھ اُمید پر کہ "نہ رُلانے” پر بھی قلمکاری ہو، کمنٹ تحریر کیا لیکن اپنے کم عِلمی اور قلمکار نہ ہونے کی وجہ سے شاید اپنے دِل کی بات دُرست طور نہ لکھ سکا۔ معذرت!
    مزید عرض ہے کہ بہت عرصہ پہلے پی ٹی وی پر ایک ایک پروگرام دیکھا جس میں ایک شاعرہ کا انٹرویو ایک خاتون لے رہی تھیں۔ دوران انٹرویو شاعرہ نے کہا، "میں چاہتی ہوں کہ عورت مرد کا طواف کرے”۔ اس پر انٹرویو کرنے والی خاتون نے کہا، "مرد کیوں عورت کا طواف نہ کرے”۔ یقیناً انٹرویو کرنے والی خاتون آج کل کے اینکرپرسنوں کی طرح پروگرام میں مصالحہ نہیں ڈال رہی تھیں بلکہ شائستگی کے ساتھ شاعرہ کے احساس کے ٹھیک اُلٹ یا شاید متوازی (مخالف نہیں) ایک اور حسین احساس کی طرف توجہ دِلانا چاہتی تھیں۔ معذرت کے ساتھ مکررعرض ہے کہ اپنے کم عِلمی اور قلمکار نہ ہونے کی وجہ سے شاید اپنے دِل کی بات دُرست طور نہ لکھ سکا اور اسلئےکمنٹ میں کچھ صنفی مسئلہ شاید کہیں سے آگیا لیکن عمداً ایسا کچھ تحریر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لئے اگر مصنفہ ذیل کو اپنے جواب سے حذف کریں تو قاری کی حوصلہ افزائی ہوگی:
    "یهاں نه تو کسی ایک صنف کو ظالم ثابت کرنے کی کوشش کی گئ هے نه هی کسی کو مظلوم کے طور پر پیش کرنے کی”
    "ادیب” اپنے احساسات کو تحریر میں لاتے ہیں اور اچھا ادیب فقط حسین احساسات کا مالِک نہیں ہوتا بلکہ وہ ان احساسات کو دوسروں تک شائستگی کے ساتھ پہنچانے کی قابلیت بھی رکھتا ہے۔ مصنفہ کی”بے چارگی” بارے احساسات اور اس پر تحریر”بے چارہ مرد” دونوں ہی خوبصورت ہیں۔
    ان موضوعات اور دیگر لاتعداد پر ُپرتشدد، مظالم اور گالم گلوچ سے بھرپُور شو ز درجنوں نجی ٹی وی چینلوں پر آئے دِن ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے شور وغل میں ہلکی پھلکی تحریریں برسات میں چلنے والی تازہ ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سی تاثیر رکھتے ہیں۔ مجھ قاری نے ایک ہلکے پھلکے انداز میں ایک شائستہ تحریر کی فرمائش کی تھیں۔اسلئے مکررعرض ہے کہ اپنے کم عِلمی اور قلمکار نہ ہونے کی وجہ سے شاید اپنے دِل کی بات دُرست طور نہ لکھ سکا۔

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: