Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ماضی اور حال کی بے چاری عورت

by جولائی 18, 2016 کالم
ماضی اور حال کی بے چاری عورت
Print Friendly, PDF & Email

akram sheikh newوقت اور حالات کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں تہذیبی اور ثقافتی روایات مانع نہیں ہوتیں ایسے ہی فیصلے ہوتے ہیں جو اجتماعی دانش کو بھی متاثر کرتے اور خود اپنے اظہارِ بیان کا راستہ بناتے ہیں۔
کھاہدا پیتا لاہے دا
باقی احمد شاہے دا
یعنی۔۔۔ جو کچھ کھا پی لیا ہے یا پھر جو کچھ کھانے پینے کو بچا کر محفوظ کر لیا ہے اسے ہی غنیمت سمجھو، باقی سب تو احمد شاہ ابدالی آئے گا اور لوٹ کر لے جائے گا۔ یاد رہے کہ احمد شاہ ابدالی نے پنجاب پر ’نو‘ حملے کیے تھے۔ ہر بار لوٹ مار ہوتی، آبادیاں ویران ہوتیں، بستیاں خاک کا ڈھیر بنائی جاتیں۔ لیکن اس وقت کے حکمران سالانہ تاوان کے ساتھ کچھ اور انعامات اور سہولتیں بھی فراہم کرتے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ۔۔۔ نادرشاہ درانی دہلی پر حملہ آور ہوا تو اس وقت کے مغل حکمران جس کی عیاشیاں عدیم المثال تھیں، نادر شاہ کو افغانستان واپس بھجوانے کے لیے کروڑوں روپے تاوان کے ساتھ ایک مغل شہزادی کا رشتہ بھی پیش کیا تھا۔ پھر حکمرانوں کی یہ روایت اس وقت دوبارہ سامنے آئی جب احمد شاہ ابدالی بھی وحشت اور بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہلی تک پہنچ گیا تھا۔ ایک اور مغل شہزادی اقتدار، حکومت اور حکمرانی پر قربان ہو گئی تھی۔ بادشاہت حکومت اور حکمرانی کی اس روایت کا تاریخی تناظر کیا ہے؟ یا پھر اس نے کس تہذیب سے جنم لیا ہے؟؟ یہ ایک شہزادی کی قربانی نہیں عورت کی مجبوری، بے بسی اور لاچار کی ہی نہیں میل شاونزم کی بدنما اور کریہہ داستان ہے جو جب بھی سماعتوں سے ٹکراتی ہے کچھ اور المیے بھی نمایاں ہو کر سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں جن سے یہ سوال ابھر کر سامنے آجاتا ہے کہ۔۔۔ اقتدار، اختیار، حکومت اور طاقت بلکہ آج کی دنیا میں دولت اور جائیداد انسانی اقدار کو کیسے پامال کرتے اور اس میں عورت کو کس طرح وسیلہ بنایا جاتا ہے۔ اپنے مفاد کے لیے ذریعہ بنایا جاتاہے۔۔۔
قرآن سے شادیاں کیوں ہوتی ہیں؟ انھیں محلات کی فصیلوں میں قید کیوں رکھا جاتا ہے؟ اس کے اردگرد مذہب اور اخلاقیات کی دیواریں کیوں کھڑی کی جاتی ہیں؟ اس کے جذبات و احساسات کے گرد روایات کے حصار بنا کر اپنی خواہشوں کا ’غلام‘ کیوں بنایا جاتا ہے؟ ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو کنیزیں اور زرخرید لونڈیاں کیوں سمجھا جاتا ہے؟ اور پھر انھیں مفادات کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے۔ حکمران، حکمرانوں کے، امیر، امیروں کے اور غریب غریبوں کے ہی تعلق دار ہوتے ہیں اسی تعلق اور رشتے میں عورت قربان ہوتی ہے۔ لیکن جب کہیں کوئی بغاوت ہوتی ہے، صدائے احتجاج بلند ہوتی ہے، تو پھر انائیں، غیرت کو جنم دیتی ہیں۔
’’ونی‘‘ بھی ہوتی ہے اور ’’کاری‘‘ بھی۔ غیرت کے نام پر مردوں کی پنچایت قتل کو جائز بھی قرار دیتی ہے اور اس کو ’’معافی‘ بھی ہوتی ہے۔ اچانک جذبات کے مشتعل ہونے کا فائدہ بھی دیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب مالِ غنیمت میں ملنے والی عورت کو لونڈی اور کنیز بنایا جا سکتا ہے۔۔۔یا پھر اس کو منڈی کی ایک شے بنا کر نیلام کیا جا سکتا ہے۔ ا س کے حسن، خوب صورتی اور بد صورتی کو معیار بنا کر قیمت لگائی جا سکتی ہے۔۔۔ تو پھر قتل کرنے یا اسے زندگی سے محروم کرنے میں کیا برائی ہے۔۔۔ یہ سارا معاشرتی نظام مرد کے ہی ہاتھ میں ہے۔۔۔ وہی بناتا بھی ہے، بگاڑتا بھی ہے لیکن اس کے ہر عمل کی سزا عورت کو ہی بھگتنا پڑتی ہے۔۔۔ آخر فیصلے کی طاقت اور اختیار عورت کے پاس کیوں نہیں۔ ایک مرد کسی جرم میں شامل نہیں ہوتا۔ وہ ’’مجرم‘‘ نہیں؟ ۔۔۔تو پھر عورت ہی ’’ونی‘‘ کیوں ہوتی ہے؟ یا
اُسے ’’کاری‘‘ قرار دے کر معاشرتی نفرت کیوں دی جاتی ہے۔
اس کو ’’کاری‘‘ کہہ کر، سوشل بائیکاٹ کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے بلکہ اس سے ملنے والی عورت، یا اس سے اظہارِ ہمدردی کرنے والی کسی خاتون کو بھی ’’شریک جرم‘‘ کیوں بنادیا جاتا ہے۔
بات تو حملہ آوروں کی جارحیت سےشروع ہوئی تھی۔ آبادیوں پر قبضہ میں ساز و سامان کی لوٹ مار تو اپنی جگہ ہے لیکن ظلم و زیادتی کا سب سے زیادہ شکار بھی عورت ہی ہوتی تھی۔ اور وہی مالِ غنیمت کا سب سے اہم حصہ بھی ہوتی تھی اور پھر حملہ آور اسے اپنے ساتھ لے جا کر اس کی بندر بانٹ بھی کرتے تھے۔ اور پھر بچا کھچا مال منڈی میں پھینک دیا جاتا تھا۔
کوئی مذہب اس میں رکاوٹ بنتا تھا نہ کوئی انسانی قدر اور اخلاقیات مانع ہوتی تھی۔
صاحبو۔۔۔! یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ بس ذرا شکل و صورت ہی تبدیل ہوئی ہے اور طریقہ کار بدلا ہے بلکہ اس میں اب تو جدید ٹیکنالوجی بھی شامل ہو گئی ہے۔ ترقی کے نام پر نئی سماج کے لیے نئی اخلاقیات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ جس کا خالق بھی مرد ہے اور محافظ بھی۔
کل بھی یہی تھا اور آج بھی وہی ہے۔ اور آیندہ بھی یہی کچھ ہو گا۔۔۔تاوقتے کہ ’’میل شاونزم‘‘ کا خاتمہ نہیں ہوتا۔

Views All Time
Views All Time
470
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   جوتے کی نوک پہ - چوہدری انور چوہان
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: