Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اختلافات میں تبدیل ہوتی سیاست

اختلافات میں تبدیل ہوتی سیاست
Print Friendly, PDF & Email

ch shabanقومی اسمبلی اس وقت سیاسی جماعتوں کے لیے جنگ کا میدان بنا ہوا ہے۔لگتا ہے کہ 1997کی طرح اب بھی خاکی وردی اور بوٹوں والوں کا خیر مقدم کررہے ہوں۔کرپشن تو بہرحال سب نے ہی کی ہے مگر خود کے گریبان میں جھانکنا کوئی نہیں چاہتا بلکہ اگلے حریف کو عوام کے سامنے ننگا کردینے کی سب سوچ رہے ہیں
سرکس کی پنڈال کی طرح جب نواز صاحب اسمبلی میں آتے ہیں تو سب یہی کہتے ہیں”شیر آیا،شیر آیا”مگر جب عمران خان صاحب آتے ہیں تو یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ”شیر کا شکاری بھی آیا”
وقت بہت ظالم ہے جو کسی کو بھی نہیں بخشتا خورشید شاہ کو نواز شریف کا منشی کہنے والے عمران خان کو بے رحم سیاست کا ایسا طمانچہ پڑا کہ خورشید شاہ کی امامت میں پیچھے زبردستی باادب ہاتھ باندھ کے کھڑا ہونا پڑا۔
تقریباًاپنے تینتیس منٹ کے بیان میں جہاں نواز صاحب نے”پانامہ لیکس”کے حوالے سے اپنی پوزیشن بحال کی وہاں ہی لفظوں کی آڑ میں عمران خان کو جلی کٹی بھی سُنا دیں
تحریک انصاف سچ میں گیڈر بھپکیاں دینے میں بڑی ماہر ہے اب خود ہی دیکھ لیں پی،ٹی،آئی والوں کا خان صاحب کی تقریر کے حوالے سے ایک ہی مُدعا تھا کہ اگر خان صاحب کی تقریر کے دوران کسی نے شور اور افرتفری پھیلانے کی کوشش کی تو ایسے میں دو جون کو ہونے والے صدر پاکستان ممنون حسین کے خطاب میں ہماری طرف سے خیر کی توقع نہ رکھی جائے
ایم کیو ایم جو کے پچھلے کئی دنوں سے مکمل طور پر پی،ٹی،آئی سے چپکی تھی کہ اچانک عمران خان صاحب کی آف شور کمپنیاں نکل آنے پر”تم کون پیا”کہہ کر اپنی راہیں جُدا کرگئی اور ادھر پیپلز پارٹی بھی خان کو کلین بولڈ کرنے میں ہاتھ دھو کے پیچھے پڑی ہوئی ہے
اصل میں سب وزیراعظم نواز شریف صاحب کو عمران خان کے ہاتھوں آوُٹ کروانا چاہ رہے تھے کہ اچانک اُنہوں نے قومی اسمبلی میں آکر اچھا سٹروک کھیلا یعنی کہ”پانامہ لیکس”کے حوالے سے عدالتی کمیشن کے زیر نگرانی ٹی،آر،او بنا کر تحقیقات کروانے کی تجویز پر عمل درآمد کیا
بہرحال اس سیریرز کا پہلا میچ ن لیگ اپنے نام کروانے میں کامیاب رہی ورنہ انہیں”ناک آوُٹ” ہونا پڑتا
سیاسی اختلافات اور کرپشن کے قصے کہانیاں سُنا کر جہاں آج ہمارے سیاست دان ایک دوسرے کو ننگا کررہے ہیں،سر پھوڑ رہے ہیں،گریبان چاک کر رہے ہیں وقت آنے پر یہی سیاستدان اور جوکر ایک دوسرےکا چھوڑا ہوا کھانا کھا کر ایک ہی برتن میں پانی پی کر اور ایک دوسرے سے گلے مل مل کر نیا سیاسی ڈرامہ تشکیل دیں گے جس کے زریعے عوام کو پاگل بنا کر مارشل لاء سے نجات حاصل کی جائے

Views All Time
Views All Time
334
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پانامہ پیپر سے اعمال نامہ پیپر تک
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: