دھوپ کو ضد ہے ہر اک پھول کی خوشبو سوکھے

Print Friendly, PDF & Email

دھوپ کو ضد ہے ہر اک پھول کی خوشبو سوکھے
گلستانوں کی دعا ہے،لبِ بد خُو سوکھے

خاک اور صبر کا رشتہ بھی عجب رشتہ ہے
لاش مٹی میں گئی آنکھ سے آنسو سوکھے

کِھلنے والوں کا مقدر کہ سرِ دشت کھلے
سوکھنے والوں کی قسمت کہ لبِ جُو سوکھے

دھوپ سے بڑھ کے تھی اس تشنہ لبی کی تبخیر
خون میں تر جو ہوئے حلق سے چاقو سوکھے

پی گیا کون سا سورج میرے تھل کا پانی
کال ہی کال ہے دھرتی پہ ہیں ہر سُو سوکھے

دور تک نہر کے چہرے پہ دراڑیں آئیں
ایک درویش نے بس اتنا کہا” تُو "سوکھے

حسبِ خیرات پہ تھی حسبِ ضرورت کی نظر
باٹ بھیگے ہوئے تھے اور ترازو سوکھے شاعر حسنین اکبر

Views All Time
Views All Time
117
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   اس راہِ شوق میں میرے ناتجربہ ِشناس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: