دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا

Print Friendly, PDF & Email

دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا
اپنا شریک درد بنائیں کسی کو کیا

ہر شخص اپنے اپنے غموں میں ہے مبتلا
زنداں میں اپنے ساتھ رلائیں کسی کو کیا

بچھڑے ہوئے وہ یار وہ چھوڑے ہوئے دیار
رہ رہ کے ہم کو یاد جو آئیں کسی کو کیا

رونے کو اپنے حال پہ تنہائی ہے بہت
اس انجمن میں خود پہ ہنسائیں کسی کو کیا

وہ بات چھیڑ جس میں جھلکتا ہو سب کا غم
یادیں کسی کی تجھ کو ستائیں کسی کو کیا

سوئے ہوئے ہیں لوگ تو ہوں گے سکون سے
ہم جاگنے کا روگ لگائیں کسی کو کیا

جالبؔ نہ آئے گا کوئی احوال پوچھنے
دیں شہر بے حساں میں صدائیں کسی کو کیا حبیب جالب

Views All Time
Views All Time
161
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کوئی انیسؔ کوئی آشنا نہیں رکھتے 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: