اپنی ہستی کا اگر حسن نمایاں ہو جائے

Print Friendly, PDF & Email

اپنی ہستی کا اگر حسن نمایاں ہو جائے

آدمی کثرت انوار سے حیراں ہو جائے

تم جو چاہو تو مرے درد کا درماں ہو جائے

ورنہ مشکل ہے کہ مشکل مری آساں ہو جائے

او نمک پاش تجھے اپنی ملاحت کی قسم

بات تو جب ہے کہ ہر زخم نمک داں ہو جائے

دینے والے تجھے دینا ہے تو اتنا دے دے

کہ مجھے شکوۂ کوتاہی  داماں ہو جائے

اس سیہ بخت کی راتیں بھی کوئی راتیں ہیں

خواب راحت بھی جسے خواب پریشاں ہو جائے

سینۂ شبلی و منصور تو پھونکا تو نے

اس طرف بھی کرم اے جنبش داماں ہو جائے

آخری سانس بنے زمزمۂ ہو اپنا

ساز مضراب فنا تار رگ جاں ہو جائے

تو جو اسرار حقیقت کہیں ظاہر کر دے

ابھی بیدمؔ رسن و دار کا ساماں ہو جائے.   شاعر بیدم شاہ وارثی، انتخاب عظمیٰ حسینی

Views All Time
Views All Time
135
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   حسین ع کا ہے پسر اور حسن ع کی زینت ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: