Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

دل سوزیاں

by جون 4, 2016 بلاگ
دل سوزیاں
Print Friendly, PDF & Email

asad ali khanایک مشترکہ لائحہ عمل طے پا سکتا ہے. مخلص مذہب پسندوں اور مسلم جدت پسندوں کے درمیان۔ ایسا ماحول بن رہا ہے کہ بات کہی جا رہی اور سنی جا رہی ہے۔ یہ فرق لازماََ ملحوظ رکھنا پڑے گا کہ ملا کی نااہلیت کی بات کرنے والا اسلام مخالف نہیں ہے اور اسلام پسند ذہن رکھنے والا آفاقیتِ مذہب سے منکر نہیں ہے۔
یہاں کوئی دقیق نکتہ زیرِ بحث نہیں ہے، صرف چند بنیادی باتوں کی طرف توجہ مبذول کروانی ہے۔
صاحبو مشترکات کا دریا چھوڑ کر دانشوری کی چھلنی لے کر اختلافات کے تنکے اکٹھے کرو گے تو نقصان کا اندیشہ ہے۔ آپ جو بھی ہو جس فکرو خیال کا ترجیحاً انتخاب کرتے ہو کرو، خوب ہے۔ اور آپ اپنے برحق ہونے کا اعلان کرتے ہو ، خوب تر ہے۔ کرنا بھی چاہئیے لیکن سوال بڑا اہم ہے کہ کیا جو آپ کے معیارِ علم و دانش کے مطابق باطل ٹھہرتا ہے اس کے ساتھ رویہ کیا رکھنا ہے۔ چلیں، یوں کہہ لیجیے کہ موجود اختلاف کو اب کیسے برتا جائے کہ خوفِ فسادِ خلق نہ رہے اور ترویجِ امن و آشتی کی کاوشیں مستحکم ہوں۔
حضور گرامی مرتبت کی مثال لیجئے کیا کبھی انہوں نے باطل پرستوں کا تذکرہ کرتے ہوئے نازیبا زبان استعمال کی ؟
جن کا کفرو شرک کسی پردے کے پیچھے نہاں نہ تھا ان کا غائبانہ ذکر بھی کراہت اور نفرت سے کیا ہو؟
ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کی اصلاح و ہدایت کیلئے دعائیں فرماتے رہے ۔
یہ ان کیلئے جن کا کفر و شرک اعلانیہ تھا۔ اور وہ جو منافقین کا گروہ تھا ان کو ہمیشہ نظرانداز فرمایا کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کے بارے بدگمان رہتا ہے۔
واپس اپنے موضوع پر آنے سے پہلے دورِ حاضر سے ایک مثال سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ہے۔
جنہوں نے خود کو اپنے کام جسے اپنے تئیں حق جانا اس کے اظہار تک محدود رکھا۔ افکار کی بات کی ، نظریات کو پرکھا اور اپنا تجزیہ پیش کیا جس سے تب بھی اختلاف کیا جاتا رہا اور اب بھی لوگ کرتے ہیں۔ مگر ان کے سارے علمی کام کو ایک طرف رکھ دیں تب بھی ایسی خوبی کم ہی میسر ہے کہ موصوف کسی ذاتی اور اختلافی بحث سے بچ کے گزر گئے۔ فتاویٰ سے پرہیز کر کے رواداری اور مکالمے کی روایت کو مضبوط کر گئے۔ غلام احمد پرویز سے مشہور مکالمہ ”سنت کی آئینی حیثیت” اس کی مثال ہے۔
آپ کوئی اور مثال بھی پیش کر سکتے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ جب ہم مسلمانوں کے معاشرے میں رہتے ہوئے دین، اسلام، حق، باطل، مذہب و فقہ کی بات کرتے ہیں تو کسی دوسرے کے لیے گنجائش کیوں نہیں چھوڑتے۔ اللہ اور رسول کو اتنا محدود کر لیتے ہیں کہ ان بندھنوں سے نکل کر ہی سانس آتی ہے۔
آپ کے خیال میں میری سوچ باطل ہے ، سو ہے مگر اب کیا مجھے مار دو گے یا میرا سماجی مقاطعہ کرنا ہے ؟
کیا پیغمبر ﷺ کی وراثت کے امیں اس مزاج مبارک سے نا آشنا ہیں جس کے مطابق میرے ساتھ ہمدری کا اظہار بنتا ہے۔ میری اصلاح کی فکر اور اخلاص کے ساتھ میرے لئے دعا کرنی چاہئیے یا تلخ لہجے میری مدارات فرمائیں گے ۔
حضور، بات کو سمیٹتے ہیں ، آپ اپنی کہیں، میری سنیں۔ ضروری اور اہم باتوں پر موجود اتفاق کو بروئے کار لائیں اور بقائے باہمی کے روشن پہلوؤں سے لطف اٹھائیں کیونکہ ایک مشترکہ لائحہ عمل طے پا سکتا ہے۔ مخلص مذہب پسندوں اور مسلم جدت پسندوں کے درمیان اب ایسا ماحول بن رہا ہے کہ بات کہی جا رہی اور سنی جا رہی ہے۔ یہ فرق لازماََ ملحوظ رکھنا پڑے گا کہ ملا کی نا اہلیت کی بات کرنے والا اسلام مخالف نہیں ہے اور اسلام پسند ذہن رکھنے والا آفاقیتِ مذہب سے منکر نہیں ہے۔

Views All Time
Views All Time
671
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   زنا (بالجبر یا بالرضا) اور فقہی یک چشمی
Previous
Next

One commentcomments

  1. Very well written Asad Ali Khan.nit only i agree with content,but its a treat ti read,goid urdu, whuch is getting extinct. Keep writing. Stay blessed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: