تپسیا

Print Friendly, PDF & Email

tapasiaتحریر:اقبال حسن خان ۔اسلام آباد، پاکستان
منجھلی بوا نے ہر کوشش کر لی مگر منظور بھائی نے میٹرک کر کے نہ دیا ۔ ہماری تینوں پھوپھیاں بوا کہلاتی تھیں۔بڑی، منجھلی اور چھوٹی۔بڑی بے چاری بے اولاد تھیں۔چھوٹی کے چار لڑکے تھے اور چاروں ہی خوب لائق فائق۔کرتے کراتے کیا تھے یہ تو پتہ نہیں مگر چھوٹی بوا کے گھر میں روپے پیسے کی خوب ریل پیل رہتی تھی۔ وہ ہمارے خاندان کی واحد فرد تھیں جو جہاز میں لاہور سے راولپنڈی آیا کرتی تھیں اور ہم سب بہن بھائی رات گئے تک ان کے گرد بیٹھ کے جہاز کے سفر کے قصے سنا کرتے تھے۔مگر ان قصوں کے تان بیچاری منجھلی بوا پہ ہی ختم ہوتی تھی۔چھوٹی بوا رات کاآخری پان منہ میں رکھتیں، چند لمحوں تک منہ چلاتیں اور حسرت سے کہتیں۔
’’دیکھ لو ۔مقدر کی بات ہے۔آپا کا ایک ہی انڈہ اور وہ بھی گندہ۔میں نے تو دس دفعہ کہا جاوید کے پاس دبئی بھجوائے دیتی ہوں مگر وہ جگر کے ٹکڑے کو آنکھوں سے دُور ہی نہیں کرنا چاہتیں تو کوئی کیا کر سکتا ہے؟‘‘۔
یہ تو سب جانتے تھے کہ منجھلی بوا منظور بھائی پہ جان چھڑکتی تھیں اور اُن کی نا لائقیوں کے باجود اُنہیں آنکھ سے اوجھل نہیں ہونےدیتی تھیں۔جب تعلیم سے جی اُچاٹ دیکھا تو ہمارے پھوپھا نے اُنہیں شہر بھر میں کوئی دس جگہ کام سیکھنے کو بٹھایا مگر منظور بھائی کبھی کام میں نقص نکال کے گھر لوٹ آتے تھے اور کبھی سکھانے والے میں۔پھوپھا ریٹائر ہونے والے تھے۔بس دو ڈھائی برس کی بات تھی۔منجھلی بوا کو یہ سوچ کے بڑی تکلیف ہوتی تھی کہ منظور بھائی کے ساتھ کے سبھی لڑکوں کی شادیاں ہو گئی تھیں اور دو چار تو بال بچوں والے بھی ہو گئے تھے۔منظور بھائی لنڈورے یوں گھوم رہے تھے کہ بھئی ہاتھ میں ہنر تھا نہ تعلیم تو ایسے میں کون اندھا تھا جو اُنہیں بیٹی دیتا؟بس اسی آخری جملے پہ چھوٹی بوا بات ختم کرتیں اور محفل برخاست ہو جایا کرتی۔تعلیم تھی یا نہیں تھی، ہنرتھا یا نہیں تھا مگر ایک بات تھی ۔ منظور بھائی جیسا خوبصورت اور کڑیل جوان ہمارے خاندان میں اور کوئی نہیں تھا اور اس پہ طبیعت ایسی پائی تھی کہ بزرگوں میں بیٹھے ہوں یا بچوں میں سبھی کو خوش کرکے اُٹھتے تھے۔لباس پہننے کا قرینہ بھی خوب جانتے تھے اور گاتے بھی بہت خوب تھے۔خاندان بھر اُن کی غیبت میں لگا رہتا تھا مگر وہ ہم بچوں میں بہت مقبول تھے اور سچی بات تو یہ ہے کہ جس روز وہ ہمارے گھر آتے تھے، خوب دھما چوکڑی مچی رہتی تھی۔اماں کو تو خیر ابا کے خاندان کا کوئی بھی فرد پسند نہیں تھا تو منظور بھائی کیسے ہوتے مگر ابا اُن سے خوب ہنستے بولتے تھے اور کبھی کبھی لگتا تھا جیسے وہ ماموں بھانجا نہ ہوں، دوست ہوں۔منظور بھائی کی انگریزی کی استعداد بس اتنی ہی تھی جتنی میٹرک میں دو چار دفعہ فیل ہونے والے کسی شخص کی ہو سکتی تھی مگر وہ انگریزی فلموں کے ڈرامائی سین اپنی جناتی انگریزی میں نقل کرتے تو ہنستے ہنستے سب کا برا حال ہو جاتا۔وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔سنا تھا اب وہ اکتیس برس کے ہو چلے تھے۔یہ بھی عجیب اتفاق تھا کہ ہمارے پھوپھا ریٹائرمنٹ کے اگلے ہی روز دل کے دورے سے جاں بر نہ ہوئے۔منجھلی بوا کو پھوپھا کی آدھی پنشن ملنے لگی۔تنگی ترشی تو ضرور ہوئی ہوگی کیونکہ آمدن آدھی رہ گئی تھی مگر منجھلی بوا بڑی سلیقہ مند تھیں۔کسی کو پتہ ہی نہ چلنے دیا اور ماں بیٹا بظاہر ویسی ہی زندگی گزارتے رہے جیسی کہ پھوپھا کی زندگی میں تھی۔کبھی جاؤ تو دو تین قسم کے سالن اور کھانے کے بعد میٹھا۔عید بقرعید پر ہم بچوں کی عیدی۔میری سب سے چھوٹی بہن کی شادی ہوئی تو منجھلی بوا نے سونے کا ایک زیور بھی دیا۔شاید اچھے وقتوں کی کوئی نشانی رکھ چھوڑی ہو جو بھتیجی کو دے دی تھی۔پھر منجھلی بوا بھی نمونیہ کے ہاتھوں چٹ پٹ ہو گئیں اور منظور بھائی اکیلے رہ گئے۔اُن کے پاس کچھ نہیں تھا مگر باپ سے ترکے میں ملا ہوا گھر تو تھا ہی چنانچہ اُسے کرائے پر اُٹھا دیا اور گلی کی طرف کھلنے والا ایک کمرہ اپنے لئے رکھ لیا۔چند روز ماں کے سوگ میں گزارے اور پھر وہی ہنسنا بولنا۔دن بھر شہر بھر میں دوستوں یاروں سے ملنے واہی تباہی گھومتے اور مغرب کے بعد واپسی ہوتی۔وہ عجیب طرح کی زندگی گزار رہے تھے کہ حال کی فکر تھی نہ مستقبل کی پروا۔شاید کرایہ اچھا مل جاتا ہوگا تبھی تو اُن کا لباس اب بھی بے داغ ہوتا تھا اور سگریٹ بھی بڑھیا پیا کرتے تھے۔برس گزر گئے۔ہم سبھی بہن بھائیوں کی شادیاں ہو گئیں۔سبھی اِدھر اُدھر چلے گئے۔اب آبائی گھر میں میں اپنی بیوی بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔منظور بھائی اب بھی وہی اتوار کے اتوار آتے۔میرے بچوں کے لئے مٹھائی پھل لاتے، فلموں کی نقلیں دکھاتے اور گانے سناتے۔میری بیوی سے انہوں نے خوب دوستی گانٹھ رکھی تھی اور وہ اُن کی بہت خاطر داری کرتی تھی۔اب وہ چوالیس برس کے ہو چلے تھے۔کنپٹیاں تو بہت پہلے
سے سفید دکھائی دیتی تھیں، اب بال بھی خاصے کھچڑی ہو چلے تھے۔میں کبھی کبھی سوچتا منظور بھائی نے آخر اپنے لئے ایسی زندگی کیوں چُنی تھی۔وہ اکلوتے تھے۔ذرا سی ہمت کرتے تو ان کے ابا انہیں اعلیٰ ترین تعلیم دلوا سکتے تھے مگر وہ اس معاملے میں بد نصیب ہی رہے۔
پھر ہمارے منجھلی بوا کے لاڈ پیار نے اُنہیں کہیں کا نہ رکھا۔اُس دن اتوار کی چھٹی تھی اور میں سو رہا تھا کہ کسی نے بتایا کہ منظور بھائی کو دل کا دورہ پڑا تھا اور اُنہیں ہسپتال لے گئے تھے۔میں بھاگم بھاگ ہسپتال پہنچا۔وہ ہشاش بشاش تھے اور ابھی تک ماننے کو تیار نہیں تھے کہ اُنہیں دل کا دورہ پڑا تھا۔اُنہوں نے مجھ سےکہا۔
’’کچھ نہیں یار۔رات کہیں سے نہاری کھا کے آیا تھا۔گیس ہو گئی تھی مجھے۔ڈاکٹر بکواس کرتے ہیں‘‘۔ لیکن ڈاکٹر بکواس نہیں کرتےتھے۔بارہ دنوں بعد اُنہیں ایک دورہ اور پڑا اور منظور بھائی ہم میں نہیں رہے۔ہنستا، کھیلتا،کھلنڈرا چہرہ ہماری نظروں سے ہمیشہ کو چھپ گیا۔
پھر پتہ نہیں کہاں کہاں سے اُن کے ایسے رشتے دار سامنے آنے لگے جنہیں میں نے عمر بھر نہیں دیکھا تھا۔یہ سب مکان پر قبضہ کرنے آئے تھے۔منظور بھائی نے کوئی وصیت بھی تو نہیں چھوڑی تھی کہ اس قضیہ کا کوئی فیصلہ ہوتا۔ایک آدھ مرتبہ سرپھٹول بھی ہوئی اور حکومت نے کوئی فیصلہ ہونے تک مکان سر بمہر کروا دیا۔
اُس شام بلا کی ٹھنڈ تھی۔دن بھر بارش ہوئی تھی اور سرد ہوا بدن کاٹے ڈال رہی تھی۔نوکر نے بتایا کہ کوئی خاتون مجھ سے ملنا چاہتی تھیں۔اندر بلوایا اور بٹھایا۔جوانی میں وہ یقیناً بہت خوبصورت رہی ہوں گی مگر ڈھلتی عمر بھی ان میں ایک خاص طرح کی کشش تھی۔وہ ہمارے لئے اجنبی تھیں۔جب نوکر چائے وائے رکھ کر چلا گیا تو اُنہوں نے کہا۔
’’میں منظور کے گھر کے سلسلے میں آپ لوگوں سے ملنے آئی ہوں۔منظور خاندان بھر میں آپ لوگوں کی ہی تعریف کیا کرتے تھے۔
میں ملک سے باہر تھی۔کل ہی واپسی ہوئی ہے۔مجھے ان کے انتقال کی خبر مہینہ بھر پہلے مل گئی تھی مگر کوشش کے باوجود نہ آسکی،،۔
پھر انہوں نے بیگ سے کچھ کاغذات نکالے اور بولیں۔
’’یہ ان کے گھر کے کاغذات ہیں۔یہ گھر اُنہوں نے اپنی زندگی میں میرے نام کر دیا تھا لیکن اب مجھے اس کی ضرورت نہیں۔
میں نے مناسب سمجھا کہ یہ آپ کو مل جائے۔مجھے کسی مشترکہ دوست سے یہ بھی پتہ چلا تھا کہ گھر پر کوئی جھگڑا چل رہا ہے اور حکومت نے اُسے سر بمہر کروا دیا ہے۔بہر حال مجھے آپ کو یہ امانت پہنچانا تھی۔مجھے اجازت ہے؟‘‘۔
میں اور میری بیوی ایسی عورت کو جسے ہم پہلی بار دیکھ رہے تھے اور جس کی منظور بھائی سے اس قدر شناسائی تھی کہ وہ اپنا گھر تک اس کے نام کر چکے تھے، بھلا اُس کا اُن سے تعلق پوچھے بغیر کیسے جانے دیتے۔چنانچہ میں نے کہا۔
’’وہ تو سب ٹھیک ہے لیکن کیا آپ یہ بتانا پسند کریں گی کہ آپ کا منظور بھائی سے ایسا کیا تعلق تھا؟‘‘۔
شاید اُنہیں اس سوال کی توقع تھی اس لئے اُّنہوں نے برا مانے بغیر کہا۔
’’برسوں کا تعلق تھا۔منظور مجھے پسند کرتے تھے اور مجھ سے شادی کرنا چاہتے تھے۔میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔ایک سکول میں پڑھاتی تھی۔سچ تو یہ ہے کہ میں بھی اُنہیں بہت پسند کرتی تھی لیکن مجھ پر بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں تھیں۔گھر کا خرچ پورا کرنا ایک عذاب تھا تو منظور نے عمر بھر کام کیا اور میرے بھائیوں کی تعلیم اور بہنوں کی شادیوں کا خرچ اُٹھایا۔طے یہ ہوا تھا کہ ان ذمہ داریوں کے بعد ہم شادی کر لیں گے لیکن مجھ سے چھوٹی بہن کا انتقال ہوگیا۔وہ کسی بیرونی ملک میں تھی۔خاندان والے مجھ پر دباؤ ڈالنے لگے کہ میں بہنوئی سے شادی کر لوں۔میں ایسی کبھی نہیں کر سکتی تھی۔مجھے اُس تپسیا کا اندازہ تھا جو منظور سے مجھے پانے کو برسوں کاٹی تھی۔اُنہوں نے دنیا کے سامنے ایک بے روزگار شخص کی سی زندگی گزاری لیکن وہ موٹریں بنانے والے ایک کارخانے میں میکینک تھے۔یہ بات انہوں نے ہمیشہ راز رکھی۔وہ صبح گھر سے نکلتے تھے رشتہ دار اور محلے والے سمجھتے کہیں آوارہ گردی کرنے گئے ہوں گے جبکہ وہ کام پر جایا کرتے تھے‘‘۔
خاتون سانس لینے کو رکیں اور پھیکی مسکراہٹ سے بولیں۔
’’میں نے ساری مشکل منظور کے سامنے رکھی تو وہ ہنس کر بولے‘‘۔
ارے یار۔ہم نے کوئی تمہارا جسم پانے کو تم سے محبت تھوڑی کی تھی۔تمہاری بہن کے بچوں کو تمہاری ضرورت ہے۔تمہیں ضرور
یہ شادی کر لینی چاہئے‘‘۔
وہ سر جھکا کر کچھ سوچتی رہیں اور بولیں۔
’’بس اسی کے بعد اُنہیں دل کا پہلا دورہ پڑا تھا۔اچھا میں چلتی ہوں۔میں ابھی ایک آدھ ہفتہ یہاں ہوں۔میرا نمبر انہی کاغذات میں آپ کو مل جائے گا۔کوئی مشکل ہو تو مجھے فون کر لیں‘‘۔
اُن کے جانے کے بعد میں اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔وہ سرجھکائے رو رہی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:   برگ کاہو کے کھیت

بشکریہ محترم وحید قمر ، عالمی افسانہ فورم

Views All Time
Views All Time
443
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: