Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پٹوارکہانی اورچندسیاسی لطائف

پٹوارکہانی اورچندسیاسی لطائف
Print Friendly, PDF & Email

atif iqbal chکافی دنوں سے سوچ رہا تھا کچھ لکھوں لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے کچھ زیادہ نہیں لکھ پایا، پٹواری کا ٹائٹل پاکستان میں بدعنوانی کا نشان سمجھا جاتا ہے، ایک مخصوص سیاسی جماعت کے سپورٹرز کو بھی پٹواری کے لقب سے جانا جاتا ہے،چند پٹوارکہانیاں اور لطائف حاضر خدمت ہیں۔
پہلی کہانی:
"خلائی مخلوق کے دوسائنسدان زمین پرپائے جانے والی مخلوق بالخصوص ‘پٹواری’ پر ریسرچ کررہے تھے آخر انہوں نے اپنے تحقیقاتی مکالے کو مکمل کرکے جو نتیجہ اخذ کیااس کے چند نکات درج ذیل ہیں۔
زمین پر ایک عجیب مخلوق پٹواری رہتی ہے جو کہ کھلی آنکھوں سے اپنی لیڈر شپ کو وطن عزیز کی دولت اور وسائل کو کھلم کھلا لوٹتے ہوئے دیکھتی ہے اورحیرت انگیز طور پر اسی لیڈر شپ سے اپنے حالات بدلنے کی اُمید لگائے رکھتی ہے، اس مخلوق کیلئےشہریوں کی زندگی،صحت اورتعلیم کیلئے کوئی فکری سوچ موجود نہیں البتہ یہ دس،بیس روپے میں سکول کالج سے ‘پھٹا’ مار کر میٹرو بس کے ‘چوٹے’ لینے کو افضل سمجھتی ہے، اس مخلوق کا سربراہ اپنے خطہ میں ایک بھی ایسا ہسپتال نہیں بنا سکا جہاں اُس کا اپنا علاج ہو سکے، اس مخلوق میں شامل افراد لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کر کے اپنے آپ کو زمین پر پائے جانے والی ایک خونخوار درندہ صفت مخلوق ‘شیر’ کے نام سےجانے جانا پسند کرتی ہے اور اس مخلوق کی چھیڑ دو الفاظ ہیں ‘رسیداں کڈو’
دوسری کہانی:
میاں صاحب نے اپنی نئی سپورٹس کارجاتی عمرہ محل کے باہر روکی ۔ ابھی کار کا دروازہ کھولا ہی تھا کہ ایک ٹریکٹرٹرالی نے ایسی زور کی ٹکر ماری کہ کار کا دروازہ دور جا گرا۔ پولیس انسپکٹرموقعہ پر پہنچا تو میاں صاحب چیخ‌ چیخ کر کہنے لگے ،” اتنی قیمتی کار کا یہ حشرہوگیا ۔ میں نے ابھی کل ہی نئی کار خریدی تھی اتنی بھاری رقم برباد ہوگئی۔ اس کی کتنی ہی مرمت کیوں نہ ہو جائے مگر یہ پہلے جیسی نہیں‌ ہو سکتی”۔
انسپکٹر نے کہا ۔ میں نے آب جیسا آدمی پہلے نہیں دیکھا آپ کو کار کے نقصان کی فکر ہے یہ احساس تک نہیں کہ آپ کا پورا ہاتھ کلائی سے غائب ہے۔
میاں صاحب نے ایک نظر اپنے بازو پر ڈالی اور بے ساختہ بولے۔
اُف میرے خدا!
اس کا مطلب ہے میری نئی رولیکس گھڑی بھی گئی۔
تیسری کہانی:
پٹواری سٹی سکین رپورٹ ڈاکٹر کے پاس لیکرگیا
ڈاکٹر: تمہارے دماغ میں ٹیومر ہے۔
پٹواری: خوشی سے اُچھلتے ہوئے چلایا ‘ نئی ریساں شیر دیاں’
ڈاکٹر: آپ کا مرض بہت پیچیدہ ہے اور علاج بھی بہت مہنگا، پھرآپ خوش کیوں ہو رہے ہیں؟
پٹواری: جناب میں خوش اس لئے ہو رہا ہوں کہ اس رپورٹ سے ثابت ہو گیا کہ میرے پاس بھی ‘دماغ’ موجود ہے!!
چوتھی کہانی:
سیٹھی صاحب ہر وقت بولتے رہتے تھے غلیل بناؤں گا اور چڑیا کوضرورماروں گا۔
ایک دن سیٹھی صاحب کے والد ان کو پاگلوں کے ڈاکٹر کے پاس لے گئے اور وہاں سے ان کا کامیاب علاج ہو گیا ۔
ڈاکٹر : سیٹھی صاحب، اب کیا کرو گے ؟
سیٹھی : صحافت میں اچھی نوکری ڈھونڈوں گا ، گھر بساؤں گا۔
ڈاکٹر : بہت اچھے ! پھر کیا کرو گے ؟
سیٹھی : بچّوں کو اچھے اسکول بھیجوں گا ،ان کا برتھ ڈے مناؤں گا ، نیکر اور شرٹ گفٹ آئیگی ۔
ڈاکٹر : گڈ گڈ ! پھر
سیٹھی : ان کی نیکر سے لاسٹک نکالوں گا ، پھر غلیل بناؤں گا اور چڑیا کو ماروں گا !!!
پانچویں کہانی:
ایک دفعہ ایک سیاستدان اپنے ڈرائیور کےساتھ سیالکوٹ کے دیہاتی علاقے میں ایک تقریب میں شرکت کیلئے جا رہے تھے اور پچھلی سیٹ پر بیٹھے ڈرائیور کو جگتیں بھی مارتے جارہے تھے جس کی وجہ سے ڈرائیور کا دھیان ڈرائیونگ میں کم ہی تھا، گاوں کے نزدیک پہنچے تو سڑک کے درمیان ایک دم گدھا سامنے آیا جو کہ کار کےساتھ ٹکرا کر مر گیا، گاڑی کا بھی ٹھیک ٹھاک نقصان ہوگیا۔ سیاستدان نے ڈرائیورسے کہا کہ یہاں سے پیدل گاؤں جاؤ اور مدد لےکر آؤ تاکہ گاڑی ٹھیک ہوسکے، ڈرائیور گاؤں کی طرف چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد جب واپس اکیلا آیا تواُس کے گلے میں پھولوں اورموتیوں کے ہار تھے، سیاستدان نے حیران ہو کر پوچھا کہ آخر مدد کدھر ہے اورگاوں والوں نے تمہیں اتنی عزت کیسے دی؟
ڈرائیور بولا : سر میں نے تو گاوں والوں کو صرف اتنا ہی کہا تھا کہ آپ کی کار کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے اور’گدھا مرگیاہے۔’
چھٹی کہانی:
ایک دن ماروی کی ایک سہیلی ماروی کے پاس آئی اور کہا کہ آپ کا یہ والا قیمتی ہیروں کا ہار مجھے بہت پسند ہے، میں ایک شادی اٹینڈ کرکے پرسوں آپ کو لوٹا دوں گی۔
ماروی نے ہیروں کا ہار سہیلی کو تھما دیا۔ دو دن گزرنے کے بعد سہیلی ماروی سے ملنے آئی تو ماروی نے استفسار کیا کہ وہ میرا قیمتی ہار کدھر ہے؟
سہیلی نے ایک بڑے پلاسٹک بیگ سے پلاسٹک کا لوٹا نکال کر ماروی کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔
ماروی کنفیوز الجھے تاثرات کےساتھ،” یہ کیا ہے”؟
سہیلی بولی،” آپ کو کہا تو تھا کہ پرسوں آپ کو’لوٹا’ دوں گی”۔

Views All Time
Views All Time
706
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: