Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پشتون تحفظ مومنٹ-چند مزید معروضات

by اپریل 16, 2018 کالم
پشتون تحفظ مومنٹ-چند مزید معروضات
Print Friendly, PDF & Email

آگے بڑھنے سے قبل دو باتیں عرض کئے دیتا ہوں اولاً یہ کہ پشتون تحفظ مومنٹ کے حوالے سے لکھی گئی تحریر دستیاب معلومات پر تھی اس لئے وضاحت کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔وجہ یہی ہے کہ دستیاب معلومات پر چند سوالات اٹھائے تھے مگر پشتون ولی کی آڑ میں سستی نسل پرستی کے عاشقوں نے جو چاند ماری فرمائی وہ ان کا ظرف ہے۔ ہر آدمی اپنے ظرف کے ساتھ جیتا ہے۔ بعض اتاولے دور کی کوڑی لائے کہ مضمون نگار ایجنسیوں کا دلال ہے۔ سبحان اللہ، زندگی گزر گئی اپنی فہم کی بنیاد پر بات کرتے ہوئے۔ ان اتاولوں میں سے ان گنت ابھی تخلیق بھی نہیں ہوئے ہوں گے جب ہم ایسے طالب علم امریکی ڈالروں کی جھنکار پر ہوئے افغان جہاد کی ڈنکے کی چوٹ پر مخالفت کرتے ہوئے کہہ لکھ رہے تھے جہاد کے نام پر پڑوسی ملک میں جو آگ لگائی جا رہی ہے یہ ایک دن دامن جلا دے گی۔ تب ہمارے اسلام پسند، ڈالروں کی جھنکار پر ہوتے جہاد پر اعتراض کرنے والوں کو سوویت یونین کا پالتو کہا کرتے تھے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ایک زمین زادے کی حثیت سے انڈس ویلی(موجودہ پاکستان) کی قدیم اقوام ہمیشہ قابلی احترام رہیں اور رہیں گی۔

فہم کا اختلاف تو دو بھائیوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ریاستی اداروں کی سرپرستی میں جب طالبان اور اس طرح کی دوسری عسکری جماعتیں معرض وجود میں آئی تھیں تو تب بھی اطلاعات کے اداروں اور ان سے منسلک افراد پر دوطرفہ دباؤ تھا۔ آج پشتون تحفظ مومنٹ کے پھلنے پھولنے کے مرحلہ میں بھی دو طرفہ دباؤ ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے یا ہم کسی نئی بدحالی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔مثلاًپرنٹ میڈیا میں پی ٹی ایم کے حق میں مضامین پر ایک طرح کی سنسر شپ ہے اور تنقیدی مضامین پر دوسری طرح کی۔ یعنی ایک طرف ریاستی اداروں کا دباؤ ہے اور دوسری طرف سے ان عناصر اور قوتوں کا جو کل تک کالعدم تنظیمو ں کے ساتھ کھڑے تھے۔

پی ٹی ایم کے حوالے سے لکھے گئے مضمون میں منظورپشتین اور علی وزیر سے کچھ سوالات کئے تھے مکر ر عرض ہے وہ سوال تھے الزام نہیں۔ ثانیاً یہ کہ اس عامل صحافی کو اس بات کا علم ہے کہ علی وزیر کے بھائی سمیت خاندان کے 17افراد طالبان کے ہاتھوں شہید ہوئے تب طالبان ان کے خاندان پر فوج کا جاسوس ہونے کا الزام لگاتے تھے۔ قتل کئے گئے افراد کی لاشیں لٹکائی بھی یہ کہہ کر گئیں کہ یہ ہے جاسوں کا انجام، علی وزیر کے خاندانی باغ کو طالبان نے زہر یلے کیمیکل کے ذریعہ آگ لگائی ۔ ایک مرحلہ پر جب فوج اور قبائل کے درمیان معاہدہ کی وجہ سے علی وزیر کی مارکیٹ فوجی حکام کے حکم پر پولیٹکل عملے کی نگرانی میں مسمار کی گئی تو اس کا پس منظر یہ تھا کہ ایک میجر کے قتل کا الزام وزیر قبائل پر لگا اور معاہدہ پر عمل کے دوران دیگر وزیروں کی طرح علی وزیر بھی متاثر ہوئے۔ فرد کے انفرادی جرم کی سزا اس کے خاندان یا قبیلے کو دینا کہاں کا انصاف ہے؟۔سادہ جواب یہ کہ قبائلی علاقوں میں مسلط کالے قوانین کے معاہدہ جبر کے تحت ان کی مارکیٹ مسمار ہوئی لیکن علی وزیر کی توپوں کا رُخ صرف فوج کی طرف ہے وہ طالبان کے گھناؤنے جرائم پر بات کیوں نہیں کرتے۔ ’’کالیا‘‘ کے طور پر وہ فوج کے بارے میں ہی اشتعال بھری گفتگو کیوں کرتے ہیں؟۔مگر عرض ہے جرنیل شاہی کے تجربات اور شوق تھانیداری نے اس ملک کو زخموں اور لاشوں کے سوا کچھ نہیں دیا لیکن لاشیں تو طالبان، لشکرجھنگوئی اور ان ازبک و تاجک و عرب مجاہدین نے بھی گرائیں جو پاکستانی ادارے اور سی آئی اے کے ایک معاہدہ کے تحت 1990ء کی دہائی میں قبائلی علاقوں میں لابسائے گئے تھے اور ان میں بہت ساروں کی مقامی خاندانوں سے رشتہ داریاں بھی قائم ہوئیں۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب ازبکوں، تاجکوں اور عرب مجاہدین کی قائم کردہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ ہوا تو مجھ سمیت چند دوسرے صحافیوں نے حکومت وقت سے عرض کیا تھا کہ کارروائی سے زیادہ بہتر با اثر لوگوں کے ذریعے مزاکرات کار آمد ہونگے۔ براہ راست فوجی کارروائی کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ سابق مجاہدین کے مقامی رشتہ داربھی متاثر ہوں گے۔ اس سے ایک نئی جنگ کا دروازہ کھلے گا۔ بدقسمتی سے طاقت کے نشے میں چور فوجی آمر اور اس کے ہمنواؤں نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور وہی ہوا جسکا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ بجاہے کہ طالبان کے نام سے جن عسکریت پسندوں نے جو مشترکہ امارت قائم کی یہ وہی لوگ تھے جنہیں افغان جہاد کے دنوں میں اور پھر ڈاکٹر نجیب اللہ کے اقتدار کے خاتمے کیلئے گود لیا گیا تھا۔9/11کے بعد پاکستان نے اپنی پالیسی تبدیل کرتے وقت یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی تھی کہ اپنے ہی لاڈلے جب مخالف فریق کے طور پر میدان میں اتریں گے تو کیاہوگا؟۔

یہ بھی پڑھئے:   کیا تبدیلی جنم دے گی یہ دھرتی؟

جونہی مشرف حکومت نے سابق مجاہدین کے خلاف کارروائی شروع کی ایک خاص فہم کے دینی مدارس و مراکز ان عسکریت پسندوں کے سہولت کار بن گئے۔ جامعہ بنوریہ سے دارالعلوم دارالقرآن راولپنڈی اور لال مسجد اسلام آباد تک ہر جگہ یہی کہا گیا کہ پاکستان نے مجاہدین سے غداری کی ہے۔ اس فہم کا جو نتیجہ نکلا وہ ہمارے سامنے ہے۔ جو بات میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ غیر ریاستی لشکر ریاست نے کسی بھی مقصد کے لئے بنائے وہ سنگین جرم تھا اور ہے پھر جب یہ غیر ریاستی لشکر اپنے سرپرست اداروں کے اثر سے باہر نکل کر ایک نئی جہادی مہم جوئی میں جُتے تو اس کا خمیازہ عوام کے ساتھ اداروں نے بھی بھگتا۔اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم ریاست پر تو بے رحمانہ تنقید کریں لیکن انسانی لہو بہانے والے طالبانی درندوں کے بارے میں بات نہ کریں۔ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ عسکریت پسندوں کے بہت سارے ہمدرد اور سہولت کار بھی ایک نئے انداز و آہنگ کے ساتھ نئی تحریک کا حصہ ہیں یا پھر ہمارا مقصد صرف پاکستان کو مجرم ثابت کرنا ہے؟۔یہاں ساعت بھر کے لئے رک کر اس امر پر بات کرلیتے ہیں۔فتوؤں کی چاندماری کرنے والے کہتے ہیں کہ افغانستان یا دنیا بھر میں افغان پشتونوں نے پاکستانی پشتونوں کے حق میں یکجہتی کے جو مظاہرے کئے وہ پشتون قومی رشتے کی بدولت ہیں۔ کابل کے مظاہروں میں پاکستانی پرچم جلائے گئے تو کیا یہ بھی پشتون قومی محبت کا مظاہرہ تھایا پھر اگلے روز فرانس میں جو کہا گیا وہ بھی؟۔معاف کیجئے گا ہم اداروں کے سفاکانہ و مجرمانہ کردار پر سوال اٹھاتے آئے ہیں۔

ریاست کو امریکہ کا طفیلی بنا کر پرائی جنگ میں جھونکنے پر روز اول سے تنقید کرتے چلے آرہے ہیں کیا ریاست کے اداروں کی غلط پالیسی اور انسانیت دشمنی پر پاکستان کو گالی دینا اور پاکستانی پرچم جلانا واجب ہو جاتا ہے؟۔پی ٹی ایم کو ہر دوصورتوں میں ان واقعات کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضع کرنی چاہئے تھی۔
پی ٹی ایم پر لکھے گئے مضمون کے حوالے سے معروف معنوں میں پشتون دوستوں اور ان کے تازہ ہمدردپنجابی لبرل نے تین باتیں کہیں۔اولاً تحریر نو یس ایجنسیوں کا دلال ہے۔ اس کا جواب ابتدائی سطور میں عرض کر چکا ثانیاً، شیعہ ہے اور پاراچنار والوں کی محبت میں پی ٹی ایم کی مخالفت اس لئے کررہا ہے کہ پاراچنار کے اہل تشیع پی ٹی ایم کی قیادت کے مدرسہ حقانیہ جانے پر ناراض ہیں۔ ثالثاً سرائیکی ہے اور سرائیکی، دیرہ اسماعیل خان کے حالات کا ذمہ دار طالبان و ہم خیالوں کو سمجھتے ہیں طالبان کی قیادت میں غالب اکثریت محسودوں کی رہی۔ میری دانست میں تینوں وجوہات درست نہیں ہیں۔مثال کے طور پر ابھی دو ماہ قبل دیرہ اسماعیل کے سرائیکی تشخص رکھنے والوں کے بارے میں ایک مفصل رپورٹ میں شیعہ تنظیموں کے بعض ذمہ داروں کے قابل مذمت و قابل گرفت کردار پر اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں بعض شیعہ تنظیموں کے انقلابیوں نے جن ’’نفیس‘‘ خیالات کا اظہار کیا وہ ریکارڈ پر موجود ہیں۔ اخبارنویس کی معلومات کے دوذرائع ہوتے ہیں اولاًزمینی حقائق اور ماضی قریب کی تاریخ، ثانیاً معلومات کا قابل بھروسہ ہونا ، لکھنے والوں کے لئے ذرائع کا قابل بھروسہ ہونا اہمیت کا حامل ہے سوالات دستیاب معلومات سے جنم لیتے ہیں جواب دینے کی بجائے ذاتیات پر اترنا عقیدے یا قومی شناخت کو زیربحث لانا یا پھر ایجنسوں والی ’’کھیر‘‘ تقسیم کرنا تو اس شک کو تقویت پہنچاتے ہیں کہ کوئی بات ایسی ہے جس کی پردہ پوشی کرنے کے لئے الزام تراشی کی دھول اڑائی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   گیم یوں چینج ہوتی ہے - وسعت اللہ خان

یہاں ایک سوال ہے یہ جتنے پشتون اور پنجابی لبرل ان دنوں محض فوج کی نفرت میں ایکا کئے ہوئے ہیں یہ بلوچوں اور سندھیوں کی پراسرار گمشدگیوں، جلی ہوئی لاشوں کے ملنے اور چند دوسرے قابل مذمت واقعات پر چُپ کا روزہ کیوں رکھے رہے؟۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ جس شدت کے ساتھ ریاستی اداروں کے جرائم گنوائے جارہے ہیں اس سے پچاس فیصد کم شدت کے ساتھ غیر ریاستی عسکریت پسندوں کے جرائم کی مذمت سے پہلوتہی کیوں برتی جارہی ہے۔ سوال اگرمیرے عقیدے کا ہے تو کیا منظورپشتین یا علی وزیر کا عقیدہ زیربحث لا کر تماشا لگانا درست ہوگا؟۔میری دانست میں عقیدہ فرد کا انفرادی معاملہ ہے مثال کے طور پر پی ٹی ایم کے پشاور جلسہ میں پاراچنار کے ایک شیعہ نوجوان کی تقریر پر خود پی ٹی ایم کے حامیوں کے ایک بڑے حصے نے جو ناروا باتیں کہیں لکھیں ان پربحث اٹھاتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پشتون تحفظ مومنٹ پر بھی ایک خاص مسلک کے لوگوں کی بالا دستی ہے اور اسی مسلک کے کچھ لوگ غیر ریاستی لشکروں کا حصہ تھے اورہیں‘ مگر یہ رائے درست اس لئے نہیں ہوگی کہ کسی مسلک کے ایک انتہا پسند دھڑے کی فکر کو پورے مسلک کی سوچ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پی ٹی ایم کے جائز مطالبات کی تائید سے کس کو انکار ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی کو نہیں۔ میری معروضات کے دو مقاصد تھے اولاً یہ کہ جس کا جتنا جرم ہے اس پر اتنی تنقید درست ہے لیکن دو میں سے ایک مجرم کو عقیدے اور قومیت کی رعایت نہ دی جائے۔ مجرم دونوں ہیں۔ جہاں تک پچھلے مضمون میں اٹھائے گئے سوالات کا تعلق ہے تو ان سوالات کو الزامات قرار دینا کج بحثی کے سوا کچھ نہیں۔

ذاتی طور پر مجھے ان الزامات کی کوئی پرواہ نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ میں شعوری طور پر ریاستی اداروں اور ان کے تیار کردہ لشکروں کو اس ملک کے لوگوں کا مجرم سمجھتا ہوں۔ تھانیداری کا شوق ریاست کو چُرائے یا کسی لشکر کو دونوں غلط ہیں۔ میری معروضات کا مقصد یہ ہے کہ انڈس ویلی میں ہزاروں سالوں سے آباد قوموں کو باہمی احترام سے منہ نہیں موڑنا چاہئے۔ جب ہم اپنے قومی مجرموں کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو اپنی اپنی قوم کے اندر سے مجرموں کا ساتھ دینے والوں یا جرائم میں حصہ ڈالنے والوں کو زبان، عقیدے نسل یا قومیت کی بنیاد پر رعایت نہ دیں بلکہ مجرم کو مجرم ہی سمجھیں وہ کوئی بھی ہو ، حرف آخر یہ ہے کہ ہم سب (انڈس ویلی کی پانچوں قدیم قوموں) کو اسی جغرافیائی حدود میں رہنا ہے اصلاح احوال کی جدوجہد اسی صورت کامیاب ہوسکتی ہے جب ہمسایہ اقوام کے مظلوم طبقات کو ساتھ لے کر چلا جائے اور مجرموں کے ہر قسم کے سہولت کاروں سے برات کا اظہار کیا جائے وہ کوئی بھی کیوں نہ ہوں۔

Views All Time
Views All Time
132
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: