پردیس

Print Friendly, PDF & Email

jerryآسٹریلیا آکے باپ کی بتائی ہوئی بات سمجھ آئی کہ "بیٹا،وقت کی اہمیت سمجھو۔” آج بس اسٹاپ پہ ایک منٹ دیر سے پہنچا تو پتہ چلا بس ابھی ابھی نکلی ہے اور اگلی بس 20 منٹ بعد آئے گی تو اندازا ہوا دیہاڑی میں سے 5 ڈالر کم ہوگئے ہیں۔ نوکری صبح 8 بجے شروع ہوتی ہے جس کے لئے بس صبح سات بجے والی پکڑنی ہوتی ہے۔ الارم صبح 6:30 کا لگاتا ہوں۔ جتنا وقت پاکستان میں غسل خانہ میں بیٹھے جمائیاں لینے میں لیتا تھا اُتنی دیر میں ناشتہ، منہ ہاتھ دھونا، اور تیار ہوجاتا ہوں۔۔ نوکری پہ پہنچتا ہوں تو سیٹھ صاحب پتہ نہیں انگریزی میں کیا کیا بولتے ہیں۔ خیر، مجھے کیا۔۔۔! دورانِ نوکری میٹرو چھالیہ کھانا بھی منع ہے۔ ہائے۔۔۔۔ وہ بھی کیا دن تھے،منہ میں پان اور اُس پان کی رسیلی خوشبودار پیک۔۔ لیکن یہاں تو سب کو انگریزی والے پیک peak کی پڑی ہے کہ پیک پہ کس طرح پہنچا جائے۔ کسی کا وقت ورک ویزہ ڈھونڈنے میں گزر رہا ہے اور کسی کا آسٹریلوی محبوبہ۔ اور ایک ہم ہیں جو 10 ماہ بعد بھی نوکری ڈھونڈ رہے ہیں۔ عجیب منطقیں ہیں یہاں کی۔ نوکری نہیں تو جیب ہلکی، جیب ہلکی تو سر بھاری۔ خیر، شام کو جا کے پہلی فرصت میں سامنے گھر میں رہنے والی خاتون فلیز کو کھانے پینے کی اشیاء لا کے دیتا ہوں، کسی دن تاخیر ہوجائے تو اُس کی کھری کھری سنتا ہوں، چیختی ایسے ہے گویا کوئی مرد ہو۔ خیر، اس کی باتیں بھی برداشت کرنی ہوتی ہیں کیونکہ پچھلے ماہ مکان کا کرایہ اُسی سے پیسے لے کے ادا کیا تھا ورنہ پاپا کو خط لکھے دو ماہ ہوگئے نا پیسے موصول ہوئے نا خط کا جواب۔ خیر،،،، بعد اس کے گھر پہنچ کے اگلے 2،3 دن کے لئے ایک ساتھ کھانا بناتا ہوں اور صبر و شکر کر کے تناول کرتا ہوں۔ ایک ڈالر کی پانچ روٹیاں آتی ہیں جو تین دن آرام سے چلتی ہیں۔ پاکستان میں تو کل رات کی باسی روٹی بھی نہیں کھاتے تھے۔ یہاں رات میں گلی کے کونے پہ موجود چبوترے پہ بیٹھنے کا کوئی سین نہیں ہے۔ ہفتہ کی شب یہاں ناقابلِ بیان ہے۔ بس اتنا سمجھ لیں آپ یہاں ساری رنگینیاں محسوس کرسکتے ہیں بشرطیہ آپ کے پاس ڈالر اور ٹائم دونوں ہوں۔

Views All Time
Views All Time
439
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   انجینئرز کے نام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: