Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پانامہ لیکس ہے کیا اور اس میں کس کس کے نام ہیں

by جنوری 20, 2017 سیاست, صفحہ اول
پانامہ لیکس ہے کیا اور اس میں کس کس کے نام ہیں
Print Friendly, PDF & Email

پانامہ لیکس کو خفیہ دستاویزات کا اب تک کا سب سے بڑا انکشاف کہا جا رہا ہے ، پانامہ کی ایک لا فرم ہے جو امیر لوگوں کے لیے ایسی کمپنیاں بناتی ہیں جہاں وہ اپنا پیسہ چھپا سکیں ۔ 1977 سے قائم پانامہ بیس اس کمپنی نے دنیا بھرمیں اپنا بزنس پھیلا رکھا ہے جو سالانہ فیس لے کر لوگوں کے مالی معاملات کی بھی دیکھ بھال کرتی ہے ۔اس کی ویب سائٹ پر بیالیس ممالک میں چھ سو لوگ کام کرتے ہیں ۔ موزیک فانسیکا کے ٹیکس کے پناہ گاہ سمجھے جانے والے ممالک  سوئٹرز لینڈ ، قبرص ، برطانوی جزیروں جیسے مقامات پر کام کرتی ہے ۔ یہ دنیا کی چوتھی بڑی آف شورز سروسز فراہم کرنے والی فرم ہے جو تین لاکھ کمپنیوں کےساتھ جڑی ہے ۔ سب سے مضبوط رابطہ برطانیہ ہے جہاں اس فرم کی نصف کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں ۔

بڑے پیمانے پر خفیہ دستاویزات افشا ہونے سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر کے چوٹی کے امیر اور طاقتور افراد کیسے ٹیکس چوری کرتے ہیں۔ ان افراد میں کئی ملکوں کے سربراہانِ حکومت اور سیاسی رہنما شامل ہیں۔ یہ دستاویزات پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا سے افشا ہوئیں اور ان کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ 40 برسوں سے بےداغ طریقے کام کر رہی ہے اور اس پر کبھی کسی غلط کام میں ملوث ہونے کا الزام نہیں لگا۔

مصری اخبار سابق صدر حسنی مبارک کے خاندان کے حوالے سے پاناما پیپرز میں جاری معلومات کو نمایاں طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ٹویٹر پر عربی میں پاناما پیپرز کے نام سے ہیش ٹیگ شروع ہوا ہے جو ابھی ٹرینڈ نہیں کر رہا۔ اسی طرح پاکستان بڑے اخبارات نے پاکستان کے سینییر آفیشل اور اس کے خاندان کی مبینہ ٹیکس چوری کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے اپنی توجہ دو مشہور اداکاروں اور پراپرٹی کی بڑی شخصیت پر مرکوز کی ہوئی ہے۔

فرانسیسی صدر نے پاناما لیکس کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے ’میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں جیسے مزید معلومات آئیں گی تحقیقات کی جائیں گی اور مقدمے چلیں گے۔ افشا ہوئی یہ معلومات اچھی خبر ہے کیونکہ اس سے ان افراد سے ٹیکس لیا جا سکے گا جو فراڈ کرتے ہیں۔‘

بھارتی خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق بھارتی وزیر خزانہ ارن جیٹلی نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے گذشتہ سال اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھایا جس کے تحت وہ بیرون ملک اپنے اثاثے ڈکلیئر کر سکتے ان کو ’یہ حرکت بہت مہنگی پڑے گی‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک دولت رکھنے کے حوالے سے عالمی کاوش اگلے سال سے شروع ہو جائے گی۔ پاناما لیکس کے مطابق ٹیکس چوری کرنے والوں میں 500 بھارتی شامل ہیں۔

سوئیڈن کی ٹیکس اتھارٹی کا کہنا ہے کہ وہ میڈیا آرگنائزیشنز سے پاناما دستاویزات مانگیں گی تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ ان میں ٹیکس چوری کرنے کے حوالے سے معلومات ہیں یا نہیں۔ سوئیڈن ٹی وی کے مطابق پاناما لیکس میں 400 سے 500 سوئیڈن کے شہریوں کے نام بھی شامل ہیں۔

پاناما پیپرز میں چین کی کمیونسٹ جماعت کے اعلیٰ عہدیداروں بشمول صدر ژی چنگ پن کے اہل خانہ کے نام بھی اس لیکس میں آئے ہیں جنھوں نے اپنی دولت چھپانے کے لیے آف شور کمپنیاں استعمال کیں۔ کمیونسٹ جماعت کی پولٹبیورو کے کم از کم آٹھ موجودہ یا سابقہ ممبران کا نام لیا گیا ہے۔ ان آٹھ افراد میں سے ایک چین کے صدر کے بہنوئی ہیں جنھوں نے برٹش ورجن آئی لینڈز پر دو کمپنیاں بنائیں۔

موساک فونسیکا کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ’ہر ممکن احتیاط سے کام کرتی ہے اور اگر اس کی خدمات کا غلط استعمال ہوا ہے تو اسے اس پر افسوس ہے۔ ’اگر ہمیں کسی مشکوک سرگرمی یا بدمعاملگی کا پتہ چلا تو ہم فوراً اسے حکام کے علم میں لاتے ہیں۔ اسی طرح جب حکام ہمارے پاس کسی قسم کی بدمعاملگی کے شواہد لاتے ہیں تو ہم ہمیشہ ان کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہیں۔‘ موساک فونسیکا کا کہنا ہے کہ آف شور کمپنیاں دنیا بھر میں پائی جاتی ہیں اور انھیں کئی جائز مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ اس میں ایک ارب ڈالر پر مشتمل کالا دھن سفید کرنے والے ایک گروہ کا بھی ذکر ہے جسے ایک روسی بینک چلاتا ہے اور جس کے روسی صدر ولادی میر پوتن کے قریبی ساتھیوں کے ساتھ روابط ہیں۔ دولت کی ترسیل آف شور کمپنیوں کے ذریعے کی جاتی تھی، جن میں سے دو کے سرکاری طور پر مالک روسی صدر کے قریبی دوست تھے۔ موسیقار سرگے رولدوگن لڑکپن سے روسی صدر کے ساتھی ہیں اور وہ پوتن کی بیٹی ماریا کے سرپرست (گاڈ فادر) بھی ہیں۔

اس ڈیٹا میں ان خفیہ آف شور کمپنیوں کا ذکر ہے جن کے مصر کے سابق صدر حسنی مبارک، لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی اور شام کے صدر بشار الاسد کے خاندانوں اور ساتھیوں کے ساتھ روابط ہیں۔ آئی سی آئی جے کے ڈائریکٹر جیرارڈ رائل کہتے ہیں کہ یہ دستاویزات پچھلے 40 برسوں میں موساک فونسیکا کی روزمرہ کی سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہیں۔

انھوں نے کہا: ’میرے خیال سے یہ انکشافات ’آف شور‘ دنیا کو پہنچنے والا سب سے بڑا صدمہ ثابت ہوں گے۔  دستاویزات میں دنیا کے 72 حالیہ یا سابقہ سربراہانِ مملکت، بشمول آمروں، کا ذکر کیا گیا ہے، جن پر اپنے ملکوں کی دولت لوٹنے کا الزام ہے۔ پاناما پیپرز، جس کی بنیاد پر یہ انکشاف ہوا ہے، اس نے ’پاور پلیئرز‘ کے عنوان کے تحت دنیا کے کئی اہم لوگوں کی فہرست دی ہے، اور اس فہرست میں نواز شریف کے تین بچوں کا بھی ذکر ہے .

source:dunyanews,bbcurdu

یہ بھی پڑھئے:   کشمیر کے بغیر پاک۔بھارت مذاکرات نہیں ہوں گے۔ سرتاج عزیز
Views All Time
Views All Time
326
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: