Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پاکستان ریلویز کے ایک ٹرین ڈرائیور کا شکوہ

by جولائی 26, 2017 بلاگ
پاکستان ریلویز کے ایک ٹرین ڈرائیور کا شکوہ
Print Friendly, PDF & Email

تمام احباب کو میری طرف السلام و علیکم
آج آپ کو ایک ٹرین ڈرائیور محمد فاورق کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جو اپنی ہر ڈیوٹی میں انجن اسٹینڈ پر پاکستان کا پرچم اور اپنے کوٹ پر پاکستانی پرچم کا بیج لگا کر وطن سے محبت کا اظہار کرتا تھا۔ آج اس شخص کو دھشت گردی کے جھوٹے مقدمے میں ظالم انتظامیہ نے دھشت گرد قرار دے دیا ہے۔
14 جولائی 2017 کو پاکستان ریلویز کے ٹرین ڈرائیورز نے اپنے مطالبات پیش کئے جو ریلوے کے آپریٹنگ مینول اور پرسانل بک کے عین مطابق اور منظور شدہ تھے۔ ان مطالبات میں ریلوے انتظامیہ سے منظور شدہ سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور بتا دیا گیا کہ بصورت دیگر تمام ڈرائیورز 23جولائی 2017 سے 29 جولائی 2017 تک casual leaveپر چلے جائیں گے۔بدقسمتی سے ریلوے انتظامیہ نے پیش کردہ تمام مطالبات کو نظر انداز کردیا۔

ٹرین ڈرائیورز کا ایک مطالبہ یہ تھا کہ تمام ڈرائیورز جن کو حادثات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے بحال کیا جائے۔ یہاں وضاحت کرتا چلوں کہ ان حادثات میں عوام ایکسپریس حادثہ اور زکریا ایکسپریس حادثہ شامل ہیں۔ عوام ایکسپریس حادثہ کی وجہ سگنل سسٹم کی خرابی تھی۔ ہوا یوں کہ آگے بلاک سیکشن میں موجود مال گاڑی راہگیر سے ٹکرانے کے باعث رکی ہوئی تھی۔ اگر ریلوے لاز کے مطابق لائن محفوظ کی جاتی تو سگنل کی خرابی کے باوجود حادثہ سےبچا جا سکتا تھا۔ قارئین کی سہولت کے لئے بتاتا چلوں کہ لائن محفوظ اس طرح کی جاتی ہے کہ مخصوص فاصلے پر لائن کے اوپر ڈیٹونیٹر پٹاخے دائیں اور بائیں مخصوص فاصلے اور ترتیب سے رکھے جاتے ہیں تاکہ پیچھے سے آنیوالی ٹرین کا پہلا پہیہ جب وہاں سے گزرے تو پٹاخہ پھٹ جائے۔ پٹاخہ پھوٹنے کی آواز سے ڈرائیور چوکنا ہو کر گاڑی کی رفتار کو بالکل ہیومن واکنگ سپیڈ تک لے آتا ہے تاکہ جہاں ضرورت محسوس ہو فوراً گاڑی روکی جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے:   میری پیاری آپا جان کے نام

بدقسمتی یہ رہی کہ سگنل کی خرابی اور نامعلوم وجوہات کے باعث لائن پروٹیکٹ نہ ہونے کی وجہ سے المناک سانحہ ہوگیا۔ ڈرائیور کی بیگناہی کا ثبوت معزز افسران کی انجن پر کی گئی فٹ پلیٹس یا انجن پر کمپنی کے دوران بھی رپورٹس میں موجود ہے۔ اس وجہ سے نیا سی بی آئی سسٹم مسلسل کئی ماہ تک معطل رہا لیکن ملازمت سے برخاستگی ڈرائیور کے مقدر میں ہی آئی۔ پھر اسی طرح زکریا ایکسپریس حادثہ میں بھی ثبوتوں کو نظر انداز کرکے ڈرائیور کو برخاست کیا گیا۔ ڈرائیورز کا مطالبہ یہ تھا کہ اگر بحال نہیں کرسکتے تو کم از کم انہیں جبری ریٹائرڈ کردیا جائے اور 40 سال ریلوے سروس کو مد نظر رکھتے ہوئے انکے جو واجبات ہیں وہ ہی دے دیے جائیں۔

دوسرا مطالبہ مائلج ریٹ جو کہ ون ڈے کے برابر ریلوے کے اپنے قوانین کہتے ہیں، دیا جائے۔

تیسرا مطالبہ تھا کہ جس طرح ٹرین آپریشن سے منسلک دوسری کیٹگریز کو اپ گریڈ کیا گیا ہے ڈرائیورز کو بھی کیا جائے سکیل وائز۔
افسوسناک پہلو یہ رہا کہ ریلوے انتظامیہ کی جانب سے ہر دفعہ مذاکرات کے نام پر وقت گزارا جاتا رہا لہذا 23 جولائی سے 29 جولائی تک تمام ریلوے ڈرائیورز نے چھٹی کی دراخواست دے دی جس کو وصول کر لیا گیا۔ اس لئے 22 جولائی کو تمام ڈرائیورز جو ڈیوٹی پر تھے اور جہاں 23 جولائی کی تاریخ بدلی، تمام لوگوں نے اگلے اسٹیشنز پر گاڑیاں روک کر اسٹیشن ماسٹرز کو آپریشن سے منسلک دستاویزات دے کر چلے گئے۔

جواب کے طور پر دہشت گردی کی دفعات لگا کر گرفتاریوں کا عمل شروع کیا گیا۔ راولپنڈی کی ریلوے کالونیوں میں ڈرائیورز کے گھروں کے بجلی پانی و گیس کے کنکشن کاٹ دیے گئے۔ریل گاڑیوں کو غیر تربیت یافتہ و غیر متعلقہ افراد سے چلوا کر مسافروں کے مال، جان اور ریلوے رولنگ سٹاک کو خطرے میں ڈال کر حادثات کا موقع پیدا کیا گیا۔ وہ تو اللہ کا شکر ہوا کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھئے:   کربلا۔۔۔ معرکۂ حق و باطل

آخر میں ان تمام مسافر خواتین و حضرات، بوڑھے،جوان اور بچوں سے تہہ دل سے معافی مانگتے ہیں کہ جن کو اس ساری صورتحال میں اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تمام واقعہ کا سامان اور اس طرح کے انتہائی اقدام پر مجبور ریلوے انتظامیہ کے رویے نے کیالہذا چند سوال کرتے ہوئے فیصلہ ہم عوام پر چھوڑتے ہیں؛

کیا ترقی اور منظور شدہ حقوق کا مطالبہ کرنا جرم ہے؟
جب ڈاکٹرز کو حقوق نہیں ملتے تو وہ کام کرنے سے کیوں انکار کرتے ہیں؟
ٹینکر مافیا نے کیوں بلا وجہ ہڑتال کی ہے؟
1947 سے آج تک کونسا ایسا قانونی مطالبہ ہے جو ہمارا دلائل سن کر مان کر تسلیم کر کے پرامن طریقے سے دیا گیا ہو؟
ہر چیز پر کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے مصداق ہر روز نیا لالی پوپ دیا جاتا رہا ہے۔ حادثات میں جو ڈرائیور جاں بحق ہو جائیں انتظامیہ کی غفلت سے ان کے وارثان کو آج تک انصاف نہیں مل سکا لیکن اگر زندہ بچ جائیں تو ملازمت سے برخاستگی مقدر ٹھہرتی ہے۔ اس لئے میں تمام قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واسطہ اپنے بیٹوں کو انجن ڈرائیور نہ بنائیں۔

Views All Time
Views All Time
1035
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: