ملک کا مجموعی قرضہ آپ کی سوچ سے بھی زیادہ

Print Friendly, PDF & Email

اسلام آباد: حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حالیہ دور میں ملکی قرضوں میں 35 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد اس وقت ملک کا مجموعی قرضہ 18 کھرب 28 ارب سے زائد ہو چکا ہے۔گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن اسمبلی شاہدہ رحمانی کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزارت خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ 30 ستمبر 2016 تک ملک پر 18 کھرب 2 ارب 77 کروڑ 60 لاکھ روپے قرض تھا۔

اسی دورانیے میں غیر ملکی قرضوں میں 28 فیصد اضافہ ہوا، یہ قرضے مالی سال 2013 میں 4 کھرب،7 ارب 69 کروڑ تھے، جو 30 ستمبر 2016 تک بڑھ کر 6 کھرب 14 ارب تک پہنچ گئے۔وزارت خزانہ کے مطابق ان قرضوں کو قومی اہمیت کے منصوبوں کی مالی اعانت کے لیے حاصل کیا گیا، جن میں بجٹ اور ادائیگیوں کے توازن، زلزلوں اور سیلابوں کے بعد دوبارہ بحالی میں مدد، یوریا، کھاد اور کروڈ آئل کی برآمد جیسے منصوبے شامل ہیں۔معیشت میں بہتری کی وجہ سے مصنوعات کی پیداوار بہتر اور اجرتوں میں اضافہ ہوا جس نے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کی۔حکومت نے جی ڈی پی کا مالی خسارہ بھی کم کرنے کا دعویٰ کیا ہے.

حکومت کے مطابق مالی سال 2014-2013 میں یہ خسارہ 8.2 فیصد تھا جو مالی سال 2016-2015 میں کم ہوکر 4.6 فیصد رہ گیا۔اس وقت ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 23 ارب ڈالر سے زائد ہیں، جب کہ یہ ذخائر جون 2013 کے اختتام تک صرف 11 ارب ڈالر تھے۔ وزارت نے ٹیکس چھوٹ کو بھی ختم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے جی ڈی پی میں اضافہ ہوا، ٹیکس چھوٹ کی وجہ سے مالی سال 2013-2012 میں جی ڈی پی میں 9.8 فیصد اضافہ ہوا تھا، جسے ختم کرنے کے بعد سال 2016-2015 میں جی ڈی پی کی شرح میں 12.4 فیصد اضافہ ہوا۔وزارت خزانہ کے مطابق پبلک سیکٹر میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوا، سال 2013 میں یہ سرمایہ کاری 348 ارب تھی جو رواں سال بڑھ کر 800 ارب تک پہنچ گئی۔

Views All Time
Views All Time
242
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مودی کو منموہن سنگھ پر تنقید مہنگی پڑ گئی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: