ہمارے بیمار معاشرتی رویے

Print Friendly, PDF & Email

Humera Baigمیڈم ہمارا پروڈکٹ بہت اچھا ہے اور اگر آپ یہ دو خریدیں گی تو ساتھ ایک فری ملے گا. پلیز آپ ایک بار استعمال کر کے دیکھیں.شدید گرمی میں سر پہ دوپٹہ اوڑھے ہوئے متعلقہ پراڈکٹ کی کیپ اور اوور آل پہنے وہ بار بار خشک ہونٹوں پر زبان پھیر رہی تھی.”تم پانی پیو گی”.میرے پوچھنے پر اس کی آنکھوں میں اچانک ایک چمک سی لہرائی. میں اسے اندر لے آئی پانی پلایا کھانے کا پوچھا تو کہنے لگی نہیں دیر ہو جائے گی اور گاڑی میں باس ڈانٹے گا.”چلو تھوڑا سا کھالو” .میں نے چاول پلیٹ میں نکالتے ہوئے اصرار کیا.”نہیں میڈم !آپ نہیں جانتیں ہمارے باس کی زبان کو. وہ بدزبانی سے گریز نہیں کرتا. ہمارا شہر یہاں سے دو گھنٹے کے فاصلے پر ہے زیادہ دیر ہوگئ تو میں اور بھی لیٹ ہو جاؤں گی تمام لڑکیوں کو اتارتے ہوئے رات کے تقریباً 11 بج جاتے ہیں. محلے کے مردوں سے زیادہ عورتیں محوِ انتظار ہوتی ہیں اگلی صبح کے لیے ان کے پاس ایک مصالحے دار ٹاپک تیار ہوتا ہے. یہ نوکری کرنا میری مجبوری ہے ہم چھ بہنیں ہیں والد نے زیادہ بیٹیاں پیدا کرنے کے جرم میں ماں کو اور ہمیں چھوڑ دیا.بچپن ہی سے پڑھائی سے زیادہ زندہ رہنے کے لالے پڑے رہے اسی لیے توجہ پڑھائی سے زیادہ گھر کی فکر کرنے پہ رہی تعلیم زیادہ حاصل نہ کر سکی.اس کی اس تمام گفتگو میں میرے ذہن میں بار بار صرف اس کا ایک ہی فقرہ گونجتا رہا کہ رات کو دیر سے گھر پہنچنے پر مردوں سے زیادہ محلے کی عورتیں محوِ انتظار ہوتی ہیں اور اگلے دن آتے جاتے ہوئے ان کی نظریں لعن و طعن کے خاموش تیر برساتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں. خود کو مہان اور نیک و معتبر اور انہیں حقیر سمجھنے والی ان عورتوں کو بتانا چاہیے کہ وہ خود کس کیٹیگری سے تعلق رکھتی ہیں.کسی ڈیپارٹمنٹل سٹور پر ڈیوٹی پر مستعد کھڑی جواں سال لڑکی کو سب سے پہلے حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے. اس کے ساتھ کسٹمر خواتین نہایت رف لہجے میں بات کر رہی ہوتی ہیں اس کے بارے میں مختلف لوگوں کا ذہن یہی سوچ رہا ہوتا ہے کہ یہ کوئی ایسی مخلوق ہے جس کی کوئی عزتِ نفس نہیں اور یہ کہ لو….”اسے اور کوئی کام نہیں ملا”…خواتین کی اس تنگ نظری پر ہی بات موقوف نہیں ہمارے مرد حضرات تو کئی ہاتھ آگے ہیں. دورانِ سفر کوچز میں کمال خود اعتمادی کا مظاہرہ کرنے والی اور ہاتھوں میں نیسلے یا کوک کی بوتل لئے اپنی شرم و حیا سے سمجھوتہ کیے ہوئے خود کو سمٹائے ہوئے سیٹ در سیٹ سرو کرنے والی لڑکیوں پہ اکثر مردوں کی یہی سرگوشیاں سنائی دے رہی ہوتی ہیں کہ "واہ یار پیس تو اچھا ہے . سفر آرام سے کٹے گا.”سوہنیو پانی تے پلا دیو.اور یہ کہ آئٹم تو اچھی ہے”.وغیرہ.اور جب وہ کوچ کے ایک سرے سے آخری تک اپنی نوکری کے فرائض سرانجام دے رہی ہوتی ہے تو سرتاپا لوگوں کی نظریں برچھیاں بن کر اسے چھلنی کر رھی ہوتی ہیں اور وہ کمالِ ضبط سے خوداعتمادی اور مستعدی سے سب برداشت کر رہی ہوتی ہے.” بی بی!یہ تو روز کا کام ہے.”…یہی سننا پڑے گا اگر شکایت کرے گی تو. لہٰذا روز کا کام سمجھتے ہوئے صبر کے کڑوے گھونٹ نگل کر ان سب چیزوں پہ چشم پوشی اور درگذر کرنا بھی گویا اس کی ڈیوٹی ہے.یہ ہمارے بیمار معاشرتی رویے ہیں ہر پبلک پلیس پر کام کرنے والی نوجوان لڑکیوں کو حقیر،غریب،اور بعض اوقات بد کردار بھی گردانا جاتا ہے کہ مردوں کے ساتھ کام کرتی ہیں تو جانے کیسی ہیں.
ہمارے معاشرے کی یہ سانپ نما سوچ جب ان لڑکیوں کی سماعتوں کو ڈستی ہو گی تو کرب کے زہر سے ان کی شریانیں پھٹنے کو آجاتی ہوں گی.زہر کے اس سیلاب سے آنکھوں کی سرخ وریدیں پھیل جاتی ہوں گی مگر ہونٹوں پر مجبوریوں کے تالے….اور ان کی مضبوط قوتِ ارادی ہمیشہ سہنےاور سہنے مزید سہنے کو تیار رہتی ہے..
کسی نے کمالِ ضبط،پختہ خوداعتمادی،مضبوط قوتِ ارادی ،فکرِ روزگار،مستعدی اور اپنے فرض سے لگن جیسے اوصاف سیکھنے ہیں تو اس نوجوان صنفِ نازک سے سیکھے جو اپنے گھر کے بڑے ہیں اپنی ماؤں کے بیٹے ہیں. چاہے وہ پروڈکٹ بیچنے والی گڈو تھی،کسی پارک میں جھولے پہ بچوں کو بٹھانے والی ننھی تھی،کوچز میں ہوسٹس بننے والی رانی تھی یا سٹور پہ کام کرنے والی پپی تھی میں نے سب میں یہی اوصاف مشترک دیکھے.ہمارے معاشرے میں بھلا گڈو،ننھی،رانی اور پپی سے بھی زیادہ بھی کوئی بہادر ہے جو اپنے گھروں میں باپ،بڑے بھائی اور مجبور ماؤں کے سروں پہ سایے جیسے کردار نبھا رہی ہیں. ہم ویسے تو ماڈرن سے ماڈرن بننا چاہتے ہیں تو پہلے ہماری سوچ کو کھلنا، حقائق کو سمجھنااور رویوں کو بدلنا ہوگا.اعلیٰ ظرفی کو سامنے لانا ہوگا.سب عورتیں اور سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے.ہم مرد ہیں یا عورت ہمیں جائزہ لینا ہوگا کہ ہمارے معاشرتی رویے کہیں بیمار تو نہیں……

Views All Time
Views All Time
776
Views Today
Views Today
2
mm

حمیرا جبین

حمیرا جبین درس و تدریس کے شعبے سے وابسطہ ہیں۔ ایم فل سکالر ہیں۔ تین مضامین میں ماسٹرز کر چکی ہیں۔ ایک زبردست شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ افسانہ نگار بھی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: