بزرگوں کا احترام ہمارا فرض

Print Friendly, PDF & Email

یکم اکتوبر 2016 ’’معمر افراد کے عالمی دن ‘‘ کے موقع پرایک تحریر

         akhtar-sardar-ch     بزرگوں کا احترام ایک خالص اسلامی نظریہ ہے ۔اسلام ایک پاکیزہ مذہب ہے۔ بزرگوں کی تعظیم کو اللہ کی تعظیم قراردیا گیا ہے ۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بزرگوں کی عزت و تکریم کی تلقین فرمائی اور بزرگوں کا یہ حق قرار دیا کہ کم عمر اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں کا ادب و احترام کریں اور ان کے مرتبے کا خیال رکھیں ،ان سے حسن سلوک نبھائیں۔بزرگوں کا ادب واحترام،عزت وخدمت ہمارا فرض ہے۔آج جو بچہ ہے کل وہ جوان ہوگا اور پھر اس پر بڑھاپا آجائے گا۔ہم عمر کے کسی بھی حصے میں ہوں، ایک دن(اگر زندہ رہے تو)بوڑھے لازمی ہو جائیں گے۔ضعیف العمری میں کمزوری اور بیماریوں کا حملہ تو ہوتا ہی ہے،اپنی اولاد یا دیگر عزیزوں کی قدر وعزت نہ کرنے کا دکھ بھی گھیرے رہتا ہے ۔ معمر افراد کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ان کے تجربات نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہوتے ہیں ۔ یہ قیمتی تجربات اگلی  نسل کو منتقل ہوتے ہیں اور تمام عمر کے استفادے کے لئے ہمہ وقت پیش نظر رہتے ہیں۔

       آج جو توانا اور جواں   ہے کل وہ اک کمزور بچہ تھا، اسے جس نے پالا پوسا ،اپنی جوانی اس کو پروان چڑھانے پرصرف کی آج وہ خود بوڑھا ہے ۔وہ ،جو  اپنی محنت و مشقت سے اپنی اولاد کو بڑا آدمی بنانے کے لئے ساری عمر کوشاں رہے ،انھی پرایسا وقت بھی آتا دیکھا گیا ہے کہ ان بزرگوں کی خوشیاں اکثر اوقات تلخیوں میں بدل جاتی ہیں۔ وہ پل پل جیتے اور پل پل مرتے ہیں۔وہ مجبور بھی ہوتے ہیں اور بے بس بھی اور شائد ان کی ضرورت بھی نہیں رہتی اس لیے ان کو مرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 14 دسمبر 1990 ء کو ایک قرار داد کے ذریعے ہر سال یکم اکتوبر کو ’’معمر افراد کا عالمی دن ‘‘منا نے کا اعلان کیاہے ۔ ا قوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے معمر افراد کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں حکومتوں اور عوام پر زور دیا کہ معمر افراد کی معاشرے میں بھرپور شمولیت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ان کے حقوق اور وقار کے تحفظ کا بھی خیال رکھا جائے ۔اس دن کو منانے کا مقصد معمر افراد کی ضروریات، مسائل اور تکالیف سے معاشرے کو آگاہی فراہم کرنا اور لوگوں کی توجہ بوڑھے افراد کے حقوق کی طرف دلاناہے ۔اس موقع پردنیا بھر میں تقریبات، سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ہر سال یکم اکتوبر کو اپنے بزرگوں سے محبت اور عقیدت کا اظہار کیا جاتا ہے۔

            آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’وہ ہم میں سے نہیں جواپنے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور اپنے بڑوں کی عزت نہ کرے ۔‘‘اسی طرح قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ ’’اور آپ ص کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو۔ اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اْف‘‘ بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کرو، اور ان دونوں کے لیے نرم دلی سے عجز و اِنکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اللہ کے حضور) عرض کرتے رہو ،اے میرے رب، ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے ) پالا‘‘

         ہم دیکھتے ہیں بچے اپنے ہی والدین کو بات بات پر جھڑک دیتے ہیں ایسے بچے دوسرے بزرگوں کا خاک احترام کریں گے۔مدرسوں ،مزاروں،بازاروں گلی محلوں میں بھیک مانگتے بزرگ، ہرروز دیکھے جاسکتے ہیں کوئی پیٹ بھرنے کے لئے ایک وقت کاکھانادے دیتاہے توکوئی جھڑک دیتا ہے ۔اللہ کو سخت ناپسند ہے کہ بزرگوں کو جھڑکا جائے ۔حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’ہمارے بڑوں کی وجہ سے ہی ہم میں خیر و برکت ہے ۔ پس وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کی شان میں گستاخی کرتا ہے ۔‘‘

      درج ذیل بات بڑی توجہ طلب ہے کہ اسے پڑھ کر سر ندامت سے جھک جاتا ہے۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بزرگوں کے معیارِ زندگی کے حوالے سے بہترین ملک سویڈن ہے۔(تازہ ترین رپورٹ کے مطابق بزرگوں کے لیے بہترین ملک کے طور پر ناروے نے اپنے ہمسایہ ملک سویڈن کی جگہ لی ہے جواب دوسرے نمبر پر ہے) ۔تیسرے نمبر پر سوئٹزرلینڈ، چوتھے پر کینیڈا اور پانچویں پر جرمنی ہے ۔ جبکہ پاکستان بدترین ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے ۔

    اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2050 ء تک دنیا بھر میں معمر افراد کی تعداد دو ارب سے زائدہو جائے گی۔ایک اور رپورٹ نظر سے گزری جس میں بدترین ممالک میں پاکستان کا چھٹا نمبر بتایا گیا ہے اور بزرگ افراد کے لیے بدترین ملک ایک مرتبہ پھر افغانستان کو قرار دیا گیا ہے۔ دونوں رپورٹس میں سے کوئی بھی درست ہو، ہمارے لیے باعث شرم ہے ۔اس کی مثال کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ پاکستان کے کسی بھی سرکاری ہسپتال میں شائد ہی بزرگوں کوعلاج ومعالجے کے حوالے سے کوئی ترجیحی سہولتیں فراہم ہوں، معمر افراد کو لمبی قطاروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ بینک کے بھی یہی حالات ہیں جہاں پینشن لینے کے لیے ان کو سارا سارا دن دھکے کھانے پڑتے ہیں ۔تحریر کے آخر میں تحقیق پیش خدمت ہے ۔

       ایک تازہ ترین تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو لوگ بوڑھے افراد کے لیے منفی رویے رکھتے ہیں، ان کی آئندہ زندگی میں دل سے منسلک بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ نئی تحقیق کے مطابق وہ نوجوان اور ادھیڑ عمر افراد جنہوں نے بوڑھے افراد کے لیے منفی رویوں کا اظہار کیا، انکی آئندہ زندگی میں سٹروک، دل کے حملوں اور دل کی دوسری سنگین بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ انکے ہم عمر ان افراد کی نسبت زیادہ تھا جو بوڑھے افراد کی جانب عمومی طور پر مثبت رویہ رکھتے تھے ۔اب چلتے چلتے ایک حدیث سنتے جائیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’جو جوان کسی بوڑھے کی سن رسیدگی کے باعث اس کی عزت کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس جوان کے لیے کسی کو مقرر فرما دیتا ہے جو اس کے بڑھاپے میں اس کی عزت کرے ۔‘‘

Views All Time
Views All Time
2965
Views Today
Views Today
12
یہ بھی پڑھئے:   بہ صد سامانِ رسوائی سرِ بازار می رقصم-مفتی منیب الرحمن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: