ایک ہزار روپے کا چیک اورپانامہ پر سوالات

Print Friendly, PDF & Email

rasheed angviعید آئی بھی اور گئی بھی مگر ایک ہزار روپے کے چیک کی داستانِ ہوش ربا پیچھے چھوڑ گئی جس کے سوالوں کا جواب پاکستان کے ووٹروں کے ذمہ ہے۔بہاولپور سے کسی مہربان نے ایک ہزار روپے کا کراس چیک بھیجا ۔ اس رقم نے بچوں کی عیدی میں کام آنا تھا۔مقامی بینک میں چیک جمع کرایا تو بتایا گیا کہ ہزار میں سے تین سواڑتالیس روپے تو کٹ جائیں گے اورآپ کو چھ سو باون روپے ملیں گے۔عرض کیا کہ آپ قانون کے مطابق کرڈالیے مگر ہمیں اپنی وزارت خزانہ کی عوام دوست پالیسی کا علم ہوگیا اوروزیر خزانہ کو جلی کٹی سنانے سے ہمیں کون روک سکتا ہے ۔ جمعہ کا وقت ہونے والاتھا اور اس جمعہ دعا کے لمحات میں حکمرانوں کے لیے دل کھول کر اللہ کریم سے التجائیں کی گئیں کہ ظالموں سے چھٹکارا نصیب ہو۔ شاعر کا وہ شعر یاد آیا کہ ’’جس دور میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی ۔ اس دور کے سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے‘‘مگر ہمارے حکمران کسی بھول چوک سے واسطہ نہیں رکھتے ۔ یہاں تو چوری اورسینہ زوری والی کہاوت دکھائی دیتی ہے ۔ ہم نے سوچا کہ اگر پانامہ خزانے کے ہر ایک ہزار ارب میں سے تین سو اڑتالیس ارب کاٹ لیے گئے ہوں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ٗ انصاف پر خوش ہوں گے۔غور تو فرمائیے کہ اپنے ہی ملک بلکہ اسی پنجاب کے ایک شہر میں سفر کرتے ہوئے ایک ہزار روپے میں سے تین سو اڑتالیس کاٹ لیے جاتے ہیں مگر اسی شہر سے ملکوں ٗ سمندروں ٗ براعظموں کے فاصلے عبور کرتے پانامہ خزانوں میں سے کتنے تین سو اڑتالیس ( دو کم ساڑھے تین سو ) کاٹے گئے۔مزید برآن یہاں تو کوئی بتانے کے لیے تیار ہی نہیں کہ حکمران کی اولاد کے خزانوں میں رقم کتنی ہے ٗ یہ پیدا کہاں ہوئی ٗ کیسے ہوئی اوروہاں کیسے پہنچی ۔ان سوالات کا جواب چاہنے والوں کو خزانے ٗ اطلاعات ٗ ریلوے ٗ قانون اورنہ جانے کن کن محکموں کے وزیر ومشیر ڈانٹنے اورچپ کرانے میں مگن ہیں ۔ راقم کی لاہور کے ووٹروں سے گزارش ہے کہ جس طرح جاتی امرا والے یہاں آکر لاہوری بن گئے ٗ میں بھی وادی سون سکیسر سے آکر لاہوری بن گیا ہوں ٗ مجھے یہ بتایا جائے کہ ایک ہزار میں سے ساڑھے تین سو کاٹنے والے حکمرانوں نے اپنے ڈالروں ٗ پونڈوں ٗ ریالوں ٗ روپوں کے ہمالیہ پہاڑ جیسے خزانوں میں سے کتنی رقم کٹوائی ہے اوریہ بتائیں کہ پانامہ لیکس کے حوالے سے اپنے شہزادوں ٗ شہزادیوں کے خزانوں کا حساب کتاب بتاتے کیوں نہیں ۔ کس نے کہہ دیا کہ یہ احتساب کا مسئلہ ہے ۔ احتساب تو آپ کی شریفانہ و عادلانہ حکومت ہمیشہ اور ہر وقت رکھتی ہے۔یہ تو قوم کی نظروں سے اوجھل آپ کی نسلوں کے لامتناہی خزانوں کی محض ایک خبر تھی جس کی حقیقت صرف پانچ یا چھ افراد بتا سکتے ہیں یعنی نواز وکلثوم و صفدر وحسن و حسین و مریم اوربس ۔ یہاں وہ وزیر ومشیر کدھر سے کود پڑے ۔ جناب یہ اکیسویں صدی ہے ۔دنیا کے کئی حکمران دولت کے ڈھیرلگانے پر تاریخ کے کوڑے دانوں اورکباڑخانوں میں غلاظت کا ڈھیر بناکر پھینکے جاچکے ہیں اورعام پاکستانی اپنے دولت کی دلدلوں میں ڈوب وڈیروں کی حقیقت سے باخبر ہے۔گوہر واختر بیٹوں نے اپنے عظیم جرنیل باپ ایوب خان کو اقتدار سے رخصت کیا تھا۔ایران کے انقلاب نے سونے چاندی میں ڈوبے بادشاہ کو کہیں کا نہ چھوڑا تھا۔ فلپائن کا قارون کدھر گیا۔تاریخ کی کتابوں میں یہ صفحات پڑے ہوتے ہیں ۔ ووٹرز کا فرض ہے کہ پاکستان پر مسلط دو بڑے وراثتی خاندانوں کو رخصت کریں۔کیا سکندر مرزا اورجنرل جیلانی وضیا کو دوخاندان مسلط کرنے کا اختیار حاصل تھا۔حکمرانوں کے سمجھ دار باپ نے جرنیلوں کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر سیاست کے اصولوں کے ابجد سے بھی بے خبر اولاد کو اسلامیہ جمہوریہ سے کھیلنے پر مسلط کیا مگر ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے ۔جو لوگ پانامہ خزانوں کی خبر لیک ہونے پر مہینوں گزرنے کے باوجود سیدھی صاف بات کرنے کو تیار نہیں ٗ وہ کیسے معتبر اورصادق وامین قرار پاسکتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو بھٹو دور میں چلائی جانے والی عظیم تحریک جیسی تحریک برپا کرکے پارلیمنٹ کے ایک مخصوص ان کیمرہ سیشن مذکورہ متعلق افراد کو بلا کر پانامہ خزانوں کی تفصیلات حاصل کرلی جائیں گی۔ملک زیادہ عزیز ہے ٗ افراد اورخاندان آتے جاتے رہتے ہیں ۔ زرداری اورشریف خاندانوں ریاستی قیادتوں کا باب بند ہونا چاہئے۔ترکی کی سڑکوں پرعوام نے بہادری سے جمہوریت اوراسلامی تہذیب کی حفاظت کی۔ پاکستانی قوم کو خوابِ غفلت سے بیدار ہوکر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شایانِ شان سیاست کا آغاز کرنا چاہئے۔دوہری شہریتوں ٗ بیرونِ ملک جائیدادوں واولادوں والے لوگوں کو قطعاً مسترد کرکے خالص ملکی قیادت پیدا کرنا ہوگی جس کا رہنا سہنا ٗ جینا مرنا ٗ اپنی اولادوں سمیت ملک کے اندر ہی ہو ٗ باہر ہرگز نہیں ۔ یہ بیرنی تڑکوں والی قیادتیں ملک کے لیے عذاب کے سوا کچھ نہیں۔افسوس کہ برصغیر کے مسلمانوں کی اس پنا ہ گاہ پر ایسے ایسے چور اورڈاکو حکمران بھی مسلط ہوگئے جن میں سے بعض اپنے کرتوتوں کی وجہ سے آج ملک میں قدم رکھنے کی جرأت بھی نہیں رکھتے اورجمہوریت کے نام پر اپنی اولادوں کو نعرہ بازی میں لگایا ہوا ہے ۔ ضرورت ہے کہ پاکستان کا ووٹر ٗ اسلام آباد ٗ لاہور ٗ کراچی کا ووٹر ٗ لاڑکانہ وسکھر ٗ ملتان ٗ پنڈی ٗ پشاور ٗ کوئٹہ کا ووٹر اپنی ووٹ پالیسی پر نظر ثانی کرے ٗ بابائے قوم کے معیار اورافکار وارشادات کے مطابق ازِ سر نوپاکستان کی قیادت کا انتخاب کرے ۔ جمہوریت میں وراثت کا جنازہ نکال دیا جاتا ہے ۔ جمہوریت خاندانی وراثتیں پالنے کا عمل نہیں ہے۔جمہوریت میں حکمران کے ہزار کروڑکے چیک اورغریب کے ہزار روپے میں سے سے برابر تناسب سے کٹوتی ہوتی ہے۔مسلمانوں کے حکمران خاندان ٗ دولت کے انبار نہیں لگایا کرتے ۔ یاد کیجئے کہ پہلے وزیر اعظم پاکستان نواب زادہ لیاقت علی خان وفات پر پھٹی بنیان پہنے ہوئے تھے۔

Views All Time
Views All Time
275
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مراقبہ | خواجہ شمس الدین شاہ قادری (انڈیا) - قلم کار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: