ارے کوئی تو روکو ان کو

Print Friendly, PDF & Email

Zarina Ashrafپہلے کتنے بچے ہیں اپ کے ؟
3 بیٹے اور 5 بیٹیاں 2 فوت ہو گئے تھے جب بہت چھوٹے تھے. بس جب سے ڈاکٹرنی نے آپریشن بتایا ہے ہمارے تو گھر میں لڑائی ختم نہیں ہو رہی میری ساس کہتی ہے کہ میرے 14 بچے ہوئے اور کبھی ہسپتال کا منہ بھی نہیں دیکھا پھر اب ڈاکٹر کو کیا تکلیف ہوئی جو بڑے آپریشن کا بتا دیا ہے..جاؤ کسی اور ڈاکٹرنی کو چیک کراؤ اور اسے کہو کہ آپریشن کے بجائے بچہ نارمل ہی پیدا کروائے سنا ہے کہ آپریشن جسم کو ناکارہ کر دیتا ہے اور پھر عورت مزید بچہ پیدا کرنے کے قابل بھی نہیں رہتی. یہ معمول کی کہانی تھی جو آنے والی مریضہ روتے ہوئے سنا رہی تھی اسے سمجھاتے ہوئے کہا کہ مزید بچے نہ پیدا کرنا تو آنسو پونچھتے ہوئے کہنے لگی کہ میرا شوہر کہتا ہے کہ بچے بند کروانا یا کوئی وقفہ کرنا خدا کی نافرمانی اور گناہ ہے.
مانتی ہوں کہ اولاد اللہ کی دین ہے پر عقل کا استعمال بھی تو انسان کے بس میں ہے. کیا صرف بچے بند کروانا گناہ ہے ؟؟روتے بلکتے اور ننگ دھڑنگ سارا دن گلی میں آوارہ پھرتے بچے کیا ثواب ہیں ماں باپ کے لیے…
ہر پیدا ہونے والا بچہ تعلیم و تربیت اور زندگی کی بنیادی ضروریات کا مستحق ہے. پر یہ بات ہمارے معاشرے کے مرد حضرات اور ان کی مائیں سمجھنے سے قاصر ہیں. پتا نہیں کب ہم میں اس بات کا شعور آئے گا کہ بچے پیدا کرنا کمال نہیں بلکہ ان کو پڑھا لکھا کر اس معاشرے کے قابل فخر انسان بنانا زیادہ بڑا کمال ہے. ویسے تو آگر دیکھا جائے تو جتنی جس گھر میں جتنی غربت ہے بچے اتنے ہی زیادہ اور مولوی حضرات تو اپنا بھر پور حصہ ڈال رہے ہیں آبادی بڑھانے میں. بے شک رزق دینے والی خدا کی ذات ہے. پر عقل اور شعور بھی تو اسی ذات پاک کی عطا ہےتو اسے استعمال بھی کیجئے. بچوں کی تربیت کرنا اور کوئی نہ کوئی ہنر سکھانا والدین کا فرض ہے. وقت اور حالات کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے جیسے اپ اپنے باقی معاملات کی پلاننگ کرتے ہیں ایسے ہی فیملی پلاننگ بھی کیجئے ..
بڑھتی ہوئی آبادی ہمارے ملک کے لیے دہشتگردی سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے. زرا سوچئیے کہ جب ہم بازار کوئی چیز لینے جاتے ہیں تو اپنی استطاعت کے مطابق لیتے ہیں تو بچے پیدا کرتے ہوئے بھی اپنے معاشی اور معاشرتی حالات کو لازمی مدنظر رکھنا چاہیے.
بیٹوں کی جوڑی ملانے کے چکر میں دس بارہ بیٹیاں پیدا کر لینا کوئی عقل مندی نہیں. ضروری نہیں کہ بیٹے کما کے کر بھی لائیں گےاور بڑھاپے کا سہارا بھی بنیں گے یہ کا بیٹیاں بھی کر رہی ہیں..یہاں سات سات بیٹوں کی مایئں دھائیاں دیتی اور روتی پھر رہی ہیں کہ بیٹے حال نہیں پوچھتے.
خدارا سمجھیے حالات اور وقت کے تقآضوں کو اور ہر کام میں میانہ روی اختیار کرتے ہوئے کم بچے پیدا کریں ان کی بہتر تریبت اور تعلیم کا انتظام کریں اور بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں..اولاد ہی مان باپ کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے کیجئے بہترین پرورش اور بن جائیے قابل فخر والدین…
فیصلہ اپ خود کیجئے وقت اور حالات اپ کے سامنے ہیں……
ورنہ ……….. پھر پچھتائے کیا ہوت
ادھر ناکے پہ ناکہ چل رہا ہے
ادھر ڈاکے پہ ڈاکہ ڈل رہا ہے
ادھر منصوبہ بندی کے منصوبے
ادھر کاکے پہ کاکا چل رہا ہے

Views All Time
Views All Time
676
Views Today
Views Today
1
mm

ڈاکٹر زری اشرف

ڈاکٹر زری اشرف ایک ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل ورکر بھی ہیں۔ اور اس کے علاوہ مطالعہ کی بیحد شوقین۔ قلم کار کے شروع ہونے پر مطالعہ کے ساتھ ساتھ لکھنا بھی شروع کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: