اوراب ’’پانامہ آپریشن‘‘ بھی کرالیجئے

Print Friendly, PDF & Email

operationہر اہم آپریشن ضروری ہوتا ہے اورآخرکارکرانا ہی پڑتا ہے خواہ قومی سطح پرو ہوجیسے ’’آپریشن ضربِ عضب‘‘یا انفرادی سطح پر جیسے دل کا آپریشن ۔ کاش کہ تیس سال سیاست کرنے کے بعد جناب کو اس آپریشن کے لیے لندن نہ جانا پڑتا بلکہ ملک کے اندر ہی یہ سب کچھ ممکن ہوتامگر ہمارے احوال پر توایسے کئی ’’کاش‘‘لائنیں لگائے کھڑے ہیں ۔ پانامہ قصے سے پہلے ملک کے ادارے پورے ملک سے کرپشن ختم کرنے ٗ ناجائز قرض خوروں کو ٹھکانے لگانے اورمالی بدعنوانیوں کے پہاڑ گرانے میں اورانیس سو پینتالیس سے اب تک کے مجرمین کو کٹہرے میں لانے کے لیے جو کچھ کررہے تھے اس سے کس نے ٗ کب ٗ کس کو روکا ہے ٗ یہ ساری کارروائیاں زوروشور سے جاری رکھئے اوارملک کرپشن سے پاک کیجئے۔۔۔مگر جناب والا ٗ پانامہ لیکس سے تو یہ بات سامنے آئی کہ یہ جو حسین نواز ٗ حسن نواز ٗ مریم نواز لوگ ہی ان کے نام کا اہم ترین حصہ جو ’’نواز‘‘ہے وہ تو ہمارے وزیر اعظم صاحب کا نام ہے تو پھر تاخیرکاہے کو بسم اللہ کرکے وزیراعظم صاحب جس پھرتے سے ٹی وی سکرین پر جلوہ گر ہوئے تو وجہ یہی تھی کہ کہ ان ماتھا بجا طور پر ٹھنکا تھا کہ معاملہ برخورداران تک محدود رہنے والا نہیں بلکہ اہم نوعیت کا ہے ۔ تب انیس سو اڑتیس سے لے کر ان بچوں کے دادوں ٗ پردادوں لکڑدادوں کی خوش حالیوں اورکامیابیوں کی حسین کہانی کا قصہ تفصیل سے بیان ہوتا ہے مگر جوں ہی بچوں کے ابوجان کا درجہ آتا ہے تو غیر متعلق افراد کی قوالی شروع ہوجاتی ہے گویا بچوں کے خزانوں کی خبر کا تعلق آباؤ اجداد سے جوڑنا ضروری مگر اپنے والد گرامی کو زیر غور لانا ’’حرام‘‘ٹھہرے۔دیکھئے حکمرانوں کے واقعات تاریخ کا میدان ہے اوربقول شاعر’’تاریخ کے کاندے پی جنازے ہیں کئی اور‘‘۔تاریخ بڑے بڑے کرداروں کے انجام سے آگاہ کرتی ہے۔ اپنے آپ کو خدا کہلانے والے فرعون کی عجائب گھر میں محفوظ لاش کیا پیغام دیتی ہے ۔ میوسی لینی اورمارکوس بھی انسان تھے مگر انجام کو پہنچے ۔آریہ مہر شہنشاہ ایران توڈھائی ہزار سالہ اقتدارکا وارث تھا مگر جہاد کو اترنے کے لیے روئے زمین کا کوئی گوشہ تیار نہ تھا۔فیلڈ مارشل ایوب خان کی عظیم الشان جرنیلی میں کس کو شک ہے مگر اپنے صاحب زادوں کے مال ودولت سے وابستہ قصوں نے ’’ایوب۔۔۔ہائے ہائے ‘‘کا منظر پیدا کیاتھا۔جاتی امرا کے عشروں پرانے شاہی خاندان کو جاننا چاہئے کہ ان کا سیاست میں آنا ایک محض اتفاق تھا کہ جیلانی وضیاء کے ہاتھوں میں طاقت کے سب وسائل تھے ۔ آپ کے بزرگوارم نے بہت اچھی ڈیل کی اوراس کے نتیجے میں بہت کچھ ہوچکا مگر یہ غلط فہمی ہے کہ اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کی سیاست پر گاڑے ہوئے پنجے ڈھیلے نہیں پڑسکتے۔جی نہیں ۔قوم نے بھٹو کی عقیدت میں اس کے خاندان اورپھر داماد شاہی کو مسلط کرنے کی تاریخی غلطی کی۔ باپ اوربیٹی نے سیاست اورتاریخ میں نام بنایا ٗ عزت کمائی اورلازوال ہوگئے مگر مملکت اسلامیہ جمہوریہ نہ بھٹو خاندان و نسل کے ہاتھوں رہن رکھی جاسکتی ہے اورنہ ’’خاندان شریفاں ‘‘کے بے شمار کرتبوں میں سے ایک پانامہ لیکس کا جادو سرچڑھ کر بول رہا ہے۔آپ کی تقریروں ٗ سرگرمیوں اوروزیروں ٗ مشیروں ٗ طبلچیوں ٗ قوالوں ٗ بھانڈوں وغیرہ کا ہر ایکشن پانامہ لیکس مسئلے کو اورزیادہ سنجیدہ بنا تا جارہا ہے ۔ تینوں نوازوں کے خزانوں کا حساب وکتاب پیش کرنا آپ پر فرض عین ہوچکا ہے۔ آپ کے وجود کے لیے دل کے آپریشن کی طرح قومی وجود کی صحت اورتسلسل کے لیے پانامہ قصے کاآپریشن کے سوالوں کی روشنی میں حل ہونا دیوار پر لکھی حقیقت ہے ۔ نوشتۂ دیوار نہ پڑھنا کبوتر کی آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے ۔ دیکھا جارہا ہے کہ کئی دن سے ٹی وی سکرینوں پر دل کے آپریشن نے قبضہ کررکھا ہے۔ کسی سادہ لوح شخص نے پوچھ لیا کہ ملک کے اندر اورباہر روز دل کے بڑے سے بڑے اپریشن ہوتے رہتے ہیں مگر یہ کیا ہنگامہ برپا ہے ٗ کیا یہ کسی مریض کے حق میں ’’ڈس کریمی نیشن ‘‘نہیں ہے ۔ توایسا کہنے والے کا یہ کہہ کر حشر کردیا گیا کہ یہ کسی عام مریض کی بات نہیں ۔ وزیر اعظم پاکستان کا قصہ ہے ۔ تو اس پر سادہ لوح شخص نے کہا کہ بھائیو یہی بات تو ایک عرصے سے کہی جارہی ہے کہ حسن ٗ حسین اورمریم کا باپ کوئی عام آدمی نہیں ٗ پس کروڑ انسانوں کے ملک کا وزیر اعظم ہے تو اس پر ’’ڈس کریمی نیشن ‘‘کا طعنہ نہیں دیا جاسکتا۔اگر وزیر اعظم کے لخت ہائے جگر کے مال ودولت کے ترقی پذیر خزانوں کی خبر آتی ہے تو بھوک افلاس کے زندہ نمونوں پر مشتمل قوم حیرت سے انگلیاں دانتوں میں دبا لیتی ہے کہ ہائیں یہ کیا ٗ قوم تو آئے روز قرض کے پہاڑ جیسے بوجھ کے نیچے دبی جارہی ہے اورخطِ غربت سے نیچے پہنچے جارہی ہے اورحکمرانوں کی اولادیں دیارِ غیر میں دولت کے انبار لگا رہی ہیں تو حکمران اپنے بچوں کے خزانوں کے ہمدرد ہیں فقر وفاقہ کی شکار قوم کے؟پانامہ لیکس کوئی چھوٹا موٹا مسئلہ نہیں ٗ یہ تو قائدِ اعظم کے پاکستان کے عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والے مظالم کے باآوازِ بلند اظہار کا نام ہے ۔ کیا اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کچھ خان دانوں ٗدامادوں ٗ سمدھیوں یا چند پیاروں کے لیے وجود میں آیا تھا۔جی نہیں ٗ ہر گز نہیں ٗ قوم نے زرداری جمہوریت کے کرتب دیکھ لیے کہ کاکوں اوربابوں نے کراچی کا کیا حشر کیااورسمدھی معیشت کے مزے لوٹ رہی ہے۔ ۔ پانامہ لیکس کے خزانوں کے مالکوں کے باپ کی اعلیٰ ترین حکمرانی کافی ہوگئی۔ جمہوریت تو قیادت بدلتے رہنے کا نام ہے۔ دنیا چار یا آٹھ سال سے زیادہ کسی لیڈر کو آزمانے کا وقت نہیں دیتی ۔ ویسے بھی پاکستان کی بانی جماعت کے کنونشن لگی ٗ کونسل لیگ ٗ قیوم لیگ ٗ قاسم لیگ ٗ پگارا لیگ ٗ ق لیگ ٗ ن لیگ کے بعد ابھی اورکئی حروفِ ابجد انتظار میں ہیں ۔ کوئی ع لیگ ٗ غ لیگ ٗ ط لیگ ٗ ف لیگ ٗ ل لیگ وغیرہ تاریخ کے آنے والے ابواب لکھنے کے لیے منتظر ہیں ۔ تاریخ کا عمل رک نہیں سکتا۔ ماؤں نے بلاول ٗ حمزہ ٗ مریم وغیرہ سے زیادہ لائق ٗ ذہین وفطین اوراعلیٰ صلاحیتوں والے جوہرِ قابل جننا بند نہیں کردیئے۔بھٹو اورشریف سیاست کو اب الوداع کرنے کا وقت آچکا ہے۔ مستقل لیڈر اقبال اورقائدِ اعظم ہیں اوران شاء اللہ رہیں گے۔باقی سب ایک ایک ٹینیور کے لیے آئیں اورآگے چلتے جائیں ٗ اگر ایسا ہوتا رہے گا تو حسین ٗ حسن اورمریم کے خزانوں کے سوالوں کے جواب وزیروں ٗ مشیروں ٗ رسہ گیروں کو نہیں دینے پڑیں گے۔بعض افراد کے چہرے دیکھتے ہیں۔انگریز کے گھوڑا پال سکیم کی طرح ’’غنڈہ پال سکیم ‘‘بھی حقیقت معلوم ہونے لگی ہے۔عمران خان کی خوش قسمتی کہ اوپر سے نیچے تک ہر حکمران نے اسے اپنا اصل متبادل سمجھ لیا ہے ۔مولانانے بھی اپنی تاریخ کو دھندلا کر شریف نوازی اختیار کرلی ۔اس پر کلمہ تاسف کے بغیر کیا کہا جاسکتا ہے ۔ گفتگو کا اختتام قوم کے نام اپیل سے کیا جاتا ہے کہ ووٹ کی حقیقت کو سمجھاجائے۔شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کا اہم ترین پیغام ہی یہ ہے کہ ووٹ کی حرمت پر حرف نہ آنے دینا۔اب واضح ہوتا ہے کہ تمام حکومتوں نے ایک زیر زمین چال کے ذریعے پاکستانی قوم کو جاہل رکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ اس کی سادگی کو اپنی اغراض کے لیے استعمال کیا جائے۔ووٹران پاکستان پانے ووٹ کو امانت سمجھتے ہوئے ملک کو حقیقی جمہوری معاشرہ بنائیں ’’سیاست میں عقیدت ‘‘کا رویہ ترک کیا جائے۔بھٹو سے محبت بجا مگر زرداری اورزرداری ازم کا بھٹو سے کیا تعلق۔اسی طرح قائد اعظم کی مسلم لیگ کہاں اوریہ نون وقاف والی لیگیں کہاں ۔ ووٹر اپنے ووٹ کا صحیح استعمال سیکھیں اورہر نئے منتخب حاکم پر کڑی نظر رکھیں کہ وہ امانت ودیانت سے اپنا آئینی وقت پورا کرے اورواپس گھر چلا جائے۔امریکہ وہ برطانیہ کی غلامی اپنانے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ وہاں دامادوں ٗ اولادوں اورسمدھیوں کی بنیاد پر سیاسی عقیدتیں قائم نہیں کی جاتیں۔سیاسی عقیدتوں کے چنگل میں پھنسانا ٗ سیاسی خاندانوں کی انتہائی قابل مذمت چال بازی سادہ لوح عوام کے جذبات کا کھلم کھلا استحصال ہے۔اقبال نے اس کا رونا یوں رویا کہ ’’الٰہی تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں ۔ کہ درویشی بھی ہے عیاری تو سلطانی بھی عیاری‘‘۔تو یہ ہے صحیح معنے میں ہوش میں آنے اورہوشیا ررہنے کا مقام۔اللہ ہی جانتا ہے کہ پانچ سال کی بجائے چارسال کا عرصہ اقتدار مقرر کرنا اب کیسے ممکن ہوتا ہے ۔ یہ انگوٹھا چھاپ قسم کا سیاسی ایوان تو مشکل سے ہی ایسا کرسکے گا۔ اس کے لیے خمینی انقلاب سے سبق لینا ہوگاکہ عوام طاقت بن کر آئیں اوروراثتی وخاندانی سیاست کا بت توڑ دیں۔ بقول حضرت علامہ اقبال:’’اگرچہ بت ہیں جماعت کے آستینوں میں۔ مجھے ہے حکمِ اذاں لا الہ الا اللہ‘‘۔

Views All Time
Views All Time
326
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کیسے مذاکرات اور کیسی مفاہمت | اکرم شیخ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: