Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اب کی بار پھر سیلاب

by جولائی 2, 2016 بلاگ
اب کی بار پھر سیلاب
Print Friendly, PDF & Email

Gurmaniیونائیٹڈ نیشن ڈویلپمنٹ پروگرام پاکستان کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے اعتبار سے پاکستان دنیا کے سب سے متاثرہ ملکوں میں سے ایک ہے۔ ان اثرات کے باعث ہی 2010کا تباہ کن سیلاب بھی آیاتھا جس کے اثرات ابھی تک باقی ہیں۔
پاکستان میں آزادی کے بعد سے اب تک اکیس بڑے سیلاب آچکے ہیں گزشتہ برس یعنی 2015 کا سیلاب اکیسواں سیلاب تھا۔
2010 کے ہولناک سیلاب کے بعد ضروری تھا کہ سیلاب سے بچنے کی تدابیرکرتے ہوئے کوئی لائحہ عمل تیار کیا جاتالیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ نہ نیے ڈیم بنانے کے لیے کوئی منصوبہ بندی کی گئی نہ ہی دریاؤں کے ساتھ بنائے گئے پانڈ ایریاز جودریا میں فلڈ کی صورت میں زاید پانی کو سٹور کرنے کے لیے بنائے گیے تھے کو قبضہ مافیا سے واگزار کرایا. حفاظتی بندوں کو مضبوط کیا گیا اور نہ ہی ۲۰۱۰ کے سیلاب کی جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں ملزمان قرار دیے گیے افراد کے خلاف کوئی کاروائی کی گئی بلکہ سیلاب کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے روایت ڈالی گئی. اس سال بھی پھر کچھ ایسا ہی ہونے جا رہا ہے. دریاۓ سندھ کا پانی روک کر اکٹھا کیا جارہا ہے اس سال زیادہ بارشوں کی پیشین گوئی ہےجب انڈیا وافر پانی ہمارے دریاؤں چھوڑے گا تو یه سپل ویز بھی کھول دیے جائیں گے
وسیب کے ڈی سی اوز کو کروڑوں روپے ایسے فنڈ کے طور بھیج دیے گیے ہیں جس کوئ آڈٹ نھیں ہوتا یہ بات بھی قابل غور ہے کہ وسیب کو ہر سال سیلاب ڈبوتا ہے جس کا مستقل حل ڈھونڈنے کی کوشش کبھی نہیں کی گئی
بیرونی امداد بھی پچھلے سال سے بند ہو چکی ہے اب قابل غور بات یہ ہے کہ اس بار تخت لاہور کے شریفوں نے ابھی سے وسیب کے لیےخزانے کے منہ کیوں کھول دیے حالانکہ میرے ضلع مظفر گڑھ میں ایک بارش بھی نہیں ہوئ اور ویسے بھی ابھی توپری مون سون کی بارشیں ہوئ ہیں مون شروع ہونے سے قبل ریلیف کیمپ اسٹیبلش ہو چکے ہیں جو انتہائ حیران کن ہے ورنہ تو پچھلے کئی سالوں سے متواتر آنے والے سیلابوں میں میڈیا پر سرائیکیوں کی فریادیں اور اپیلوں کے بعد برائے نام کیمپ صاحبوں کے فوٹو سیشن کے لیے لگائے جاتے ہیں اور دورے کے اختتام پر ریلیف کیمپس اور خیمہ بستوں کا بھی اختتام ہو جاتا ہے مگر اس بار دریائے سندھ اور چناب کی پٹی کے تقریبا تمام سرائیکی اضلاع میں ابھی سے درجنوں ریلیف کیمپس بنائے جا چکے ہیں اور مزید کام جاری ہے جیسا کہ نقل مکانی کرنے والوں کے لیے ٹریکٹر ٹرالیاں کرایے په لی جا چکی ہیں خوراک ادویات خیموں کے ٹینڈر ہو چکے ہیں جانوروں کے لیے تھائیلج چارہ اور حفاظتی ٹیکوں کے لئے ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں یعنی ہمیں ڈبونے کا سارا انتظام مکمل ہے بس اب مون سون کی بارشوں اور بھارت کے وافر پانی کو چھوڑنے کا انتظار ہے امید ہے بھارتی پانی اور زیادہ بارشیں ہونے کی وجہ حکومت کی خواہش پوری ہوگی ورنہ نسبتا کسی کمزور جگہ سے بند توڑا بھی جا سکتا ہے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے اس بار حکومت ۲۰۱۰ کی طرح کا اک اور سیلاب کیوں چاہتی ہے
اس سے اک تو کرپشن دوسرا پانامه سے توجہ ہٹانا تیسرا آرمی کو مصروف رکھنا اور چوتھا اگر حکومت کے خلاف تحریک شروع ہوتی ہے تو سیلاب کو بطور ڈھال استعمال کرنا مقصود ہے .لگ رہا ہے اس گندی گھٹیا سیاسی چال کے نتیجے میں ہر سال کی طرح اب کی بار بھی خدانخواستہ ہزاروں مظلوم لوگوں کو اپنی آنکھوں سے اپنے گھروندوں کو گرتا دیکھنا پڑے گا کھڑی فصلوں کی بربادی کا نقصان اٹھانا پڑے گا اپنے پیاروں اور مال مویشیوں کے مرنے کا دکھ سہنا پڑے گا جانوروں کی طرح زندگی بسر کرنا پڑے گی،پانی،بسکٹ کے ایک ڈبے،دودھ اور مٹھی بھرخشک چنوں کے لیے اپنی عزت نفس کا جنازہ خود ہی اٹھانا ہوگا
دعا ہے کہ ہم وسیب زادوں کے سب اندیشے غلط ثابت ہوں اور اللہ پاک ہمیں قدرتی آفات اور تخت لاہور جیسے عذاب سے بچائے آمین

Views All Time
Views All Time
599
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: