ایک تھی عائشہ ممتاز – محمد نورالہدیٰ

Print Friendly, PDF & Email

صحت انسانی جسم کے استحکام اور بہتر زندگی کیلئے از حد ضروری ہے ۔ انسان ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنا معیار زندگی صحتمند بنائے ۔ صحت کے معاملے میں ہم لوگ جہاں انتہائی حساس واقع ہوئے ہیں ، وہیں ہماری سادگی کہہ لیں یا بیوقوفی کہ ہم طعام گاہوں میں جانے سے پہلے ان کی ظاہری چمک دمک دیکھ کر خودساختہ اندازہ قائم کرلیتے ہیں کہ یہاں صفائی اور غذا کا معیار بہتر ہوگا ۔ حالانکہ جسمانی صحت کی خرابی کی سب سے بڑی وجہ غیر معیاری خوراک کا استعمال ہے ۔ 
یہ حقیقت ہے کہ باہر کا کھانا حفظان صحت کے کسی بھی اصول کو مدنظر رکھ کر بنایا ہی نہیں جاتا ۔ چاہے جتنا مرضی بڑا ور نیک نام ہوٹل ہو ، صفائی ستھرائی اور غذا کے معیار کے اعتبار سے کبھی بھی پورے نمبر حاصل نہیں کرپاتا ۔ دوسری جانب ہمارا مجموعی مزاج بھی یہ ہے کہ ہم دفاتر میں ہوں یا دکانوں پر ، مزدور ہوں یا کسی بھی معاشی چکر کا حصہ ہوں ، اکثر و بیشتر انہی ہوٹلوں ، کیفے ، موبائل دکانوں یا عارضی کھوکھوں سے مستفید ہوتے ہیں ۔ بیشتر لوگ مستقل ہوٹلنگ کرکے مستقل بیماریاں پال لیتے ہیں ، جس کا اثر ان کے پورے جسم پر ہوتا ہے ۔ یوں ان کے جینے کی مدت بھی کم ہوجاتی ہے ۔ یہ موبائل اور عارضی طعام گاہیں کھانوں میں زیادہ مارجن کمانے کے چکر میں غیرمعیاری مصالحہ جات اور دیگر ناقص اشیاء استعمال کرتی ہیں جن پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھا جاتا ۔ ان کا معیار تولنے کا کوئی پیمانہ ہمارے ہاں موجود نہیں ۔ اگر احتساب کیلئے قانون یا چیکنگ ٹیم وغیرہ موجود ہے بھی تو محض کاغذوں کی حد تک ۔ 
آج سے تقریباً ڈیڑھ سال قبل پنجاب فوڈ اتھارٹی نامی ادارے نے اس وقت اپنے وجود کا احساس دلانا شروع کیا جب ایک پی سی ایس آفیسر عائشہ ممتاز نے اس محکمہ کا چارج سنبھالا اور واضح کیا کہ عوام کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ عائشہ ممتاز انتہائی کم عرصہ میں طعام گاہوں کے مالکان پر یہ باور کراچکی تھیں کہ صرف وہی قانون کی گرفت سے بچ سکے گا جو حفظان صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے معیار دے گا ۔ عائشہ ممتاز نے ہر سطح کے ہوٹلوں ، کیفیز ، تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی کنٹینوں ، مارکیٹوں اور فیکٹریوں کے ہنگامی دورے کئے اور غیرمعیاری غذا تیار کرنے والوں کو جرمانے یا سیل کرنے کے اقدامات کئے اور ہر طرح کا سیاسی اثرورسوخ نظرانداز کیا ۔۔۔ اس جرات پر عائشہ ممتاز کو دبنگ لیڈی کا خطاب ملا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب دوسرے صوبوں کے عوام بھی ان جیسے کسی افسر کی راہ تکنے لگے ۔ 
یکم جون 2015ء سے 19 اکتوبر 2016 ء ، تقریباً ڈیڑھ سال تک دھوم مچانے کے بعد پھر یوں ہوا کہ عائشہ ممتاز رخصت پر چلی گئیں یا شاید انہیں بھیج دیا گیا ۔ ان دونوں میں سے جو بھی معاملہ ہے ،تاہم اتنا ضرور کہیں گے کہ اس حوالے سے جو چند افواہیں گردش میں ہیں ، اگر ان میں حقیقت ہے تو یہ عائشہ ممتاز جیسی اختیارات کا جائز استعمال کرکے گڈگورننس کو مستحکم کرنے میں اپنا حصہ ڈالنے والی بے باک آفیسر سے زیادتی ہے ، جس کا ازالہ بہرحال ارباب اختیار و اقتدار پر لازم ہے ۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ اپنے ڈیڑھ سالہ دور میں عائشہ ممتاز نے عوام کی آنکھیں کھول کر رکھ دیں ۔۔۔ ڈیڑھ سال قبل تک ہم کھوتوں کا گوشت کھاتے رہے اور ہمیں اس کا علم نہ تھا ۔ محترمہ نے محاذ سنبھالتے ہی گائے اور بچھڑے کے نام پر بکنے والا گوشت بے نقاب کیا ۔۔۔ حتیٰ کہ ہم تو اک عرصہ تک مردہ مرغیاں بھی کھاتے رہے ، عائشہ ممتاز نے سلاٹر ہاؤسز پر چھاپے مارے اور ہزاروں من مضر صحت گوشت تلف کروایا ۔ ہم معیار کی بجائے برانڈ کے پیچھے بھاگا کرتے تھے ، عائشہ ممتاز نے ہمیں اونچی دکانوں سے ملنے والے پھیکے پکوان نکال کر دکھائے ۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ ہمیں یہاں دوسروں کے بچے ہوئے کھانے دوبارہ گرم کرکے دئیے جاسکتے ہیں ، مگر ہم اک عرصہ تک ماموں بنتے رہے ۔۔۔ انہوں نے بڑے بڑے مافیاز کے ہاتھوں ملنے والے اس میٹھے زہر سے آگاہ کیا ۔ کے ایف سی ، ڈوسے ، سالٹ اینڈ پیپر ، یاسر بروسٹ ، نفیس دھی بھلے ، بٹ کڑاہی ، ندیم بوفے ، شیزان فیکٹری ، میکڈونلڈ ، گورمے ، الفضل ، چمن آئسکریم ، اس دبنگ لیڈی نے تو کسی کو بھی نہیں بخشا ۔ بظاہر صاف نظر آنے اور ہمیں روزمرہ خوراک فراہم کرنے والے ادارے اندر سے کس قدر گندے اور تعفن زدہ ہوسکتے ہیں ، ہمیں علم نہیں تھا ۔ ہمارے کھانوں میں ملاوٹ شدہ مرچیں اور گندے ٹماٹروں سے بننے والی کیچپ استعمال ہوتی تھی ، مگر عائشہ ممتاز نے بڑے بڑے ناموں کو واٹ لگائی اور ان کا کچا چٹھا کھول کر ہمارے سامنے لائیں ۔ ہم ناقص دودھ پی رہے تھے جس میں کپڑے دھونے والاپاؤڈر استعمال کیا جاتا تھا ، لیکن اس تجربہ کار خاتون خانہ نے ہمیں بیماریوں سے بچانے کے جتن کئے ۔ گندے تیل میں تلی اشیاء کھاکر ہم واہ واہ کرتے تھے ، لیکن عائشہ ممتاز کی آگہی مہم نے ہمیں خواب غفلت سے بیدار کیا ۔۔۔ خوراک کے نام پر زہر کا دھندا کرنے والے ان اداروں کو پروڈکشن والی جگہوں پر صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات ، چوہوں بلیوں کے راج ، جانوروں کا ان دھلے برتن چاٹنے ، ورکرز کی گندگی اور غیرمعیاری خوراک کی فروخت پر سیل اور بھاری جرمانے کرنے سے ہم سٹیٹس کو کے حامل لوگوں کو تسلی تھی کہ خدا کے ڈر سے نہ سہی کم از کم فوڈ اتھارٹی کے چھاپوں کے ڈر سے ہی یہ لوگ ہماری صحت اور پیسوں کی حفاظت کی ضمانت دیں گے ۔ 
عائشہ ممتاز ڈیڑھ سال تک محکمہ فوڈ اتھارٹی کی ڈائریکٹر رہیں اور اس دوران انہوں نے تقریباً 30 ہزار جگہوں پر چھاپے مارے جن میں سے غیرمعیاری خوراک فراہم کرنے والے تقریباً 3500 ہوٹل ، بیکریاں ، کینٹینیں ، فیکٹریاں وغیرہ سیل کیں ۔ یہاں کے 464 مالکان گرفتار ہوئے جبکہ 200 لوگوں کو جرمانے کئے گئے ۔ 25 ہزار لوگوں کو غیرمعیاری خوراک دینے یا بنانے پر نوٹس جاری ہوئے ۔۔۔ 114,873 کلو بیمار گوشت اور 9,781 غیرمعیاری یا مردہ چکن تلف کروایا ۔ ناقص و ملاوٹ شدہ دودھ کے خلاف مہم میں 5517 گاڑیاں چیک کیں اور تقریباً 303,146 لیٹر غیرمعیاری دودھ ضائع کیا جبکہ 234 گاڑیاں قبضے میں لیں ۔ ہزاروں کلو چپس اور کیچپ ، 51940 کلو مرچیں ، 5845 کلو چائے کی پتی ، 2220 کلو بیکری آئٹمز ، 41320 لیٹر غیر معیاری تیل ، 53718 لیٹر سوڈا واٹر ، 1000 کلو ناقص نمکو ، 2 ہزار کلو مربع جات ، 4380 کلو سوسز ، 80,150 کلو ڈیری ملک اور ، 21620 کلو دیگر اشیاء پکڑیں اور تلف کروائیں ۔ 
عائشہ ممتاز اس لحاظ سے خوش قسمت افسر رہی ہیں کہ انہیں ایک حد تک آزادانہ کام کرنے دیا گیا ورنہ ایسے افسروں کی راہ میں تو فوری روڑے اٹکانا شروع کردئیے جاتے ہیں ۔ عائشہ ممتاز کے بعد اب محکمہ فوڈ اتھارٹی کا چارج رافعہ حیدر نے سنبھالا ہے اور بظاہر وہ بھی ویسی ہی متحرک دکھائی اور دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں ۔ بلاشبہ سرکاری ملازمتوں میں ایسے تیز رفتار افسران بیوروکریسی کیلئے ناقابل ہضم ہوا کرتے ہیں ، لیکن محکمہ فوڈ کے ذمہ داران کھل کر کھیل رہے ہیں ۔ دعا ہے کہ عائشہ ممتاز کی صورت میں رافعہ حیدر بھی ویسی ہی تندہی ، ایمانداری اور غیرجانبداری کے ساتھ اپنے فرائض منصبی کا حق ادا کرتی رہیں اور طعام گاہوں اور غذا بنانے والی فیکٹریوں کے مالکان کو سکھ کا سانس نہ لینے دیں اور کھانے پینے کے جو ادارے یا کمپنیاں عوام کو خوراک کی سہولتیں فراہم کررہی ہیں ، ان پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے اور خوراک کے نام پر زہر کا دھندا کرنے والوں کا قلع قمع کرنے اور ہمیں آگہی فراہم کرنے کا عمل یونہی آزادانہ طور پر جاری رہے ۔ وگرنہ غیرمعیاری خوراک کی وجہ سے کوئی فرد جب بیمار ہوکر ہسپتال پہنچے گا تو کم ازکم ایک مرتبہ عائشہ ممتاز کو یاد ضرور کرے گا اور والدین اپنے بچوں کی فرمائش پر انہیں ٹوکتے ہوئے ایک تھی عائشہ ممتاز والی کہانی ضرور سنایا کریں گے ۔

Views All Time
Views All Time
316
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   وسائلِ سفر،وسیلہء ظفر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: