Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

گر ہوسکے تو مداوا کیوں نہ کریں ہم کسی کا | محمد نورالہدیٰ

گر ہوسکے تو مداوا کیوں نہ کریں ہم کسی کا | محمد نورالہدیٰ

میں روزانہ ٹریفک سگنل پر کھڑے اس بوڑھے کو دیکھتا جو کانپتے ہاتھوں سے موٹر سائیکل سواروں کے لئے دستانے ، ماسک اور ڈسٹنگ والا کپڑا فروخت کررہا ہوتا تھا ۔ میں اکثر اس کی مدد کی غرض سے کوئی نہ کوئی چیز خرید لیا کرتا تھا ۔ کچھ عرصہ سے سوچ رہا تھا کہ اس کے گھر کے حالات معلوم کروں کہ وہ کیوں کانپتے بدن کے ساتھ یوں روزی کمانے پر مجبور ہے ۔ میں اس کی مستقل مدد کا اہتمام کرنا چاہتا تھا ۔ مگر افسوس کہ مجھے یہ موقع نہ مل پایا۔ وہ بوڑھا اپنے تمام دکھوں سمیت دوسری دنیا کا باسی بن چکا تھا ۔ کاش کہ کسی کو اس کے گھر کا علم ہوتا تو میں اس کی فیملی کیلئے کچھ کرپاتا ۔
تمہید کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنے آس پاس کتنے ہی مجبور و بے کس لوگ نظر آتے ہیں جو خودداری کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے بلکہ محنت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
آپ اہم شاہراؤں سے گزریں تو کہیں کوئی بوڑھی خاتون یا لڑکی ہاتھ میں پین ، مارکر وغیرہ بیچتے دکھائی دیتی ہے ۔ تو کہیں کوئی نوجوان ہاتھ میں ڈیجیٹل تسبیح پکڑے ایک ایک فرد کے پاس خریدنے کی امید لئے جاتا دکھائی دیتا ہے ۔ کہیں کوئی مجبور باپ ہاتھ میں غبارے پکڑے صبح سے شام تک چند روپوں کیلئے کبھی اس چوک تو کبھی اس چوک پر کھڑا دکھائی دیتا ہے ۔۔۔ اور کہیں چھوٹے چھوٹے بچے ڈرائینگ بک پکڑے آپ سے خریدنے کی منتیں کررہے ہوتے ہیں ۔ ایسے ہی کئی کردار ہمیں روز مرہ بنیاد پر اپنے ارد گرد دکھائی دیتے ہیں اور سب کی کہانی تقریباً ایک جیسی ہی ہوتی ہے ۔ یہ وہ غیور لوگ ہیں جن کے گھروں میں چولہا تو جلتا ہے لیکن بمشکل ایک وقت کی روٹی میسر آتی ہے ۔ وہ تن تو ڈھانپتے ہیں لیکن ان کے بچے اپنے جیسے دیگر بچوں کے وسائل کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ کیا ان کا احساس محرومی دور کرنا ہماری معاشرتی ذمہ داری نہیں؟
اللہ کا صد شکر کہ اس نے ہمیں بہتر بنایا ہے ۔ اچھے سے نوازا ہے ۔ سرسجدہ شکر بجالانے کیلئے اس رب کے آگے بے اختیار جھک جاتا ہے ، جس نے نعمتیں عطا کررکھی ہیں اور ہمیں یہ ذمہ داری دے رکھی ہے کہ وسائل سے محروم لوگوں کیلئے جس قدر زیادہ ہو سکے ، کیا جائے ۔ بلاشبہ ہمیں اس شکر کے جواب میں ایسے لوگوں کیلئے کچھ عملی اور ایسا کرنا ہے جو وقتی نہیں بلکہ مستقل ہو۔ یہ لوگ محنتی ، خدا کے دوست اور پسندیدہ ہیں ، اس لحاظ سے کہ یہ دیگر لوگوں کی طرح بھیک بھی مانگ سکتے تھے ، لیکن انہوں نے عزت کی روٹی کھانا گوارہ کیا ۔ وگرنہ ہمیں ہر جگہ پر بھیک منگے بھی دکھائی دیتے ہیں ، جن میں سے بیشتر عادی بھکاری ہوتے ہیں ۔ ایسوں کی وجہ سے اہل لوگوں کا بھی حق مارا جاتا ہے ۔ بلاشبہ ان کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے ۔
پاکستان میں اس وقت دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے سینکڑوں این جی اوز کام کررہی ہیں جبکہ ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی مزید فاؤنڈیشنیں بھی مسلسل کھل رہی ہیں ۔ لوگ ان کے ذریعے مظلوموں کی خدمت کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ انفرادی طورپر بھی ضرورت مندوں کی ذمہ داریاں اٹھائے ہوئے ہیں۔
ہمیں روزانہ اپنے ارد گرد ایسے ہی کتنے لوگ دکھائی دیتے ہیں جو پیٹ کا ایندھن بجھانے کیلئے دن کو کنواں کھودتے اور رات کو پانی پیتے ہیں ۔ روکھی سوکھی پر بخوشی اکتفا کئے ہوئے ہیں ۔ معاشرے کے خوشحال طبقات کی طرح ان کی بھی خواہش ہے کہ وہ ایک بھرپور زندگی سے لطف اندوز ہوسکیں اور زمانے کا عضوِ معطل نہ بنیں ۔ ان حالات میں ایسے افراد اور ادارے جو محروم طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے کام کررہے ہیں ، انسانیت کی خدمت کے حقیقی ضامن ہیں ۔
ماہِ رمضان آیا چاہتا ہے ، ہر سال کی طرح اس سال بھی بیسیوں فلاحی و رفاہی ادارے آپ کے دروازے پر دستک دیں گے ۔ اپنی خدمت کی کاوشیں گنوا کر زکوٰۃ و عطیات کیلئے اپیل کریں گے ۔ یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ کیسے اور کس کا ساتھ دینا ہے ۔ آپ اداروں کے ذریعے بھی کسی کے دکھوں کا مداوا کرسکتے ہیں اور انفرادی طور پر بھی اپنے ارد گرد سے مستحق افراد کا کھوج لگاسکتے ہیں ۔ صرف خدمت کے مصارف چن لیں ، کہ آپ کس کس مد میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں ۔
ہم اداروں سے ہٹ کر بھی انفرادی طور پر بہت کچھ کرسکتے ہیں ۔ آپ سڑک کنارے کھڑے اشیاء بیچتے کسی ضعیف سے اس کی مجبوری پوچھیں جو اس عمر میں بھی اسے سردی ، گرمی کی پرواہ کئے بغیر مشقت پر مامور کئے ہوئے ہے ، اس کا دست و بازو بن جائیے ۔ سڑک کنارے اور مارکیٹوں میں بچوں کی کتب ، ٹریفک سگنلز پر اخبارات ، پھولوں کے گجرے ، سستے کھلونے اور دیگر چھوٹی موٹی اشیاء بیچنے والوں سے ان کی مدد کی غرض سے ، خوامخواہ خریداری کر لیجئے ۔ گلی محلوں اور بازاروں میں بوٹ پالش کی آوازیں لگانے والوں کو انکار مت کیجئے ۔ گاڑیوں کے شیشے صاف کرنے والوں کو مت دھتکارئیے ۔ یہ تمام لوگ محترم ہیں کہ چور ، ڈاکو یا پیشہ ور بھکاری بن کر ہمیں اذیت نہیں دے رہے بلکہ ہماری آسانی کا سبب بن رہے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے روزگار کا اہتمام کیجئے ، بیواؤں کو سلائی مشین لے دیجئے ۔ غریبوں کو سبزی ، فروٹ وغیرہ کی ریڑھی لگوا دیجئے ۔ بیماروں ، مفلسوں کو روزی کا اڈہ کھول دیں ، اس میں سامان کا بندوبست کردیجئے ۔ کسی فیملی کے راشن کا مستقل اہتمام کردیجئے ۔ چائے خانوں ، ہوٹلوں ، یا ورکشاپوں ، ملوں اور فیکٹریوں وغیرہ میں بھی ہمیں زیادہ تر کم عمر بچے ہی اپنی زندگی کی گاڑی کھینچتے دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ معصوم بچے معاشرے کی بے بسی و بے کسی کی عکاسی ہیں ۔ ان کی تعلیم اور سرپرستی کا اہتمام کیجئے ۔ خود نہیں کرسکتے تو غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ ، الخدمت فاؤنڈیشن ، سویٹ ہومز ، آغوش ، ایس او ایس ویلج، ایدھی ہومز جیسے مستند ادارے ہمارے پاس موجود ہیں ، ان کے ساتھ جڑ جائیے ۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو بیماری سے شفا کیلئے اپنا سب کچھ خرچ کرچکے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھیں ۔ خود کچھ رکھ سکتے تو شوکت خانم ، ثریا عظیم ہسپتال ، گھرکی ہسپتال ، سندس فاؤنڈیشن جیسے مراکز صحت ہمارا سرمایہ ہیں ، ان کا ساتھ دیجئے ۔
ہم جانتے ہیں کہ معاشرے کے برے اثرات اور جرائم سے بچ کر بہتر زندگی کا راستہ چننے والے ان کم وسیلہ لوگوں پر سرمایہ کاری ہمارے ہی فائدہ میں ہے ۔ اگر اپنی راہ میں آنے والے ہر کم وسیلہ فرد پر ہم دس ، دس روپے بھی خرچ کریں تو زیادہ سے زیادہ 100 روپے بھی روزانہ کے نہیں لگتے ۔ اتنے پیسے تو ہم محض جوس کا ایک گلاس پینے پر اڑا دیتے ہیں ۔ ہمیں اس پر افسوس نہیں ہونا چاہئے کہ یہ ہمارا صدقہ گردانا جائے گا ، جو درحقیقت ہماری بھی حفاظت و بقا کا ضامن ہے ، اور اس کا اجر آخرت میں جمع ہورہا ہے۔
کہتے ہیں کہ کسی قوم کو پرکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ جہاں اس کا غریب اور نادار لوگوں کے ساتھ رکھا گیا رویہ اور برتاؤ ہوتا ہے ، وہیں اس کی کامیابی کے پیچھے حساس دل رکھنے والوں کا بھی ہاتھ ہوتا ہے ، جو ضرورت مندوں کی ضروریات پوری کرتے اور اپنے دامن میں کامیابیاں سمیٹتے ہیں ۔ جب کوئی معاشرہ اپنے مجبور و بے کس لوگوں کو خودانحصار بنانے کی جانب توجہ دے ، تو یہ اس کے مہذب ہونے کی دلیل ہے ۔ متوسط اور غریب طبقے کے لوگوں کی زندگی بہتر کرنے کیلئے ہر فرد کا انفرادی سطح پر کردار ہی قوم میں یک جہتی اور عروج لائے گا ۔ حالات ایسے ہی تبدیل ہوتے ہیں ، غربت ایسے ہی کم ہوتی ہے ، حقیقی تبدیلی بھی یونہی آتی ہے ۔ضرورت صرف ذمہ داری محسوس کرنے کی ہے ، وگرنہ احساس تو ہم خوب رکھتے ہیں ، فقط ذمہ داری ادا کرنے سے کتراتے ہیں ۔
بلاشبہ عطیات کے دیئے جلیں گے اور چراغ سے چراغ روشن ہوگا تو ہی ملک سے غربت اور جہالت کا خاتمہ ممکن ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم احساس کو خود میں سے مرنے نہ دیں۔ لہذا آئیے اپنی زکوۃ و عطیات کے ذریعے محروم طبقات کے آنسو پونچھیں اور ان کے دکھوں کا مداوا کریں ۔
پلکیں ہیں بھیگی کسی کی ، رخسار ہے نم کسی کا
گر ہوسکے تو مداوا ، کیوں نہ کریں ہم کسی کا

Views All Time
Views All Time
134
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: