Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

فوج پر تنقید، ایک عوامی مشاہدہ ۔ نور درویش

by فروری 15, 2017 بلاگ
فوج پر تنقید، ایک عوامی مشاہدہ ۔ نور درویش
Print Friendly, PDF & Email

ہمارے ہاں ایک بہت عمومی رویہ پایا جاتا ہے جس میں فوجی قیادت یا اسٹبلشمنٹ کی کسی پالیسی پر تنقید کو یا تو ملک دشمنی قرار دے دیا جاتا ہے اور یا فوج دشمنی۔ اِس میں بہت بڑا کردار اُن عناصر کا بھی ہے جو فوج پر تمسخرانہ حد تک بے ربط تنقید کرتے آئے ہیں لیکن دوسری جانب یہ بھی حقیقیت ہے کہ ہم فوجی قیادت کو نہ ہی جائز تنقید سے بالاتر سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی ایسا کرنا ملک دشمنی کہلاتا ہے۔ میں نے اس مضمون میں مختلف ادوار میں پائے جانے والے مختلف بیانیوں اور عمومی مشاہدے کا ذکر کیا ہے۔ میرے صاحبِ علم دوست اور اُستاد اپنی رائے سے آگاہ بھی کریں اور تصحیح بھی ضرور کریں۔

جنرل پرویز مشرف پر جہاں مختلف وجوہات کی وجہ سے تنقید ہوتی ہے تو وہیں اُنکے بارے میں ایک عمومی رائے یہ بھی پائی جاتی ہے کہ اُنکے دورِ حکومت میں نہ صرف تکفیری تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا بلکہ اُنکے خلاف کاروائیاں بھی ہوئیں۔ یہ عمومی تاثر ہے، اِس میں یقینا پسِ پردہ حقائق بھی موجود ہونگے۔ البتہ میں ذکر عمومی مشاہدے اور بیانئے کی کر رہا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو پرویز مشرف پر یہ تنقید کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے کہ اُنہوں نے تکفیری دہشتگرد جماعتوں یا اُنکے ہمدردوں کی حمایت کی اور ظاہر ہے اِسکی مضبوط وجوہات موجود ہیں۔ بلکہ اُنہیں عوام کا ایک بہت بڑا طبقہ اب بھی اِن تنظیموں کا سخت مخالف تصور کرتا ہے۔ یہ بھی حقیقیت ہے کہ پرویز مشرف کے دور میں کشمیر اور افغانستان سے متعلق ہمارے روایتی طریقہ کار اور موقف میں تبدیلی دیکھنے کو ملی۔ البتہ بلوچستان کے حوالے سے اُن کا دور کسی صورت مختلف نہ تھا جس میں اکبر بگٹی کا قتل سب سے اہم واقعہ تھا۔

لیکن جب ہم جنرل حمید گُل یا جنرل ضیاء الحق کا ذکر کرتے ہیں تو عمومی رائے اور بیانیہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کو تو خیر دہشتگردی کے اِس ناسور کا ماخذ کہنا غلط نہ ہوگا البتہ جنرل حمید گل کو بھی اُنکی اپنی منشاء کے مطابق ایک ایسے کردار کے طور پر ہی یاد رکھا جایگا جس کا اوڑھنا بچھونا سٹریٹجک ڈپتھ اور اِس سے متصل ہر وہ عنصر رہا جسکے اثرات آج ہم خیبر سے بلوچستان تک دیکھتے ہیں جبکہ سیاست کے میدان میں بینظیر مخالف اتحاد بنوا کر اُسکی فنڈنگ کرنے جیسے کارہائے نمایاں بھی اُن کا ہی طرہ امتیاز ہیں۔ کالعدم تنظیموں سے اُنکی اُنسیت کا یہ عالم تھا اپنی زندگی کے آخر تک دفاعِ پاکستان کونسل کے سٹیج پر حافظ سعید، احمد لدھیانوی، منور حسن، طاہر اشرفی اور ایک بار ملک اسحق کے ہمراہ کھڑے نظر آئے۔ آج جب کہ وہ اِس دنیا میں موجود نہیں تو اُن کا بیٹا اِس سٹیج پر نظر آتا ہے اور کالعدم اہلسنت ولجماعت کے دفاع میں خصوصیت کے ساتھ بیان دیتا ہے۔ جنرل ضیاء اور حمید گل، دونوں کی حمایت کرنے والا طبقہ آپ کو عموما پرویز مشرف کی مخالفت کرنا نظر آئے گا، یہ بھی ایک دلچسپ پہلو ہے جسکی وجہ سمجھنا مشکل نہیں۔

اِسکے بعد ہم جنرل کیانی کا ذکر کرتے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جنرل کیانی کے دور میں چند کالم نگار کس طرح سے اُنکا خاکہ ایک ادب دوست، کم گو، بے ضرر اور انتہائی بے ضرر انسان کی صورت میں کھینچا کرتے تھے۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ پپلز پارٹی کی حکومت اور بالخصوص آصف زرداری کے ساتھ اُنکی کافی کشمکش رہی۔ لیکن سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ دہشتگردی کے پیچھے وردی والی اصطلاح اگر میں نے سب سے زیادہ استعمال ہوتے دیکھی تو وہ جنرل کیانی کا ہی دور تھا۔ جنرل کیانی اور کالعدم لشکر جھنگوی کے سابق سرغنہ ملک اسحق کا ایک مکالمہ بھی زباں زدِ عام ہوا جس میں شیعوں پر وقتی طور پر ہتھ ہولا رکھنے کے جواب یہ دیا گیا تھا کہ ہم آپ کے بچے ہیں جناب پر یہ ہم نہیں کر سکتے۔ سرکاری پہرے میں فائرنگ کی پریکٹس کرتے ہوئے ملک اسحق کی ویڈیو بھی اِسی زمانے میں سامنے آئی تھی۔ جنرل کیانی کا دور کالعدم جماعتوں کو نئی زندگی بخشنے والے دور کے نام سے جانا جایگا۔ یہ وہی عرصہ تھا جس میں شیعہ نسل کشی اپنے عروج پر رہی، کویٹہ اور کراچی نے اپنی تاریخ کے بدترین سانحوں کا سامنا کیا۔ بلوچستان میں ایف سی اور اسکے سربراہ پر سخت سوالات اُٹھائے گئے۔ کالعدم لشکر جھنگوی و سپاہ صحابہ کو مسلح بلوچ علحدگی پسند گروہوں کے خلاف بطور پراکسی استعمال کرنے کی باتیں بھی بار بار ہوتی رہیں۔

لوگ اس دور میں ہونے والی دہشتگردی کی ذمہ داری پپلز پارٹی پر عائد کرتے ہیں، لیکن حققت کچھ اور تھی۔ دہشتگردی کی پیچھے کون تھا، یہ ہم سب جانتے تھے۔ بس کوئی بولتا تھا اور کوئی نہیں اور کوئی حسبِ معمول یقین نہیں کرتا تھا۔ ا ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جو جنرل کیانی کے دور سے متعلق ہیں۔ یہی جنرل کیانی تھے جنکے ریٹائیر ہوتے ہی انکے بھائی کی کرپشن کے قصے سامنے آگئے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اِس دور میں کشمیر اور افغانستان کے حوالے سے ہم واپس اپنی روایتی پالیسی کی جانب پلٹنا شروع ہوئے۔

پھر جنرل راحیل شریف کا دور آتا ہے۔ بوٹ پالش، موچی اور پالشیئے جیسی اصظلاحات اسی دور سے منسوب ہیں۔ راحیل شریف کو عوامی سطح پر بہت پزیرائی ملی جسکی وجہ سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد ضربِ عضب کا آغاز تھا۔ اُنکے بارے میں عموی رائے یہی رہی کہ وہ دہشتگرد گروہوں کے خلاف سخت کاروائیاں کر رہے ہیں۔ البتہ اِس دور میں بھی کالعدم تنظیمیں آزادانہ کام کرتی رہیں لیکن جنرل کیانی کے دور کے برخلاف تنقید کا ھدف نون لیگ رہی جسکی بنیادی وجہ خود نون لیگ تھی جس کے کالعدم تنظیموں سے تعلقات ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ مگر جنرل کیانی کے دور کی مثالیں ذہن میں رکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ اس تمام کھیل میں ہماری اسٹبلشمنٹ کا کوئی عمل دخل نہیں، دراصل حقائق سے منہ موڑنے اور آدھا سچ بولنے کے مترادف ہے۔ ایسا نتیجہ صرف اُس صورت میں نکل سکتا ہے اگر آپ نواز شریف کو اینٹی اسٹبلشمنٹ مان لیں، جو کہ میں نہیں مان سکتا۔

جنرل راحیل شریف کے دور میں ہمیشہ یہ تاثر دیا گیا کہ انکے اور نواز شریف کے مابین سخت اختلافات موجود ہیں۔ سرل المیڈا کا معاملہ سامنے آیا۔ بڑے بڑے دانشور یہ فیصلہ سناتے نظر آئے کہ نواز شریف اور راحیل شریف میں اختلافات شدت اختیار کرچکے ہیں۔ بہت سوں نے تو مارشل لاء تک کی نوید سنا دی۔ لیکن کچھ لوگ تھے جو یہ مسلسل بتا رہے تھے کہ نواز شریف اور راحیل شریف کے مابین سب کچھ سیٹ ہے۔ وہ یہ بھی بتا رہے تھے کہ یہ نواز یافتہ کمرشل لبرل لابی کا حصہ سرل المیڈا وہی صحافی ہے جو پپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں جنرل کیانی کو مداخلت کرنے اور مارشل لاء لگانے کے مشورے اپنے آرٹیکلز میں دیا کرتا تھا۔

افغانستان اور بالخصوص کشمیر کے حوالے سے جو پالیسی چینج مشرف کے دور میں آیا تھا اور جنرل کیانی کے دور میں جو دوبارہ پرانی پالیسی کی جانب گامزن ہوا تھا، جنرل راحیل کے دور میں وہ تبدیلی مکمل ہوگئی اور ہم ٹھیک اُسی جگہ پر پہنچ گئے جہاں جنرل مشرف سے پہلے ہم ہوا کرتے تھے۔
جنرل راحیل رخصت ہوئے اور اُنکی رخصتی کے ساتھ ہی ہمیں سعودی فوجی اتحاد اور لاہور میں الاٹ شدہ زمین کی خبریں ملنا شروع ہوگئیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ زمین سانحہ پشاور کے کچھ ہی روز بعد الاٹ کی گئی تھی۔ یہاں یہ لکھنا بھی برمحل ہوگا کہ فوجی قیادت پر تنقید کو ملک دشمنی یا منافقت سے تشبیہ دینے والے ایک بار خود ہمت کرکے سانحہ پشاور میں قتل ہونے والے بچوں کے والدین سے کیوں نہیں مل لیتے؟ اُمید ہے کہ آپ اُن والدین پر بھی ادھورا سچ بولنے اور منافقت کا الزام نہیں لگا دینگے۔

اب جنرل باجوہ صاحب نے عہدہ سنبھالا ہے۔ اُنکے بارے میں کیا رائے قائم ہوتی ہے، اس کا فیصلہ وقت بالکل اُسی طرح کردے گا جیسے اُس نے اُن سے پہلے آنے والے حضرات کے بارے میں کیا۔

سوشل میڈیا پر ہر دوسرے شخص کو پکڑ پکڑ کر اُسے منافق یا آدھا سچ بولنے کی طعنے دینے والے دوست ایک نظر خود پر اور اپنے رویہ پر ضرور ڈالیں۔ یہاں نہ کوئی غدار ہے اور نہ ہی کوئی فوج دشمن۔ یہ ہمارا اپنا ادارہ ہے۔ سرحدی محاذوں سے لے کر اندرونی محاذوں پر لڑنے والا فوجی ہمارے سر کا تاج ہے، لہذا جنرل کیانی جیسے کسی جرنیل پر تنقید کو کسی کیپٹن اسفندیار، لیفٹینٹ یاسر عباس، کپٹن (ر) احمد مبین یا ان جیسے دیگر شہداء پر تنقید مت سمجھیں۔ کیونکہ کوئی وردی دہشتگردوں کے سامنے بھی ہوتی ہے، پیچھے نہیں!!!

Image result for captain asfandyar

Views All Time
Views All Time
1156
Views Today
Views Today
3
یہ بھی پڑھئے:   شوگر مافیا کا عروج اور کپاس کا زوال - سعد الرحمٰن ملک
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: