Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

پاکستان ریلویز – رفتار، خدمت، حفاظت ۔ نور درویش

by نومبر 3, 2016 بلاگ
پاکستان ریلویز – رفتار، خدمت، حفاظت ۔ نور درویش
Print Friendly, PDF & Email

لاہور سے جی ٹی روڈ پر سفر کرتے ہوئے گوجرانوالہ شہر سے پہلے سڑک کا ایک ٹکڑا آیا کرتا تھا جو کئی برسوں یا شاید دہائیوں تک زیرِ تعمیر رہا۔ ٹریفک اُس ٹکڑے پر پہنچ کر دائیں مڑ کر کچھ دیر کیلئے سڑک کے دوسرے حصے کو جوائین کرتی تھی، دو طرفہ ٹریفک چلتی تھیا اور پھر کچھ دور جاکر گاڑیاں واپس اپنی طرف آجاتی تھیں۔

یہ ٹکڑا اتنا مشہور ہوگیا تھا کہ سہیل احمد عرف عزیزی نے اپنے سٹیج ڈراموں میں کچھ بار اس ٹکڑے کا ذکر کرتے ہوئے حکومت کو یوں شرم دلائی کہ ہم بچپن سے بڑے ہوگئے لیکن لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے اچانک سجّے ہتھ مڑ کر واپس کھبّے ہتھ آنا نہ بدل سکا۔ خیر اب تو شاید عرصہ ہوا یہ ٹکڑا بن چکا ہوگا۔

ایسی ہی باتیں میں ریلوے کے بارے میں بچپن سے سنتا اور دیکھتا آیا تھا۔ والد صاحب چونکہ ریلوے میں ہی ملازم رہے اس لئے ٹرین کا سفر میری زندگی کا اہم حصہ رہا ہے۔ خواب میں بھی ٹرینیں دیکھتا ہوں اکثر۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ٹرین کے حادثوں پر دل زیادہ افسردہ ہوجاتا ہے۔

پاکستان میں ٹرین کا سفر کرنے والے حضرات جانتے ہی ہوں گے کہ چلتے چلتے ٹرین اگر خلافِ توقع کسی جنگل میں رک جاتی تھی یا کسی چھوٹے سے سٹیشن پر کھڑی ہوجاتی تھی تو لوگوں کے منہ سے بے اختیار نکلتا تھا کہ "کوئی کراس ہوگا”، مطلب دوسری طرف سے ٹرین آرہی ہوگی۔ پھر کچھ دیر میں مخالف سمت سے ٹرین گذر جاتی تھی اور رکی ہوئی ٹرین دوبارہ چلنا شروع کردیتی۔ ایسا اِس لئے ہوتا تھا کیونکہ پاکستان بننے کے بعد چھ دہائیوں یعنی 68 برسوں تک ہم لاہور سے کراچی جیسے اہم اور مصروف روٹ کو ڈبل ٹریک نہ کر سکے تھے۔ لاہور رائیونڈ سیکشن اور کراچی لودھراں سیکشن ڈبل ٹریک سیکشنز تھے اور یہ دونوں ہمیں انگریز سے ورثے میں ملے۔ اسکے بعد ہم نے چھ دہائیوں تک سنگل ڈبل ڈبل سنگل کرکے ہی گذارا کیا۔

پاکستان ریلویز کی تاریخ میں ہونے والے حادثات میں بھی اِس سنگل ڈبل کشمکش کا بہت عمل دخل ہے۔ اکثر انجن ڈوائیورز نے سگنل نظر انداز کیا اور دو ٹرینوں کو آپس میں تصادم ہوگیا اور کبھی غلطی سگنل یا کانٹے والی یا سٹیشن ماسٹر کی تھی جس نے غلط سگنل ڈاون کیا یا ڈرائیور کو غلط اطلاع دی۔

پاکستان ریلویز میں حادثوں کی تاریخ کے چند حادثے ایسے ہیں جو اپنی ہولناکی کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ اِن میں گھوٹکی کے مقام پر ۲۰۰۵ میں ہونے والا حادثہ سرفہرست ہے جن میں بیک وقت تین ٹرینیں تصادم کا شکار ہوئیں، غالبا ۵۰۰ افراد اِس حادثے میں جاں بحق ہوئے۔ اِسی طرح نوے کی دہائی میں سانگی کے مقام پر ہونے والا ہولناک حادثہ جس میں ساڑھے تین سو مسافر جاں بحق ہوئے۔ اِسی طرح پشاور سے آنے والی تیز رو ٹرین کا حادثہ بھی پاکستان ریلویز کی تاریخ کے خوفناک حادثوں میں سے ایک ہے۔

بہرحال ۱۲ سال پہلے لاہور کراچی مین لائین کو مکمل ڈبل ٹریک کرنے کا پراجیکٹ شروع کیا گیا، جو فنڈز کی کمی کی وجہ سے ایک پنسجر ٹرین یا مال گاڑی کی طرح ہانپتا کانپتا بلاخر اس سال کے آغاز میں پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔  اُمید ہے اب سنگل ڈبل والی کشمکش ختم ہوچکی ہوگی۔

میرے والد صاحب بتاتے ہیں کہ بھٹو دور تک پاکستان ریلوے ایک منافع بخش ادارہ ہووا کرتا تھا، نہ صرف منافع بخش بلکہ قومی بجٹ میں اپنا حصہ بھی ملایا کرتا تھا۔ لیکن بھٹو دور کے بعد اس کی تنزلی کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ رکنے کا نام نہ لیا۔ جتنی حکومتیں آئیں، سب نے دل کھول کر ریلویز کو لوٹا۔ نوے دہائی میں نواز شریف کی حکومت تھی تو اچانک تمام ٹرینوں کے رنگ بدل دئے گئے، کسی پر نیلا روغن کردیا گیا تو کسی پر بھورا تو کسی کی شکل سنہری کردی گئی۔ ہم جیسے لوگ تو بہت خوش ہوئے کہ گندی میلی بوگیوں کی قسمت چمک گئی لیکن میاں صاحب کے جاتے ہی معلوم ہوا کہ اُن کے کسی عزیز کی پینٹ فیکٹری میں ایکسپائیرڈ شدہ پینٹ بھگتانا تھا، لہذا ریلوے کو بیچ دیا گیا۔

مشرف دور میں برگیڈئیر جاوید اشرف قاضی اور چائنہ کے انجنز کیا کہانی تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ یہ بھی انوکھے انجن تھے جن کی وجہ سے پلیٹ فارمز کو توڑ کر انجن کے کے آنے کی جگہ بنانی پڑی۔

والد صاحب یہ بھی بتایا کرتے تھے کہ ریلویز کی اصل آمدنی فریٹ ٹرین سے ہوا کرتی ہے، مسافر ٹرینوں سے نہیں لیکن ہمارے ہاں منصوبہ بندی کے تحت ریلوے کی فریٹ ٹریفک کو نقصان پنچایا گیا تاکہ ٹرک ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ سیاستدانوں کا کام چل سکے۔ غالباََ ان میں غلام احمد بلور بھی شامل ہیں جو خود متعدد بار ریلوے کے وزیر رہے۔ جن کے ذمے صرف ریلویز کی تباہی میں مزید اضافہ کرنا ہوا کرتا تھا۔

کل کراچی میں ٹرین کا ہولناک حادثہ ہوا۔ خبروں کے مطابق غلطی شاید انجن ڈرائیور کی ہے۔ البتہ یومِ تشکر اور سپریم کورٹ کے تذکروں کے درمیان ٹرین حادثے کو ذکر ایک تکلف کے طور پر ہی ہوتا رہا۔ البتہ میں نے دن میں کئی بار بی بی سی کی ویب سائیٹ پر ٹرین حادثے کی تصویریں دیکھیں، جس چیز سے آپ کی جذباتی وابستگی ہو، اُسے تباہ حال دیکھ کر دل بہت دکھتا ہے۔ چاہے پاکستان ریلوے ہو اور یا حادثے کا شکار ٹرین۔

ریلوے
Views All Time
Views All Time
670
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   خدا کی بے آواز لاٹھی - پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: