Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ملنگ مزاج عراقی، دنیا کی سب سے فراخ دل قوم ۔ نور درویش

by اکتوبر 26, 2016 بلاگ
ملنگ مزاج عراقی، دنیا کی سب سے فراخ دل قوم ۔ نور درویش
Print Friendly, PDF & Email

ایک تحقیق کے مطابق مسلسل خون ریزی، بیرونی جارحیت، اندورنی خانہ جنگی اور خلفشار کے علاوہ مدتوں صدام حسین جیسے آمر کے جبر میں رہنے کے باوجود عراق آج بھی دنیا کا سب سے فراخ دل ملک ہے۔

ایک بین الاقوامی تنظم سی اے ایف کے ورلڈ گوئنگ انڈکس 2016کے مطابق عراق کے لوگ اجنبیوں کے لیے سب سے زیادہ مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ 

ویسے تو یہ فراخ دلی پورا سال دیکھنے کو ملتی ہے لیکن ماہِ صفر میں یہ اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ خلوص، مہمان نوازی، کشادہ دلی، اخلاق اور عقیدت کے ایسے مناظر شاید ہی کہیں اور دیکھنے کو ملیں۔ امام حسین علیہ السلام نے کربلا کی زیارت کو آنے والوں کی مہمان نوازی کی وصیت بنی اسد کو کی تھی لیکن اس وصیت پر ہر عراقی لبیک کہتا نظر آتا ہے۔ شاید یہ اُسی وصیت کی تاثیر ہے کہ برسوں کی آمریت، خون ریزی اور جبر کے باوجود عراقیوں کی فراخ دلی میں کمی نہ آسکی۔ 

اِس سے زیادہ سخاوت اور کیا ہوگی کہ نجف سے پیدل کربلا جانے والے اجنبیوں کو راستے میں جگہ جگہ مقامی لوگ رات ان کے گھر میں بسر کرنے کی درخواست کرتے رہیں، اُنکے طعام کا بندو بست کریں، اُنکے میلے کپڑے دھو کر دیں اور رخصت ہوتے وقت اُںکی پیشانی چوم کر مخصوص عراقی لہجے میں "عینی” کہہ کر الوداع کہیں۔  سڑک کنارے جگہ جگہ مقامی رہائشیوں کی طرف سے عارضی قیام و طعام کا بندوبست بھی ہوتا ہے۔ ٹینٹ سے بنی ان قیام گاہوں کو موکب کہا جاتا ہے۔

راستے میں چھوٹے بچے زبردستی آپ کے جوتے اور چپل صاف کرنے پر اصرار کرتے ہیں اور جوان، آپ سے التجا کرتے ہیں کہ اُنہیں آپکے پیر گرم پانی سے دھونے کی اجازت دی جائے۔ ایک صاحب بتا رہے تھے کہ کئی لوگ تکلف اور مروت کے باوجود اِن پرخلوص لوگوں کر منع نہیں کرپاتے لیکن پھر انہیں اپنے جوتے صاف کرتا دیکھ کر زار و قطار روتے رہتے ہیں۔ کیا امیر اور کیا غریب، ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ زائرین کی خدمت میں سب پر سبقت لے جائے۔ کربلا کے رہائشی اربعین پر اپنے گھر زائرین کی خدمت کیلئے کھول دیتے ہیں، جو ان کی دعوت نہ مانے اُس سے ناراض بھی ہوجاتے ہیں۔

کئی مقامات پر سڑک پر طویل دسترخوان بچھے نظر آتے ہیں، لوگ اپنے سروں پر بڑے بڑے تھال میں تبرک رکھے نظر آتے ہیں۔ اِن سب کا اصرار ہوتا ہے کہ آپ انکو خدمت کے موقع سے محروم نہ کریں۔

میں نے اربعین اور اربعین واک سے متعلق یا پڑھا ہے، یا ویڈیوز میں دیکھا ہے اور یا اُن لوگوں سے سُنا ہے جو یہ سعادت حاصل کرکے آچکے ہیں۔ خواہش ہے کہ کبھی مجھے بھی یہ سعادت مل سکے۔ کوشش کروں گا کہ زائرینِ امام حسین علیہ السلام کی خدمت کرنے والے اِن عراقیوں کے ساتھ مل کر میں بھی تھوڑی خدمت کرسکوں لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں ایسا نہیں کر پاوں گا، یہ سب عراقیوں کا ہی طرہ امتیاز ہے، یہ وصیتِ امام حسین علیہ السلام کا اثر ہے۔ 

صدام حسین کی آمریت کے خاتمے کے بعد سے ہر سال اربعین اور اربعین واک کی لاتعداد تصاویر سامنے آتی ہیں لیکن ایک تصویر ایسی ہے، جو شاید عراقیوں کی فراخ دلی، خلوص اور عقیدت کا مکمل احاطہ کردینے کیلئے کافی ہے۔ اِس بوڑھی غریب عراقی عورت کے پاس زائرین کی خدمت کیلئے اگرچہ زیادہ سامان نہیں تھا، لیکن اسکے پاس جو کچھ تھا، یہ اُسے سڑک کنارے لیکر بیٹھ گئی، تاکہ آنے والے زائرین کی تواضع اور خدمت کرسکے۔ اِس عورت کے چہرے پر انتظار اور خلوص کے ملے جُلے تاثرات کو دیکھتے جائیں اور ملنگ مزاج عراقیوں کو دعائیں دیتے جائیں۔

temp

 

یہ بھی پڑھئے:   ایران احتجاج ختم، سبق کیا ملا؟

عشق فقط یک کلام

حسین علیہ اسلام

 

Views All Time
Views All Time
1694
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: