Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

آغاز محرم اور ناصبیت کی روایتی بے چینی

Print Friendly, PDF & Email

اعلانیہ ناصبیت ہو یا چھپی ہوئی ناصبیت، ان دونوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اکثر آپ کو یہ کہتے نظر آئیں گے کہ  واقعہ کربلا کو شیعوں نے جذباتی انداز سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جس کی وجہ سے سُنی بھی اس سے متاثر ہوگئے۔ ورنہ اصل حقائق (بقول ان حضرات کے) صرف ان لوگوں کو معلوم ہیں اور ان حقائق کا بنیادی محور عموماََ یزید ملعون کو کور دینا یا اُسے بے گناہ ثابت کرنے کے علاوہ عموماََ واقعہ کربلا کو ایک سیاسی مسئلہ، ایک حادثہ یا دو خاندانوں کی لڑائی ثابت کرنا ہوا کرتا ہے۔ جاوید احمد غامدی اور اُن کے جملہ فالورز بھی آپ کو یہی لائن لیتے نظر اآئیں گے۔ بعض "محقق” تو اپنی تحقیق کے ذریعے امام حسینؑ کی غلطی (معاذ اللہ) کی نشاندہی بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ جاوید احمد غامدی اور اُن کے فالورز کا ایک انوکھا طرزِ عمل یہ بھی ہے کہ یہ لوگ مناقبِ اہلیبیتؑ یا مصائب اہلیبیتؑ پر انتہائی "محققانہ” طرزِ عمل اختیار کرتے نطر اآئیں گے لیکن صحابہؓ کے معاملے پر ان کی تحقیقاتی صلاحیتیں نسبتاََ ماند پڑ جائیں گی۔ جبکہ حیرت انگیز طور پر اُموی ملوکیت کیلئے بھی ان کے قلم خصوصی محنت کرتے نظر آئیں گے۔

یہ سب کرتے ہوئے ان دونوں گروہوں، یعنی اعلانیہ اور چھپی ہوئی ناصبیت سے تعلق رکھنے والے لوگ شیعوں پر مسلسل تنقید ضرور کرتے ہیں جنہوں نے ان کے مطابق واقعہ کربلا کو "غیر ضروری” طور پر زیادہ جذباتی انداز میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

لیکن یہ باتیں عقلی اور جذباتی معیار پر بھی پورا اترتی ہیں؟ آپ ایک لمحے کیلئے اُن تمام باتوں کو فراموش کردیں جو شیعوں نے بیان کیں یا حتیٰ کہ  جنہیں سُنی علماء کی اکثریت بھی بیان کرتی ہے، یوں کہہ لیں کہ جن باتوں پر شیعہ اور سُنی دونوں متفق ہیں۔ اور اُس کے بعد صرف اس ایک بات پر غور کر لیں:

یہ بھی پڑھئے:   حقیقت امام حسین رضی اللہ عنہ (دوسرا حصّہ) |محمد عامر حسینی

کیا نواسہ رسولﷺ کو بمعہ اہل و عیال و انصار، کربلا کے مقام پر، پانی پر پابندی لگا کر، پیاسا قتل کیا گیا یا نہیں؟ بھول جائیں شیعوں کی جذباتی باتوں کو۔ بس اتنا جواب دے دیں کہ کیا یہ قتل کرنے والے مسلمان تھے یا نہیں؟ مت یقین کریں شیعوں کی لکھی مقاتل پر یا تاریخ کی کتابوں پر۔ بس اتنا بتا دیں کہ حسینؑ کا ایک شیرخوار جسے برصغیر میں علی اصغرؑ اور عرب میں عبداللہ الرضیحؑ کہا جاتا ہے، کربلا میں قتل ہوا یا نہیں؟ رضا ثاقب مصطفائی، طاہر القادری اور طارق جمیل جیسے سنی مولویوں کی بھی مت مانیں جو روتے ہوئے کربلا کر ذکر کرتے ہیں۔ بس اتنا بتا دیں کہ حسینؑ کربلا میں قتل ہوئے تھے یا نہیں؟ کوئی ہے محقق جو ان باتوں کو بھی جھٹلا سکے؟ بغیر جذباتی ہوئے بس اتنا بتا دیں کہ کیا نواسہ رسولؑ بیدردی سے قتل ہوئے؟

کسی محقق دوراں میں جرات نہیں جو کہہ سکے کہ نہیں حسینؑ اور خانوادہ رسالت ﷺ کو مسلمانوں نے عالمِ مظلومیت میں قتل نہیں کیا۔ یہ سب ہوا ہے اور اسی کرہ ارض پر ہوا ہے۔ مسلمانوں کے ہاتھوں ہوا ہے۔

معاملہ شیعوں کی جذباتی باتوں کا ہے ہی نہیں۔ جذباتیت بھی وہیں پیدا ہوسکتی ہے جہاں جذباتیت پیدا ہونے کا سبب موجود ہو۔ کوئی ہستی ہو حسینؑ جیسی کہ جس کا قتل انسان کو یوں جھنجوڑ کر رکھ دے کہ "اِدھر نامِ حسینؑ آیا، اُدھر آنسو ہوئے جاری” جیسی کیفیت طاری ہوجائے۔

 ویسے بھی اگر معاملہ صرف شیعوں کی جذباتی باتوں کا ہی ہوتا تو شیعہ تو اور بھی بہت کچھ جذباتی انداز میں بیان کرتے ہیں، مان لیتے وہ بھی؟

بات صرف اور صرف اتنی ہے کہ کربلا میں جو خنجر حسینؑ کی گردن پر چلایا گیا، اس کا گھاؤ اسلام کے چہرے سے کبھی بھی مٹ نہیں سکے گا۔ یہ انتظام خود حسینؑ نے کیا ہے۔ شیعہ جب کہتے ہیں کہ حسینؑ نے کربلا میں چھپے ہوئے چہرے ہمیشہ کیلئے بے نقاب کردیے تو کوئی جذباتی بات نہیں کرتے، بلکہ حقیقیت بیان کرتے ہیں۔ کوئی لاکھ کوشش کرلے، کربلا چھپ نہیں سکتی۔ یہ سوال پوچھتی رہے گی کہ کیا نواسہ رسولؑ کو مسلمانوں نے قتل کیا؟

یہ بھی پڑھئے:   فیس بک اور ادبی تنقید

 اعلانیہ و چھپی ہوئی ناصبیت تحقیق کرکرکے صفحے اور اپنے منہ کالے کرتے رہیں گے لیکن سوال اپنی جگہ قائم رہے گا۔ "حسینؑ کشتہ شد” کی آواز انہیں چین نہیں لینے دے گی۔ یہ لاکھ "حقیقت پسندی” اور جذبات سے دور رہنے کا دکھاوا کرکے خود کو اسلام کی اصل شکل ہونے کا دعویدار کہتے رہیں، کربلا انہیں ہر دور میں بے نقاب کرتی رہے گی۔

کربلا اگر واقعی ایک حادثہ اور سیاسی مسئلہ تھا تو آئیں، ذرا کسی اور حادثے میں ایسی جذبانیت پیدا کرکے دکھا دیں جو چودہ صدیوں بعد بھی ماند نہ پڑ سکی؟ ہم بھی تو دیکھیں کہ معاملہ صرف شیعوں کی جذباتی باتوں کا ہے یا واقعی کچھ مقناطیسیت ہے جس نے سوائے ناصبیت کے، ہر انسان کو بلا تفریقِ مکتب و مذہب، کربلا سے ایسے جوڑ کر رکھ دیا ہے جیسے کوئی بچہ اپنی ماں سے چمٹ جاتا ہے۔

Views All Time
Views All Time
724
Views Today
Views Today
3

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: