Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

جنگلی کُتے

Print Friendly, PDF & Email

میں اکثر یوٹیوب پر وائلڈ لائف کی ویڈیوز کھول کر بیٹھ جاتا ہوں، کسی ایک ویڈیو سے شروع کرتا ہوں اور پھر کتنی ہی دیر یہ ویڈیوز دیکھتا رہتا ہوں۔ کچھ ویڈیوز بہت دلچسپ ہوتی ہیں اور کچھ بہت ہولناک۔ پہلے جب کبھی بھی میں کسی شیر یا چیتے کو کسی ہرن کا تعاقب کرنے کے بعد اُسے مار کر چیر پھاڑ کر کھاتے ہوئے دیکھتا تھا تو مجھے ان درندوں سے شدید نفرت محسوس ہوتی تھی، کئی بار دل ہی دل میں سوچتا تھا کہ اگر میں وہاں ہوتا تو اس ہرن کو بچانے کیلئے ان درندوں کو گولی مار دیتا۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ میں سمجھ گیا کہ فطرت کا نظام ہے، یہ خوراک کا سائیکل ہے۔ اسی کو جنگل کا قانون کہا جاتا ہے۔ جانور جب بھوکا ہوگا تو جو شکار سامنے نظر آئے گا، اُسے چیر پھاڑ ڈالے گا۔ یہ ویڈیوز تو کچھ دہائیوں سے ہی بننا شروع ہوئی ہوں گی، جبکہ فطرت کا یہ نظام کب سے ایسے ہی چل رہا ہے۔

میں نے یہ بھی جان لیا کہ شیر اور چیتے وغیرہ، شکار کو کھانے سے پہلے اُسے گردن سے دبوچ کر مار دیتے ہیں اور اس کے بعد اُسے کھاتے ہیں۔ شاید اس لئے کہ کسی جاندار کو زندہ کھاجانا بہت تکلیف دہ ہوگا۔ پھر میں نے جنگلی کتوں کی کچھ ویڈیوز دیکھیں جنہیں دیکھ کر میں لرز اُٹھا، دل کو بہت بار تسلی دی کہ فطرت کا نظام ہے لیکن دل مطمئن نہ ہوا۔ یہ جنگلی کتے غول کی شکل میں شکار کو گھیرتے ہیں اور اُسے قابو کرنے کے بعد اُسے کچھ اس انداز سے چیرپھاڑ کر اور بھنبھوڑ کر رکھ دیتے ہیں کہ وہ درد سے چیختے ہوئے، اپنے جسم کے ٹکڑے پھٹی ہوئی آنکھ سے ہوتے دیکھتا ہے۔

میں نے جنگلی کتوں کے ایک غول کو ایک بہت معصوم ہرن کو زندہ چیرتے پھاڑتے دیکھا تو بے اختیار میرا دل چاہا کہ میں ان درندوں کو جان سے مار ڈالوں۔ لیکن جو لوگ وائلڈ لائف کی یہ ویڈیوز بنانے جاتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ وہ وائلڈ لائف میں مداخلت کرنے نہیں بلکہ صرف اسے ریکارڈ کرنے جاتے ہیں۔ یہ سب ان کی زندگی کا روزمرہ کا حصہ ہے۔
ان جنگلی کتوں کی ویڈیوز دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ اگرچہ یہ سب فطرت کا نظام ہے، جنگل کا قانون ہے اور خوارک کا سائیکل ہے لیکن شاید درندوں میں ان جنگلی کتوں سے زیادہ سفاک، ظالم اور خوفناک درندہ اور کوئی نہیں ہوگا۔

ہرن جب تک زندہ تھا، اُس کی آنکھیں خوف و دہشت سے بھری ہوئی تھیں اور جب وہ مر گیا تب بھی اُس کی آنکھیں کھلی رہیں۔ لیکن آج میں نے اشرف المخلوقات یعنی انسان کی ایک معصوم بچی کی تصویر دیکھی، جسے دیکھنے کے بعد میرے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا کہ میں اُن جنگلی کتوں کو سب سے زیادہ سفاک قرار دوں جو بھوک مٹانے کیلئے شکار کو زندہ ہی چیر پھاڑ ڈالتے ہیں یا ان انسان نما درندوں کو جو ہوس مٹانے کیلئے ایک چھ سال کی معصوم بچی سے زیادتی کرتے ہیں اور پھر مار کر جھاڑیوں میں پھینک جاتے ہیں۔ اس بچی کی آنکھیں بھی اُس ہرن کی طرح کھلی ہوئی تھیں جو جنگلی کتوں کا نشانہ بنا تھا۔
مجھ میں وہ تصویر شئیر کرنے کی ہمت نہیں ہے جسے کل سے بار بار شئیر کیا جارہا ہے کیوں کہ اُس معصوم بچی کی کھلی ہوئی آنکھیں دیکھ کر مجھے اُس ہرن کی بے بسی یاد آتی ہے جو جنگلی کتوں کے غول کے ہتھے چڑھا تھا جو بہرحال فطرت کا نظام ہے۔
یہ تصویر جتنی بار میرے سامنے آئی، اتنی بار دل چاہا کہ آگے بڑھ کر اس معصوم بچی کو گود میں اُٹھا لوں، باکل اُسی طرح جیسے جنگلی کتوں میں گھرے اُس معصوم ہرن کو بچانے کو دل چاہا تھا۔

Views All Time
Views All Time
654
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   غالب اقبال اور ہیڈ اینڈ شولڈرز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: