Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

تھپڑ

Print Friendly, PDF & Email

خاتون اینکر کو ایف سی اہلکار نے تھپڑ دے مارا۔ پورا میڈیا بار بار اس فوٹیج کو "صحافت پر حملہ” کی ہیڈنگ کے ساتھ دکھا رہا ہے۔ مختلف صحافی، انسانی حقوق کے نمائندے اور خود وہ خاتون اینکر تبصرے کرتے نظر آرہے ہیں۔ 
یہی میڈیا تھا جس نے پورا دن "بسمہ مر گئی” کی خصوصی نشریات چلائیں تھیں جب ایک شیر خوار بچی بلاول بھٹو کے سیکیورٹی پروٹوکول کی وجہ سے ہسپتال نہ پہنچ پائی تھی۔
اور یہی میڈیا تھا جس نے مہمند ایجنسی میں 12 سے 15 سال کے بچوں کے طالبان ہاتھوں مسجد میں قتل کی خبر بلیک آؤٹ کی، یہی میڈیا تھا جس نے کراچی میں خواتین کی مجلس عزا پر تکفیریوں کے حملے پر سرسری خبر نشر کر کے اپنا فرض ادا کردیا۔ اس حملے میں ایک معصوم بچہ جاں سے گیا اور متعدد معصوم زخمی ہوکر ہسپتالوں میں سہمے ہوئے نظر آئے۔ حد تو یہ ہے کہ "ہر خبر پر نظر” کا دعویدار چینل ایکسپریس نیوز یہ بتانا ہی بھول گیا کہ یہ حملہ ایک مجلس میں ہوا اور زخمی و قتل ہونے والے شیعہ ہیں۔ قاتل و مقتول کی شناخت چھپانے کی روش جو ہماری قومی پہچان بن چکی ہے۔
تھوڑی دیر کیلئے فرض کیجے کہ خاکم بدہن کسی بڑے شہر کسی کالج بس میں دن دہاڑے پانچ خواتین کو قتل کردیا جاتا؟ مجھے یقین ہے ہم سب دہل کر رہ جاتے، ٹویٹر پر ٹرینڈ چلتے اور میڈیا خصوصی نشریات چلاتا۔ البتہ کوئٹہ میں پانچ شیعہ ہزارہ کو بھری مسافر بس میں شناخت کیا گیا اور پھر گولیاں مار کر قتل کردیا گیا لیکن یہ سب ہمیں جھنجوڑ نا پایا۔ آخر کیوں؟
یہ صرف چند مثالیں ہیں دوہرے معیار کی۔ 
آج کل شاکر شجاع آبادی سے متعلق سوشل میڈیا پر بہت کچھ لکھا گیا۔ سرائیکی خطے کا یہ منفرد شاعر بذات خود بے حسی کا شکار ہے۔ میں سرائیکی سپیکنگ نہیں لیکن میرا جھنگ کا ایک دوست مجھے شاکر کی شاعری سناتا رہتا تھا، کہتا تھا مجھے جو غم لگے ہوئے ہیں شاکر کی شاعری ان غموں کو بیان کرتی ہے۔ میں اس کے غم سن لیتا تھا، محسوس نہ کرپاتا تھا۔ میرا وہ دوست ایک کلام بہت سنایا کرتا تھا جس کا ایک مقطع مجھے یاد رہ گیا۔ شاکر شجاع آبادی نے یہ کلام کسی اور پیرائے میں لکھا ہوگا لیکن شعر اور کلام کی خوبصورتی اور تاثیر یہی ہوتی ہے کہ پڑھنے والے کو اپنے دکھ کا عکس اس میں نظر آجائے۔ 
مجھے اس مقطع میں اس اجتماعی بے حسی کا عکس نظر آیا جس کا ذکر میں نے کیا۔ شاکر کے شعر میں اس اجتماعی بے حسی پر کیے جانے والے شکوے کا عکس نظر آیا۔
۔
بس شاکر فرق معیاد دا ہے
اج میں رونداں، کل توں رو سیں

Views All Time
Views All Time
1545
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سلمان حیدر اور میرے مشترکہ دُکھ - عمران بخاری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: