Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

امیّ جی کے نام ۔ نور درویش

by May 14, 2017 بلاگ
امیّ جی کے نام ۔ نور درویش
 کچھ ہفتوں پہلے میری امی جی کی سالگرہ تھی۔ بدقسمتی سے غمِ روزگار کی وجہ سے میں گھر سے دور تھا۔ لہذا اُنہیں فون کیا تاکہ سالگرہ مبارک کہہ سکوں۔ ذہن میں تھوڑی بہت لفظ اکٹھے کرکے سوچا تھا کہ سالگرہ مبارک کےبعد یہ سب کہوں گا لیکن ہوا کچھ یوں کہ امی نے میری خیریت پوچھنا شروع کردی، کبھی تسلی دینا شروع کردی کہ پریشان نہیں ہونا چاہئے، اللہ مالک ہے، میں تمہیں امام رضاؑ کی ضمانت میں دیتی رہتی ہوں، مشکل وقت گزر ہی جاتا ہے۔ ایک عدد نصیحت بھی کردی کہ تم سیاست پر مت لکھا کرو۔ امی نے اتنی دعائیں دے دیں کہ میں بھول ہی گیا کہ میں نے اُنہیں اُنکی سالگرہ کی مبارکباد کیلئے فون کیا تھا۔
اپنی سالگرہ پر دوسروں کو دعائیں دینے والی ہستی صرف ماں کی ہی ہوسکتی ہے۔ کہیں پڑھا تھا کہ ماں کی آواز میں اُسکی اولاد کیلئے سکون و اطمینان کا سامان ہوتا ہے، چاہے اولاد کسی بھی عمر میں کیوں نہ پہنچ جائے۔ ویسے تو میری امی نے مجھے ہر پریشانی اور مشکل کا سامنا کرنا بہت اچھی طرح سکھایا ہے، لیکن کبھی کبھی ہمت ٹوٹ بھی جاتی ہے، بالخصوص جب میں گھر سے دور ہوں اورکسی پریشانی کا شکار ہوجاوں۔ ایسے میں امی کو فون کرلیتا ہوں، صرف اُن کا یہ جملہ سننے کیلئے کہ “میں ہر وقت دعا کرتی رہتی ہوں”۔ آدھی پریشانی اُن کی آواز سُن
کر ختم ہوجاتی ہے۔
ویسے آپس کی بات ہے کہ جب امی سامنے ہوں تو جان بوجھ کر ہمت ہار جاتا ہوں، بقول اُنکے کہ “ہولنا شروع کردیتا ہوں”۔ اطمینان ہوتا ہے کہ امی ہیں تو کیا مسئلہ ہے۔
میں نے پہلی انٹرن شپ کی تو صبح کا گیا شام تک واپس آتا تھا۔ پہلے دن واپس آیا تو اتنا تھکا ہوا تھا کہ آتے ہی بمشکل کھانا کھایا اور سونے کیلئے چلا گیا۔ امی اور ابو کو بتایا بھی نہیں کہ پہلا دن کیسا رہا۔ ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ محسوس ہوا کہ کوئی خاموشی سے میری پیشانی کا بوسہ لیکر چلا گیا ہے، ہلکی سی آنکھیں کھول کر دیکھا تو امی تھیں۔ دروازے کے پاس ابو کھڑے تھے۔ امی اب تک یہی سمجھتی ہونگی کہ میں سو رہا تھا۔
میں نے جب پہلی بار حصولِ رزق کیلئے کچھ سالوں کیلئے ملک چھوڑا تھا تو ائیرپورٹ پر ضبط کرتے کرتے بھی امی سے گلے مل کر رو پڑا تھا۔ زندگی کا مشکل ترین سفر تھا۔ جہاں گیا تھا، وہاں رہنا بھی کوئی اتنا آسان نہ تھا۔ فیس بک، وٹس ایپ، سکائپ، یہاں تک کے موبائل فونز کا استعمال بھی اتنا عام نہ تھا۔ ای میلز پر رابطہ ہوتا تھا لیکن خط لکھنے کا رواج ابھی باقی تھا۔ میں جتنا عرصہ گھر سے دور رہا، امی کبھی کبھی مجھے خط لکھا کرتی تھیں۔ نصیحتوں اور دعاوں سے بھرے ہوئے خط، والد صاحب کے پیغامات سے بھرے خط، نانی مرحومہ کے میرے لئے کیئے گئے استخاروں سے بھرے خط ۔ کبھی چھوٹے بھائی سے ای میل پر آسانی سے پک جانے والے کھانوں کی ترکیبیں بھی ای میل کروادیتی تھیں۔ سالگرہ پر کارڈ بھیجنا کبھی نہ بھولتی تھیں۔ کبھی کبھی میں اُس نے ضد کرتا تھا کہ مجھے خط لکھٰیں، شاید اُن کے ہاتھ سے لکھے لفظ دیکھ کر سکون ملتا تھا۔
پردیس میں پہنچتے ساتھ ہی مجھے ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں بھیج دیا گیا۔ بہت طویل سفر تھا اور میں اکیلا۔ دل چاہ رہا تھا سب چھوڑ چھاڑ کے واپس چلا جاوں۔ دل برداشتہ ہوکر امی کیلئے بھائی کو ایک ای میل کردی۔ امی نے جواب میں وہی لکھا جو شاید ایک ماہرِ نفسیات کو لکھنا چاہئے تھا۔ ماں سے زیادہ بچے کی نفسیات کون سمجھ سکتا ہے۔ میرا سفر سکون سے گزر گیا تھا۔ امی نے کچھ ایسا نہیں لکھا تھا، بس یہی کہا تھا کہ “تمہیں گھومنے پھرنے کا ویسے ہی بہت شوق ہے، بس یہ سمجھنا کہ گھومنے پھرنے جارہے ہو۔ زیادہ مشکل ہو تو اپنا ملک تو ہے ہی، واپس آجانا۔ اور مولا غازی عباسؑ تو ہر وقت مدد کرتے ہی ہیں”۔
یہ تمام خط، کارڈز اور ای میلز کے پرنٹ آوٹس میرے پاس محفوظ ہیں۔ کبھی کبھی نکال پر پڑھ لیتا ہوں۔ ویسے بھی اب ان سب کی جگہ فیس بک، وٹس ایپ اور موبائل فونز نے لے لی ہے۔
مجھے بچپن میں ویڈیو گیم کھیلنے کی بہت زیادہ عادت ہوگئی تھی۔ جیب خرچ کے پیسے ختم ہوجاتے تھے تو امی کے پرس سے چوری کیا کرتا تھا۔ عادت بڑھتی گئی اور چوری بھی بڑھتی گئی۔ ویڈیو گیم کھیلنے کی وجہ سے بہت پٹائی ہوتی رہی لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ امی نے اُن کے پرس کے غائب ہونے والے پیسوں سے جان بوجھ کر صرفِ نظر کیے رکھا۔ کیونکہ کئی بار مجھے ایسا شک ہوا کہ انہوں نے مجھے دیکھ لیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ امی سے ایسا اس لئے کیا تھا تاکہ کہیں میں عادت سے مجبور ہوکر کسی اور کےپرس پر ہاتھ نہ صاف کردوں۔ آج اگر میں تصور کروں کہ امی نے مجھے روک دیا ہوتا تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں پیسے چوری کرنے کا کوئی متبادل طریقہ ڈھونڈتا۔ لہذا ویڈیو گیم کی عادت چھڑوانے کیلئے اُن کی کوشش بھی جاری رہی اور چوری کی عادت کو بگڑنے سے روکنے کی کوشش بھی۔
بہت سال گزر گئے، میں نے ملازمت شروع کردی تو ایک روز “اقرارِ جرم” کرنے کا خیال آیا لہذا امی کو بتایا کہ میں نے بچپن میں آپ کے پرس سے معلوم نہیں کتنی بار پیسے چوری کیے ہیں۔ گن نہیں سکتا لیکن شاید ہزاروں روپے چوری کیے ہیں۔ بس آپ مجھے یہ بتا دیں کہ آپ کو معلوم تھا نا کہ میں پیسے چراتا ہوں؟ امی بس مخصوص اطمنان بھرے انداز میں مسکرائیں اور کوئی جواب نہ دیا۔ میرا اندازہ درست تھا، اُنہیں سب معلوم تھا۔ ماوں سے کچھ چھپا ہوا نہیں ہوتا۔
مجھے اور میرے بہن بھائیوں کو امی سے ایک شکایت ہمیشہ ہوا کرتی تھی کہ باقی سب کی والدہ تو اپنے بچوں کی بہت تعریفیں کرتی ہیں لیکن آپ کبھی ہماری تعریف نہیں کرتیں۔ جس پر امی کا کہنا ہوتا تھا کہ تعریف تو وہ ہوتی ہے جو دوسرے کریں، میں خود کیا تعریف کروں اپنے بچوں کی؟ وہ اپنی رائے پر اب تک قائم ہیں۔
میری امی بہت مضبوط اعصاب کی مالک ہیں (ماشاء اللہ)۔ میں نے اُنہیں بڑی بڑی پریشانیوں کا سامنا ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کرتے دیکھا ہے۔ “کچھ نہیں ہوتا، اللہ مالک ہے” کہہ کر کتنے ہی لوگوں کی ہمت بندھا دیتی ہیں۔ فرشِ عزا امی کی طاقت ہے۔ سالہا سال سے اِس فرش کی خدمت یہ کہہ کر کرتی آئی ہیں کہ “جن کا ذکر ہے، وہی سب کروا رہے ہیں”۔ اِس خدمت میں ایک بہت معمولی سے حصہ میں بھی بچپن سے ملاتا ایا ہوں، کبھی اُس کا ذکر الگ سے کروں گا۔
فی الحال مدرز ڈے کے حوالے سے بس امّی جی کو یہی کچھ بتانا تھا۔ بہت مشکل سے قلم کو روکا ہے۔ میری یہ آئی ڈی میری بہن بھی فالو کرتی ہے۔ وہ اگر امی کو یہ سب پڑھ کر سنانے کا ارادہ کرے تو وہ پیراگراف مت سنائے جس میں، میں نے امی کی خود کو دی جانے والی مخصوص دعاوں کا ذکر کیا ہے۔ یہ اُن کی بے ساختہ دعائیں ہیں، چاہتا ہوں وہ یہ دعائیں مجھے ہمیشہ بے ساختہ ہی دیتی رہیں، یہ سوچتے ہوئے کہ 
۔
“وہ ہولتا رہتا ہے، اُسے کہاں یاد ہوگا کہ میں کیا دعائیں دیتی ہوں”
مرتبہ پڑھا گیا
451مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: