Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کیا پاک فوج میں مسلکی تقسیم موجود ہے؟ | نور درویش

by May 10, 2017 بلاگ
کیا پاک فوج میں مسلکی تقسیم موجود ہے؟ | نور درویش

موسیو (ژاں سارتر) نے کل ایک انتہائی اہم بلاگ لکھا جس میں اِس بات کی وضاحت کی کہ پاک فوج کے اندر کوئی مسلکی تقسیم نہیں ہے اور نہ ہی کبھی تھی۔ اُنہوں نے بطور مثال ضیاء الحق اور بریگیڈیر ٹی ایم (طارق محمود زیدی) کا ذکر بھی کیا۔ میں اِس بات سے صد فیصد متفق ہوں۔
کسی مخصوص مکتب یا نظریہ کو بطور پالیسی استعمال کرنا ایک علیحدہ بات ہے اور خود فوج کے اندر مسلکی بنیادوں پر تقسیم روا رکھنا اور بات۔ حقیقت یہ ہے کہ فوج میں کسی بھی کلیدی یا اہم عہدے پر موجود افسر چاہے کسی بھی پس منظر سے تعلق رکھتا تھا، اُس نے فوج کی مجموعی پالیسی پر ہی عمل کیا۔ چاہے وہ سنی تھا، شیعہ تھا یا کچھ بھی تھا۔ ہم ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر اُس کی کسی مخصوص پالیسی پر یا کسی کوتاہی پر تنقید کرسکتے ہیں، مخصوص نظریات کو کبھی تزویراتی گہرائی کی پالیسی، کبھی پراکسی وار اور کبھی جہادی پالیسی میں استعمال کرنے پر تنقید کرسکتے ہیں لیکن فوج بطور ادارہ یقینا ایک ڈسپلنڈ ادارہ ہے، وہاں مسلکی تقسیم نہیں ہے۔ میں چاہے اِس ادارے پر جتنی تنقید کروں لیکن حقیقیت یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں اگر کوئی ڈسپلنڈ ادارہ بچا ہے تو وہ یہی ہے۔
اگر کوئی شخص فوج کے اندر ایسی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرے یا ایسی تقسیم موجود ہونے کی بات کرے تو میرے نزدیک وہ ایک سنگین غلطی کا ارتکاب کرے گا۔ اوپر جو تمہید لکھی، اُس کا مقصد بھی ہی بتانا تھا کہ اگر کسی ملک کی فوج ہی مسلکی بنیادوں پر تقسیم ہوجائے تو باقی کیا بچے گا؟ تمہید کا دوسرا مقصد آپ کو کچھ دلانا بھی تھا۔
گزشتہ برس جنوری کے مہینے میں لال مسجد کے مولوی عبدالعزیز نے ایسی ہی ایک کوشش کی تھی۔ مولوی عبدالعزیز نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں آئی ایس آئی پر الزام لگایا تھا کہ آئی ایس آئی میں موجود مخصوص فرقے(شیعہ) کے افسر اُسکے خلاف سازش کررہے ہیں۔ اِسی ویڈیو میں اُس نے شیعوں کے خلاف بھی کچھ باتیں کی تھیں کہ ایک مخصوص مکتب جس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ناموں میں رضا، مشہدی، رضوی، جعفری، حسین، حیدری وغیرہ آتے ہیں، یہ سب لوگ اہلسنت کے قتل میں ملوث ہیں۔
آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک ملک کے خفیہ ادارے پر ایسے سنگین الزام کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے۔ اِس ویڈیو پیغام پر شدید ردعمل سامنے آیا اور جن دو لوگوں نے اس ویڈیو کا جوابی ویڈیو پیغام دیا اُن میں سے ایک کا نام خرم ذکی تھا اور دوسرا جبران ناصر۔ خرم ذکی نے ایک تفصیلی بلاگ بھی لکھا تھا جس میں فوج کے ایک ادارے پر ایسا الزام لگانے کی سنگینی کا تفصیلی ذکر کیا تھا۔
بہرحال، مولوی عبدالعزیز کو اِس بیان پر معذرت کرنا پڑی اور اُس نے ایک وضاحتی ویڈیو جاری کی۔ اب تلخ حقیقت یہ ہے کہ خرم ذکی تو قتل ہوچکا لیکن آئی ایس آئی پر مسلکی تقسیم کا الزام لگانے والا مولوی عبدالعزیز آج بھی اسلام آباد کے وسط میں موجود ہے۔ اب اِس کی موجودگی پر کس پر تنقید کی جائے، اس کا فیصلہ آپ خود کرسکتے ہیں۔
ذکر آگیا ہے تو یہ بھی بتا دوں کہ لاہور سےتعلق رکھنے والے اصلاح و عمل کے دعویدار کچھ شیعوں نے اُلٹا خرم ذکی پر ہی آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگا دیا تھا۔
دوسری مثال دو سال پہلے اور رواں سال پاکستان کا دورہ کرنے والے سعودی شاہی پیش اماموں کی ہے جنہوں نے پاک فوج کے سنی جوانوں کو مخاطب کرکے کچھ باتیں کیں۔ یہ براہ راست فوج کے اندر شیعہ سنی تقسیم پیدا کرنے کی خطرناک کوشش تھی۔ عام عوام تو خیر امامِ مسجد الحرام سے عقیدت میں ڈوبی ہوئی تھی البتہ اِس متنازعہ عمل پر تشویش کا اظہار کرنے والوں کی بھی کمی نہ تھی، جو اس عمل کو پاک فوج میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش قرار دے رہے تھے۔
جنرل راحیل کے سعودی فوجی اتحاد کی سربراہی کے معاملے پر بھی شدید تنقید ہوئی جس میں سب سے بنیادی نکتہ یہی تھا کہ بظاہر یہ ایران مخالف اتحاد ہے اور بعض کے نزدیک شیعہ مخالف اتحاد جس کی سربراہی قبول کرنا ہمارے لئے کسی طور سودمند نہیں۔ اِس معاملے میں اُمید ہے کہ فوج کے اندر تو یقینا کسی قسم کی تقسیم پیدا نہ ہوگی، البتہ پاکستان کے اندر تقسیم ضرور پیدا ہوگی، جس کے ہم قطعا متحمل نہیں ہوسکتے۔

مرتبہ پڑھا گیا
685مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: