Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اگر آپ ذہن سے سوچتے ہیں، تو قلم اُٹھائیے، قلم کار آپ کا ہے – نور درویش

اگر آپ ذہن سے سوچتے ہیں، تو قلم اُٹھائیے، قلم کار آپ کا ہے – نور درویش

سوشل میڈیا پر کوئی دائیں بازو کا علمبردار ہے، کوئی دائیں کا۔ پھر کچھ ویب سائیٹس بنیں جن میں سے کچھ نے دائیں بازو کے نظریات کی ترویج کا بیڑہ اُٹھایا، کچھ ویب سائیٹس اپنی لبرل پہچان کے ساتھ آگے آئیں (اِن میں سے ایک نے اپنی لبرل شناخت کو حال ہی میں متنازعہ بھی بنا لیا ہے)۔ بہرحال یہ تمام ویب سائیٹس ایک نیا اور خوشگوار اضافہ تھیں۔ بہت سے مقبول لکھنے والے جو صحافت سے بھی وابستہ ہیں اور مخصوص نظریات پر قلم اُٹھاتے ہیں، اُن سب کی تحریریں ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہوگئیں۔ پھر اُن کے ہم خیال احباب نے بھی بلاگز اور کالمز کی صورت میں وہاں اپنے خیالات شئیر کرنا شروع کردئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ سب ایک صحت مندانہ مقابلے میں تبدیل ہوگیا۔
البتہ انہی تمام دائیں، بائیں، لبرل، سیکیولر ویب سائیٹس کے درمیان ایک ویب سائٹ نمودار ہوئی جسے قلم کار کا نام دیا گیا۔ میں نے اپنے دوست ملک قمر عباس اعوان سے پوچھا کہ آپ کی ویب سائیٹ دائیں بازو کے نظریات کی ترویج کرے گی یا بائیں گے، تو ملک صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا کہ نور بھائی ہم دائیں بازو والوں کا بھی ہاتھ تھامیں گے اور بائیں والوں کا بھی۔ ساتھ ہی میں نے مزید تفصیل کا مطالبہ کیا تو حسبِ سابق ہمارے محترم جناب حیدر جاوید سید مدد کو آئے اور حسبِ معمول "دریا کو کوزے میں بند کرتے ہوئے” فرمایا کہ اگر آپ رائے رکھتے ہیں اور ذہن سے سوچتے ہیں تو آئیں، "قلم کار” پر لکھیں، ہم اُسے شائع کریں گے۔
آج ملک قمر عباس نے مجھے بتایا کہ آج قلم کار کو شروع کئے ہوئے ایک برس گزر گیا۔ ابھی کل ہی کی بات محسوس ہوتی ہے جب ملک قمر عباس نے بتایا تھا کہ وہ تین شعبان کے مبارک دن یہ ویب سائیٹ شروع کرنا چاہتے ہیں، اور آج ٹھیک ایک برس بعد ہم سب تین شعبان کے اِس مبارک دن قلم کار کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں۔
میں ایک پارٹ ٹائم لکھنے والا انسان ہوں، جسے آپ "فیس بکی دانشور” کہہ لیں۔ جو دیکھتا ہوں، سوچتا ہوں اور سمجھتا ہوں وہ لکھ دیتا ہوں۔ آس پاس موجود صاحبان علم و مطالعہ کی آراء کی بنیاد پر اپنی رائے بدلتا ہوں اور قائم کرتا ہوں۔ ایسے ہی چند خیالات کو کبھی کبھی قلم کار پر بھی جگہ مل جاتی ہے اور یوں یہ خاکسار بھی حیدر جاوید سید جیسے کہنہ مشق سینئیر صحافی، ادیب و دانشور کے زیرِ صدارت چلنے والی ایک ویب سائیٹ پر "اُنگلی کٹا کر شہیدوں” میں نام کے مصداق، اپنا نام درج کروا لیتا ہے۔
اِس ویب سائیٹ پر جناب عقیل عباس جعفری کے بہترین مضامین شائع ہوئے تھے اور آج میں ملک قمر عباس اور قلم کار کی ادارتی ٹیم سے اپنی تحریر کے ذریعے یہ گزارش کروں گا آپ وہ تمام مضامین ایک بار پھر اپنے قارئین سے شئیر کیجئے تاکہ جو حضرات اِن مضامین سے استفادہ نہ کرسکے ہوں، وہ اب کر لیں۔
قلم کار پر جناب حیدر جاوید سید کے ضیاء الحق کی آمریت میں دورِ اسیری کی قسط وار روداد "زندان کی چیخ” کے عنوان سے شائع ہوئی، جو غالبا کتابی شکل میں بھی دستیاب ہوگی۔ اِس سلسلے نے مجھ سمیت کتنے ہی پڑھنے والوں کو نہ صرف اپنی گرفت میں لئے رکھا بلکہ آمریت کی قلم سے کیا دشمنی ہوتی ہے، یہ بھی ہم سب کو سمجھایا۔
قلم کار پر ہمیں جناب عامر حسینی اپنی منفرد تحاریر کے ساتھ نظر آئے, کبھی وہ تکفیری عفریت کا پوسٹ مارٹم کرتے پائے گئے تو کبھی اچانک منٹو کا ذکر چھیڑ دیا، کبھی کمرشل لبرلزم کی اینٹ سے اینٹ بجائی تو کبھی اپنی "ساری کے خطوط” شائع کرکے قارئین پر سحر باندھ دیا۔
آج ایک سال مکمل ہونے پر میں قلمکار کی پوری ٹیم کو مباکباد پیش کرتا ہوں اور قمر عباس کو بالخصوص مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ آپ کا سب کا ہاتھ تھام کر چلنے کا عزم یونہی کامیابی سے جاری و ساری رہے۔ قلم کار پر شائع ہونے والے مضامین کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ جو خواب آپ نے دیکھا، وہ جناب حیدر جاوید صاحب کی رہنمائی میں کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ مزید کامیابی کیلئے دعاگو ہوں۔
"اُنگلی کٹا کر شہیدوں میں نام” والی میری خدمات آپ کی اِس کاوش میں ہمیشہ شامل رہیں گی۔

Views All Time
Views All Time
560
Views Today
Views Today
3
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: