Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

خدا ہمیں اُس بے فکری سے محفوظ رکھے جو احمد لدھیانوی کی آمد سے مشروط ہو ۔ نور درویش

by اپریل 22, 2017 بلاگ, کالم
خدا ہمیں اُس بے فکری سے محفوظ رکھے جو احمد لدھیانوی کی آمد سے مشروط ہو ۔ نور درویش
میں آگیا ہوں، اب فکر کی کوئی بات نہیں۔ احمد لدھیانوی
 
بطور سرغنہ کالعدم سپاہ صحابہ، احمد لدھیانوی پر جو تنقید ہوتی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور نہ ہی اِس تنظیم کے مقاصد سے کوئی لاعلم ہے۔ تنقید کی شدت کی وجہ کیا ہے، اِس سے بھی ہم سب واقف ہیں۔
 
علی کامران چشتی ایک بی گریڈ صحافی ہے جو سوشل میڈیا پر خود کو بے انتہا لبرل ظاہر کرتا ہے۔ اب سے کچھ برس قبل، شاید پانچ چھ برس قبل، میں علی کامران چشتی کے شیعہ ٹارگٹ کلنگ پر مذمتی ٹویٹس اور فیس بک سٹیٹس پڑھ کر میں سوچا کرتا تھا کہ کافی معتدل صحافی ہے کہ جب پورے الیکٹرانک میڈیا پر شیعہ کلنگ پر بلیک آوٹ کی سی کیفیت طاری ہے تو علی کامران چشتی ٹویٹس کر رہا ہے۔ لیکن یہ حیرانی وقتی ثابت ہوئی۔ ایک ٹی وی پروگرام میں علی کامران چشتی کو ایک ٹی وی پروگرام میں سرغنہ کالعدم سپاہ صحابہ کے ساتھ بیٹھا ہوا پایا۔ میری اُمید کے برعکس علی چشتی اور احمد لدھیانوی ایک دوسے کی تائید و توصیف کرتے نظر آئے۔ یہاں تک کہ علی کامران چشتی جیسے لبرلزم کے دعویدار صحافی نے مطالبہ کیا کہ ہمیں توہین صحابہ سے متعلق قانون بنانا چاہئے، جس پر احمد لدھیانوی نے زور سے سر ہلا کر "علی بھائی کا شکریہ ادا کیا”۔
۔
اِس لبرل صحافی کو کچھ عرصہ قبل نامعلوم افراد نے اغوا بھی کیا تھا اور تشدد کرکے رہا کردیا تھا۔ رہا ہونے کے بعد علی کامران چشتی نے ٹویٹر پر اپنے تشدد زدہ چہرے کی تصویر پوسٹ کی جس پر مذمت اور خیر سگالی کا سب سے پہلا پیغام کالعدم اہلسنت ولجماعت کی جانب سے موصول ہوا۔
۔
میرے لئے یہ سب گورکھ دھندا ایک گتھی ہوا کرتی تھی، میں سمجھ نہیں پاتا تھا کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں بے انتہا لبرل پہچان رکھنے والے بہت سے صحافی و اینکرز کا جھکاو اکثر غیر معمولی طور پر اِن کالعدم تنیموں کی کھلے عام یا بین السطور وکالت کی صورت کیوں ہوتا ہے۔ طاہر اشرفی کی مثال ذہن میں آتی تھی جسے اِنہی لبرل پہچان رکھنے والے حضرات نے ایک روشن خیال عالم کی طور پر پیچ کیا۔
۔
پھر خدا بھلا کرے مجھے سوشل میڈیا پر قلمی نام سے کام کرنے والے ایک صاحب عبدل نیشاپوی کا پتہ چلا۔ عبدل نیشاپوری کو اِس موضوع سے متعلق بہت سے معاملات کے بارے میں اگر میں ٹرینڈ سیٹر کہوں تو غلط نہ ہوگا، ورنہ حققیت یہ ہے کہ میں اور مجھ سمیت بہت سے لوگ اِس گورکھ دھندے کو کبھی سمجھ نہ پاتے۔ عبدل نیشاپوری عرصہ دراز ہوا، سوشل میڈیا کو خیر باد کہہ گیا، شاید اُس نے اپنے حصے کا کام کردیا تھا۔ یہ عبدل نیشاپوری ہی تھا جس نے ہم جیسے کنفیوزڈ لوگوں کو بتایا کہ لبرل کچھ اور ہوتا ہے اور "کمرشل لبرل” کچھ اور۔ آج دل چاہ رہا ہے کہ اِس قلمی نام والے عبد نیشاپوری کو سلیوٹ پیش کروں۔
۔
کل "ہم سب” نامی معروف ویب سائیٹ نے جب احمد لدھیانوی کا انٹرویو شائع کیا تو مجھے صرف دو لوگ یاد آئے۔ عبدل نیشاپوری اور علی کامران چشتی۔ مجھے لگا کہ یہ مضمون اُسی پروگرام کا ری میک ہے جس میں علی کامران چشتی اور احمد لدھیانوی باہم شیر و شکر نظر آئے تھے۔ شکر کہ اب میں کنفیوزڈ نہ تھا۔
یاد رہے کہ یہ پروگرام اُس وقت کا ہے جب اِن کالعدم تنظیموں کو اپنی اور اپنے اکابرین کے طرزِ عمل سے تائب نہ ہوئیں تھیں۔ کوئٹۃ کی سنچریاں بنتی تھیں، شیعوں کی تکفیر ہوتی تھی (جو میرے مطابق اب بھی ہوتی ہے) اور کراچی میں شیعوں کا سانس لینا ناممکن بنا دینے کے نعرے لگائے جاتے تھے۔
۔
احمد لدھیانوی اور اُسکی تنظیم کالعدم سپاہ صحابہ (حالیہ اہلسنت ولجماعت) پر جو تنقید ہوتی ہے اُس میں شیعوں کی تکفیر، اُن کے قتل میں براہ راست ملوث ہونا، کوئٹہ میں اپنی ہی تنظیم کی اُن جلسوں میں شریک ہونا جہاں ہزارہ شیعہ برادری کے قتل پر ترانے پڑھے گئے اور وہ لاتعداد ریلیاں اور جلوس جن میں سرعام شیعوں کی تکفیر کے نعرے لگتے رہے۔ جبکہ فی الوقت جب کالعدم سپاہ صحابہ یا احمد لدھیانوی کا ذکر ہوتا ہے تو تنقید وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار پر بھی ہوتی ہے جو فورتھ شیڈول میں شامل ایک کالعدم تنظیم کے رُکن سے ملاقاتیں کرتے رہے۔ میں آپ کو یاد دلا دوں کہ کوئٹہ سول ہاسپٹل میں ہولناک حملے پر جسٹس فائز عیسی کی رپورٹ میں چوہدری نثار کی دھماکے سے ایک روز پہلے احمد لدھیانوی سے ملاقات پر اُن سے جواب طلبی کی گئی تھی، سنا ہے چوہدری نثار نے اِس جواب طلبی کے خلاف ہی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی۔
۔
آپ "ہم سب” پر شائع شدہ مضمون پڑھیں اور پھر احمد لدھیانوی اور اُسکی تنظیم پر اوپر لکھی حالیہ اور پرانی تنقید کی تفصیل پڑھیں۔ آپ کو اندازہ ہوگا کہ اِس مضمون میں دراصل وہی کام کیا گیا ہے جو علی کام چشتی کیا کرتا تھا۔ چُن چُن کر اُن باتوں کی وضاحت کی گئی ہے جو اِس تنظیم اور اِسکے سرغنہ کے خلاف حتمی چاج شیٹ ہے۔ حد تو یہ ہے کہ علی کامران چشتی کی طرح اِس مضمون میں بھی احمد لدھیانوی کے "توہین صحابہ” کے قانون کے مطالبے کا ذکر کیا گیا ہے، جسے پڑھ کر لدھیانوی نے ویسے ہی سر ہلایا ہوگا جیسے علی کامران چشتی کیلئے ہلایا تھا۔
۔
آپ اندازہ کیجئے کہ خود کو لبرزم کا علمدار کہنے والے یہ دوست توہین رسالت (ص) کے جھوٹے الزامات میں قتل ہونے والے بیگناہوں کیلئے تو خوب آواز اُٹھاتے ہیں (اُٹھانی بھی چاہئے) لیکن یہ حضرات حیرت انگیز طور پر کالعدم تنظیم کے ایک سرغنہ کے توہین صحابہ کے قانون کے مطالبے کو اپنی ویب سائیٹ پر شائع کرکے اضافی نوٹ لکھ دیتے ہیں کہ "اِس انٹریو کی یہ چند باتیں ہم مولانا لدھیانوی کی اجازت سے شائع کررہے ہیں”۔ کیا معصومیت ہے، ایسی ہی معصومیت جیو نیوز کے اینکر طلعت حسین نے بھی احمد لدھیانوی کو اپنے پروگرام میں مدعو کرکے دکھائی تھی جس میں ایک نیشنل ٹی وی چینل پر اِس "سفیرِ امن” کے منہ سے بار بار شیعوں کی تکفیر سے متعلق اسکا نظریہ سنوایا گیا تھا۔ یہ پروگرام اب بھی یوٹیوب پر موجود ہے۔ دل چاہے تو دیکھ لیجے، بس ڈیڑھ دو سال پرانا پروگرام ہے۔ اِس میں شیعوں کی تکفیر بھی ہے، کوئٹہ کی سنچری بھی اور توہین صحابہ کے قانون کا مطالبہ بھی۔
۔
میری تحریر بہت طویل ہوگئی، لکھنے کو بھی بہت کچھ تھا لیکن قلم یہیں روک رہا ہوں۔ اِس دعا کے ساتھ کہ
۔
” خدا ہمیں اُس بے فکری سے محفوظ رکھے جو احمد لدھیانوی کی آمد سے مشروط ہو۔ "
Views All Time
Views All Time
830
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: