ٹریکٹرٹرالی نہیں

Print Friendly, PDF & Email

wisal khanبدھ کے روزقومی اسمبلی کاماحول اس وقت بےحد کشیدگی کاشکارہواجب وزیرپانی وبجلی ایوان کولوڈشیڈنگ کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کررہے تھے اس دوران تحریک انصاف کی خاتون راہنمااوررکن قومی اسمبلی محترمہ شیریں مزاری نے بیچ میں شورشرابے کے اندازمیں بولناشروع کیا جس پرخواجہ آصف نے طیش میں آکرسپیکرکومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جناب سپیکراس ٹریکٹر ٹرالی کوخاموش کرائیں وفاقی وزیرکے ان غیرپارلیمانی الفاظ پراپوزیشن نے احتجاج کیااورمحترمہ شیریں مزاری ایوان سے واک آؤٹ کرگئیں. جنہیں بعدمیں اپنے ہی اراکین مناکرواپس ایوان میں لے آئے اپوزیشن کے مطالبے پرسپیکرقومی اسمبلی نے وفاقی وزیرکے الفاظ کوغیرپارلیمانی قراردے کرکارروائی سے حذف کرادیا. قومی وصوبائی اسمبلی سمیت سینیٹ میں غیرپارلیمانی الفاظ کے استعمال کایہ کوئی پہلاواقعہ نہیں اس سے پہلے بھی لاتعدادمرتبہ ایوانوں کی کارروائی کے دوران حکومتی واپوزیشن بینچوں کی جانب سے ایسے الفاظ کااستعمال دیکھنے میں آیاہے جنہیں بعدازاں سپیکریاچئیرمین کی جانب سے غیرپارلیمانی قراردےکرکارروائی سے حذف کرانے کاحکم جاری کرناپڑتاہے اعلیٰ اورمقدس ایوانوں میں اس قسم کے الفاظ کے استعمال کی کسی صورت حمایت نہیں کی جاسکتی خاص طورپہ کسی خاتون کیلئے غیرپارلیمانی الفاظ کااستعمال مہذب معاشروں کاشیوہ نہیں ہماری سیاست میں خواتین کے پہلے سے ہی محدودکردارکو عامیانہ روئیے نقصان پہنچاسکتے ہیں سیاستدانوں کومدبرانہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے سیاستدان بازاری زبان کے استعمال سے نہیں بنتے گزشتہ کچھ عرصے سے ملکی سیاست میں فضول اورلغوالزامات کے ساتھ ساتھ مخالفین کوتضحیک کانشانہ بنانے کی روایت چل نکلی ہے اگرچہ ہمارے جیسے معاشرے میں کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے فردسے کوئی بھی بات غیرمتوقع نہیں سیاست دان اورپھرخصوصی طورپہ ممبران پارلیمنٹ کسی قوم کی بالائی ہوتے ہیں جس طرح دودھ کی بالائی کاانحصاردودھ پرہوتا ہے اگر آپ اچھابہترین اورخالص دودھ آگ پر رکھیں گے تواس کی بالائی بھی میٹھی،مزیدار اورصحت بخش ہوگی لیکن اگر آپ دودھ باسی، پرانااورملاوٹ شدہ رکھیں گے تواس کی بالائی بھی اسی طرح کڑوی ،بدمزہ اورمضرصحت ہوگی بالکل اسی طرح کسی قوم کے حکمران معاشرے کے بہترین ،عقلمند،مدبراوررول ماڈل قسم کے لوگ ہوتے ہیں بیس کروڑ کے لوگوں میں سے اگرتین سولوگوں نے اوپرآناہے تویہ لوگ بازاری زبان استعمال کرنے والے عام لوگ نہیں بلکہ خاص لوگ ہونے چاہئیں ان کے اقوال وافعال مثالی ہونے چاہئیں تاکہ عام لوگ انہیں کاپی کرسکیں اوران کاطرزعمل اپناسکیں مگرافسوس کےساتھ کہناپڑرہاہے کہ معاشرہ جس افراتفری، بے راہ روی اوراخلاق باختگی کاشکارہے ممبران پارلیمنٹ اورسیاستدان بھی اس سے اپنادامن نہ بچاسکے یہاں دودھ ہی باسی ،خراب اورملاوٹ شدہ ہے توہم صحت بخش بالائی کی توقع کیسے کرسکتے ہیں؟ہماراقومی مزاج مجرمانہ بن چکاہے ہم عزت دیناتوچاہتے ہیں مگراس لیڈرکوجسے ہم لیڈرمانیں دوسروں کے لیڈرکوگالیوں سے نوازناہمارے معمول کاحصہ بن چکاہے خصوصی طورپہ جب سے ہمارے عمران خان سیاست میں قدم رنجہ فرماہوئے ہیں تب سے کسی کی عزت محفوظ نہیں انہوں نے بھرپھرے جلسوں میں اچھے بھلے اورخاندانی لوگوں کی پگڑیاں اچھالیں، بے بنیاداورلغوالزامات لگائے ،لائیو ٹی وی کیمروں کے سامنے عزت دارلوگوں کی نقلیں اتاریں ،ان سیاستدانوں کودونمبرکہاجن کے ساتھ مل کراقتدارکے مزے لوٹے جارہے ہیں ،ایماندارلوگوں کوبے ایمان کہا،انہیں ناکردہ جرائم کے طعنے دئے ،پاکستانی سیاست میں ڈیزل ،ایزی لوڈ،پٹواری اوراس طرح کے دیگرفضول القابات کااضافہ کیاجس کی دیکھادیکھی ان کے فالوورزنے بھی عزتوں کواچھالنا اپنافرض سمجھ لیاجس کے کچھ مظاہرہم تحریک انصاف کے حالیہ چندجلسوں میں خواتین کےساتھ بدتمیزی کے واقعات میں ملاحظہ کرچکے ہیں اسی طرح یہی کارکن وزیراعظم کی صاحبزادی کوناقابل اشاعت القابات سے نوازتے ہیں کسی بھی اچھے بھلے مخالف سیاستدان یاصحافی کوبیٹھے بٹھائے کسی بھی طرح کے الزامات لگاکریافضول اورواہیات القابات سے پریشان کیاجاتاہے خان صاحب کوسیاسی اخلاقیات پرلیکچرزیب نہیں دیتاپاکستانی سیاست میں ان سے پہلے اس طرح کے القابات والزامات کارواج نہیں تھالے دے کے ذوالفقارعلی بھٹوذرامنہ پھٹ اندازمیں اپنے مخالفین کومخاطب کرتے تھے مگرانکے مخالفین خان عبدالولی خان،مولانامفتی محمود،نوابزادہ نصراللہ خان یاسندھ اوربلوچستان کے قوم پرست سیاستدان کبھی بھٹوصاحب کے لہجے میں جواب دینے کے روادارنہیں تھے ضیاء الحق کے زمانے میں جماعت اسلامی کے کارکن بھٹوباچاخان اور ولی خان کوجانوروں سے تشبیہہ دیتے رہے مگران صاحبان نے کبھی اپنے کارکنوں کواسی لہجے میں جواب دینے کیلئے نہیں اکسایااس زمانے کی سیاست تدبراورمشرقی روایات سے بھرپور تھی جبکہ آج کی سیاست،سیاست کم اور لغویات کامجموعہ زیادہ لگتی ہے ناراہنماؤں کی جانب سے کارکنوں کی تربیت کاکوئی انتظام ہے اور ناہی جلسوں میں اپنے کارکنوں کی اخلاقی سدھارکیلئے کوئی لیڈردوالفاظ بولنے کاروادارہے سیاسی پارٹیوں اورانکے لیڈروں کی طرح سیاسی کارکن بھی خودروپودوں کی مانند خودبخوداگتے ہیں قدرتی نمی اورہواانہیں جنگلی بوٹیوں سے پودے اورپھرتناوردرخت بنادیتے ہیں اوراسکے بعدیہی لوگ اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں جہاں یہ وہی کچھ بولتے ہیں جوانہوں نے جلسوں میں سیکھاہوتاہے مگرخواجہ آصف کے لیڈرنے ہمیشہ مخالفین کوبھی عزت سے پکاراہے نوے کی دہائی میں شیخ رشیدجیسے منہ پھٹ جب نوازشریف کادم بھرتے تھے توانہوں نے ایک مرتبہ بینظیربھٹوکیلئے غلط جملوں کااستعمال کیا(انہی جملوں نے بے نظیرکی حکومت میں انہیں جیل کی ہوابھی کھلائی جہاں انہوں نے بلوکاگھرنامی کتاب تحریرکی)نوازشریف نے شیخ صاحب کوسختی سے منع کیاکہ ہمارے معاشرتی اقدارکسی خاتون کیلئے اس طرح کے جملے اداکرنے کی اجازت نہیں دیتے دنیاکے دیگرجمہوری معاشروں میں بھی سیاستدان ایک دوسرے کوگالی گلوچ سے نوازتے ہیں مگروہاں سیاسی مخالفت کوذاتی دشمنی کاروپ نہیں دیاجاتاجارج بش نے ایک مرتبہ الیکشن مہم کے دوران کہاکہ میراکتابل کلنٹن سے بہترخارجہ پالیسی جانتاہے مگرکامیابی کے بعداسی بش نے سب سے پہلے انہیں مبارکبادکاپیغام دیااسی طرح جاپان میں بھی گالم گلوچ کارواج عام ہے مگران معاشروں اورہمارے مسلمان معاشرے میں زمین وآسمان کافرق ہے ہمارے ہاں کسی خاتون کی بے توقیری کاسوچابھی نہیں جاسکتاسپیکرآیازصادق نے اگرچہ خواجہ آصف کے الفاظ کارروائی سے حذف کرادئے مگرانہیں دوقدم مزیدآگے بڑھکر خواجہ آصف کوحکم دیناچاہئے کہ وہ محترمہ شیریں مزاری کواسمبلی فلورپہ کہیں کہ آپ ٹریکٹرٹرالی نہیں میری بہن ہیں پارلیمنٹ جیسے ادارے میں غلط روایات کی حوصلہ شکنی کایہ ایک بہترین راستہ ہے ۔

Views All Time
Views All Time
323
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   جمشید دستی ہوش محمد شیدیؒ ہرگز نہیں مگر ۔۔۔ حیدرجاوید سید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: