Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کوئی ہم سا ہو تو سامنے آئے

by اگست 26, 2016 بلاگ
کوئی ہم سا ہو تو سامنے آئے
Print Friendly, PDF & Email

Faiza Chایک دن پرانے کاغذات الٹ پٹ کرتے کرتے میری نظرسے کچھ جانی پہچانی تحریر گزری،کھول کر دیکھا تو اپنا ہی لکھا ہوا ایک چٹکلا سامنے تھا۔ذہن پر زور دیا تو یاد آیا کہ پچھلے دنوں ایک خبر اردو اخبار میں پڑھی تھی اور خبر پڑھتے ہی دماغ نے کہا فائزہ رانی سردار صاحب کی شان میں تمھارے قلم سے اگر کچھ الفاظ ازراہ تعریف نکلیں گے تو یہ تمھارے لیے بڑی سعادت کی بات ہوگی۔دماغ نے کہا، ہاتھوں نے کاغذ قلم اٹھایا اور لکھ ڈالا ۔پھر سوچا پگلی تیری اس تحریر کو کونسا اخباراپنے اوراق میں جگہ دے گا ؟آخر کس ایڈیٹر کا دماغ خراب ہے جو تجھ جیسی معمولی اور گمنام بندی کو رائٹر مانے گا؟؟؟؟؟لہذا یہ خیال آتے ہی کاغذوں کا پلندہ اٹھایا اور ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ۔
لیکن فائزہ رانی اپنے نانا جی کی فرمائش کو ردی کی ٹوکری میں نہ ڈال سکی اور انکی فرمائش پہ ’’ ایک منٹ‘‘ کے عنوان سے تحریر لکھی جوکہ قلم کار کی ٹیم کی عنایت سے اس ویب سائیٹ کی نا صرف زینت بنی بلکہ پسند بھی کی گئی۔ دوست احباب نے ہمت بڑھائی کہ بھائی آجکل تو ہر بندہ صحافی ہے اور ہر سڑک چھاپ شاعر یا مصنف بنا ہوا ہے پھر تم کیوں گھبراتی ہو۔ ہمت کرو ،لکھو کبھی نہ کبھی تو لکھنا آ ہی جائے گا نا ۔یہی باتیں ہمت بڑھانے کا سبب بنیں اور اس چٹکلے کو ردی کی ٹوکری سے نکالا ،اس کی کانٹ چھانٹ کی اور ارسال کر دیا ۔اور دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ انتظار کر نے لگی کہ دیکھو اس تحریر کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے ۔
تو دوستو ، تحریرکچھ یوں تھی۔
مجھے آج سمجھ آیا کہ پیمرا نے برتھ کنٹرول اشتہارات نشر کرنے پہ پابندی سردار جان کی وجہ سے لگائی ہے ۔ جن کا منصوبہ خاصا لمبا اورہولناک ہے ۔خاص طور پہ انکی بیویوں کے لیے جو اس منصوبے کو پورا کرنے کے لیے تختۂ مشق بنی ہوئی ہیں ۔
شاید آپکو بھی یہ منصوبہ جان کر اپنی ہنسی پہ کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا ۔کوئٹہ کے ۴۶ سالہ سردار جان صاحب کا عزم ہے کہ وہ ۱۰۰ بچوں کا باپ بننے کا اعزاز حاصل کریں گے۔وہ اب تک ۳۵ کا ہدف پورا کر چکے ہیں ۔اور انکی تین عدد بیویاں یہ معرکہ بخوبی انجام دے چکی ہیں ۔اب سردار صاحب چوتھی بیوی کی تلاش میں ہیں ۔
ہو سکتا ہے سردار صاحب کو یہ جملہ ’’ بچے دو ہی اچھے ‘‘ گراں گزرتا ہو اور وہ سمجھتے ہوں کہ یہ اشتہارات میرے مقصدِِ عظیم میں رکاو ٹ حائل کر رہے ہیں اسی لیے انہوں نے میڈیا سے اپیل کی ہو کہ ازراہ کرم ان اشتہارات پہ پابندی لگا دی جائے اور انکا منصوبہ پایہء تکمیل تک پہنچنے دیا جائے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ انکی بیویاں یہ نشریات دیکھ کہ واک آؤٹ کر جائیں اور سردار صاحب کا خواب ادھورا رہ جائے۔
ویسے مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ برتھ کنٹرول اشتہارات نانیوں دادیوں کو بھی ایک آنکھ نہیں بھاتے،اور وہ اس ادارے کو کچا چبا جانے کے موڈ میں نظر آتی ہیں ۔ایک میگزین کی کہانی میں پڑھا ہو ا فقرہ یاد آرہا ہے ۔ایک بڑھیا اپنے رنڈوا بیٹے کے لیے لڑکی کی تلاش میں ہیں اور اپنی بیٹی سے فرماتی ہیں
’’ اے جمیلہ ؛مجھے تو وہ رشید احمد کی صغراں اپنے حمیدے کے لیے بہت بھائی ہے ۔ایسے ڈیل ڈول کی ہے کہ میرے حمیدے کے دس بیٹے آرام سے پیدا کر دے گی ۔یہ موئی زینت تو ایک ہی بچی کو جنم دے کے مر گئی۔ ‘‘ انکے ارادے مجھے اس قدر خظرناک لگے گویا وہ صغراں سے بیک وقت دس بیٹے پیدا کروا کے ہی دم لیں گی ۔
sardar janخیر ہم سردار صاحب کے عزم کا ذکر کر رہے تھے ۔سردار صاحب کے ۳۵ بچے ہیں ،انکا سب سے بڑا بیٹا ۱۵ برس کا اور سب سے چھوٹا بیٹا چند ماہ کا ہے۔پیشے کے اعتبار سے سردار صاحب میڈیکل ٹیکنیشن ہیں اور اپنا کلینک چلا رہے ہیں ۔سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا ایک میڈیکل ٹیکنیشن کلینک چلانے کا تجربہ کیسے رکھ سکتا ہے۔کیونکہ میڈیکل کے آلات ٹھیک کرنے والا ( اگر میرا علم ناقص نہیں تو میڈیکل ٹیکنیشن کا کام آلاتِ جراحی ٹھیک کرنا ہوتا ہے) ایک کلینک کس بنیاد پر چلا رہا ہے؟؟؟
دوسری طرف یہ بھی بتایا گیا کہ سردار صاحب نے ایک مدرسہ بھی کھول رکھا ہے،جہاں انکے چار بیٹے زیرِتعلیم ہیں جبکہ ۲۰ بچے نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔سردار صاحب مولوی ہیں ، قاری ہیں ،ڈاکٹر ہیں یا کیا ہیں بھائی؟؟؟؟مجھے تو لگتا سردار صاحب کے پاس الہ دین کا چراغ ہے جس کو رگڑ رگڑ کر وہ دھڑا دھڑ بچے بھی پیدا کیے جارہے ہیں اور ان بچوں اور بیویوں کے اخراجات جو ایک لاکھ ۲۰ ہزار ہیں وہ بھی بخوبی پورے کر رہے ہیں ۔
وہ بات جو دنیا کے کسی کونے میں نا ممکن ہے وہ بھی سردار صاحب نے ناجانے کیسے ممکن کر دکھائی کہ انکی تینوں بیویاں باہمی تعاون کے ساتھ بڑی خوشگوار اور مطمئن زندگی گزار رہی ہیں ۔یہ سب کچھ تو الہ دین کے چراغ سے ہی ممکن ہے۔ایسا چراغ تو ہر شادی شدہ مرد کے پاس ہونا چاہئے۔
سردار صاحب کوئی معمولی سردار صاحب نہیں ہیں ۔وہ ۲۰۱۳ کے صوبائی الیکشن کے انتخابات میں ڈبل بیڈ کے انتخابی نشان سے انتخابات لڑ چکے ہیں ۔ویسے میرے خیال میں تو یہ انتخابی نشان ٹرپل بیڈ ہونا چاہیے تھا، یا ہو سکتا ہے اس وقت سردار صاحب کی دو ہی بیویاں ہوں ۔تیسری بعد میں آئی ہو ۔ بہر حال سردار صاحب ا پنے نیک ارادے کو پور ا کرنے کے لیے چوتھی بیوی کی تلاش میں ہیں ۔سردار صاحب کی نظر سے اگر میری تحریر گزرے یا انکے کسی عقیدت مند کی نظر کی زینت بنے تو واللہ غصہ نا ہوں ۔ میری نیک دعائیں سردار صاحب کے ساتھ ہیں ۔اور انکے عزم کو بخیرو عافیت منزلِ مقصود تک پہنچنے پر ہم حکومت سے اپیل کریں گے کہ سردار صاحب کو تمغۂ جرات سے نوازیں۔دوسری جانب برتھ کنٹرول ادارے نے بھی سردارصاحب کا بھرپور ساتھ دیا۔اور امید کی جاتی ہے کہ اسی طرح سردار صاحب کا ٹارگٹ پورا کرنے میں تعاون کرتے رہیں گے ۔

Views All Time
Views All Time
806
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   انسان کے رنگ پروفیسر - محمد عبداللہ بھٹی
Previous
Next

One commentcomments9

  1. Keep it up sardaar sahb ham ap k saath hain…:-P

  2. Keep it up faiza nice topic

  3. Very nice with strong message

  4. Hahahahahha kya bat he nice topic

  5. O bhai koi pakro Sardar G ko nai to ye apni army force bana le ge.

  6. Good good Sardar g very good

  7. Zeeshan Zulfiqar

    Sardar sab zindabad?….

  8. Hahahaha
    Alaaaaaaa
    Nice topic….and the Message

  9. Good attempt… keep it up faizi 🙂

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: