بڑی کرپشن کا بڑا فیصلہ، فیصلہ مؤخر کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

Print Friendly, PDF & Email

قلم کار (ویب ڈیسک) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ مؤخر کرنے کی درخواست پر سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرکررہے ہیں۔
مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے سماعت کے آغاز پر فیصلہ مؤخرکرنے کی درخواست پردلائل دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف اورمریم نواز اشتہاری نہیں ہیں۔
سابق وزیراعظم کی صاحبزادی کے وکیل نے کہا کہ 7دن بعد نوازشریف اور مریم نواز عدالت میں پیش ہوجائیں گے جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹرنیب سردار مظفر نے کہا کہ محفوظ فیصلہ مؤخرنہیں کیا جاتا۔
احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم اور داماد کیپٹن محمد صفدر کے خلاف درخواست پرفیصلہ محفوظ کرلیا جو کہ ایک گھنٹے کے بعد سنایا جائے گا۔

 شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں سب سے بڑی کرپشن کا بڑا فیصلہ آج احتساب عدالت میں سنایا جائے گا۔
ایون فیلڈ ریفرنس پر 9 مہینے اور 20 دن جاری رہنے والی ٹرائل کے بعد آج وہ اہم دن ہے جب بڑی کرپشن کے بڑے ملزمان کو قانون کے شکنجے میں کسا جائے گا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فیصلہ سنائے جانے کے موقع پرضلعی انتظامیہ نے رینجرز کو طلب کررکھا ہے، 500 رینجرز اہلکار اور 1400 پولیس اہلکار بھی تعینات ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   عارضی فتح

احتساب عدالت جانے والے تمام راستے عام ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے ہیں اور اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے۔
سو سے زائد پیشیاں بھگتنے اور چار سو گھنٹے دلائل کی سولی پر چڑھے رہنے والے ملزمان سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور صاحب زادی مریم نواز کا انجام کیا ہوگا، کیا نواز کو سزا ہوگی، قوم کی نظریں احتساب عدالت پر لگی ہوئی ہیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کیس کا فیصلہ مؤخر کرنے کے لیے گزشتہ روز احتساب عدالت میں درخواست بھی دائر کی تھی نواز شریف نے اپیل کی تھی کہ مزید سات دن کی مہلت دی جائے۔
احتساب عدالت میں فیصلہ مؤخر کرنے کی درخواست کے ساتھ مرکزی ملزم کی اہلیہ کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ بھی جمع کرا ئی گئی تھی۔
شریف خاندان کے خلاف مختلف ریفرنسز کی سماعت کے دوران کئی اہم معاملات سامنے آئے جن میں جعلی فونٹ اور جعلی کاغذات سے لے کر اصلی جائیداد، پاناما، اقامہ اور ایون فیلڈ ریفرنس شامل ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذرائع آمدن کے سلسلے میں کیس ثابت ہونے پر شریف فیملی کو چودہ سال قید سمیت پانچ سزائیں ہوسکتی ہیں، قید کے بعد دس سال نا اہلی بھی ہوسکتی ہے، اگر ملزمان عدالت میں پیش نہ بھی ہوں تو فیصلے پر فرق نہیں پڑے گا۔

Views All Time
Views All Time
92
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: