Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ارجنٹائن تین دن سے اپنی لاپتہ آبدوز کی تلاش میں مصروف، ناسا کی خدمات حاصل کر لیں

by نومبر 19, 2017 ہیڈ لائن
ارجنٹائن تین دن سے اپنی لاپتہ آبدوز کی تلاش میں مصروف، ناسا کی خدمات حاصل کر لیں
Print Friendly, PDF & Email

بیونس آئرس (یو این این) ارجنٹائن کی بحریہ نے جنوبی بحر اوقیانوس میں تین روز سے لاپتہ آبدوز کی تلاش کا کام تیز کر دیا ہے۔ اس آبدوز میں عملے کے 44 ارکان سوار ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ارجنٹائن کے صدر موریکو ماکری نے کہاکہ حکومت عملے کے خاندانوں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سان ہوان نامی اس آبدوز کی جلد از جلد تلاش کو ممکن بنانے میں مدد کے لیے تمام قومی اور بین الاقوامی وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے،بحریہ کے ترجمان اینریکے بالبی نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ہم آبدوز کو تلاش نہیں کر پائے ہیں اور اس کے ساتھ ہمارا بصری یا ریڈار پر مواصلاتی رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔

یہ ڈیزل الیکٹرک آبدوز، جنوبی امریکہ کے جنوبی کنارے اوشوآئیا سے ایک معمول کے مشن کے بعد بیونس آئرس کے جنوب میں اپنے بحری اڈے مار ڈیل پلاٹا واپس آ رہی تھی۔ بحریہ کی کمانڈ کے ساتھ اس کا آخری رابطہ بدھ کی صبح ہوا تھا۔ خیال ہے کہ شاید آبدوز میں بجلی کی فراہمی منقطع ہونے کی وجہ مواصلات میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ بحری پروٹوکول کے مطابق اگر کسی آبدوز کا رابطہ منقطع ہو جائے تو اسے سطح پر آ جانا چاہیے۔ بالبی نے کہاکہ ہمیں توقع ہے کہ وہ سطح پر ہے۔واضح رہے کہ جرمنی کی تیارہ کردہ اس آبدوز کا 1983 میں افتتاح کیا گیا تھا جو ارجنٹائن کے بحری بیڑے میں شامل تین آبدوزوں میں سب سے نیا اضافہ تھا۔ بالبی نے بتایا کہ ارجنٹائن کی فضائیہ کے ایک جہاز ہرکیولیز سی ون 30 کے ساتھ ساتھ امریکی خلائی ادارے ناسا کا ایک سراغ رساں طیارہ پی تھری آبدوز کی تلاش کے کام میں حصہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ارجنٹائن نےایک جنگی اور دو توپ بردارجہازوں کے ساتھ جزیرہ والدیز کے جنوب مشرق میں اس علاقے کے اردگرد آبدوز کی تلاش کا کام شروع کیا ہے جہاں آخری بار اس سے رابطہ ہوا تھا۔ لیکن اب تک اس کے ٹھکانے کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔مسٹر بالبی نے کہا کہ آبدوز کے ساتھ مواصلاتی رابطہ ختم ہوئے کئی گھنٹے گزر گئے ہیں جو باعث تشویش ہے۔انھوں نے کہا کہ آبدوز کے ساتھ کوئی بصری یا رڈار سے رابطہ نہ ہونے کےبعد ریسکیو آپریشن کو باضابطہ طور پر اب گریڈ کرکے تلاش اور ریسکیو آپریشن کر دیا گیا۔ بالبی کے بقول تلاش کے کام میں کئی کشتیوں اور جہازوں کے حصہ لینے کے باوجود پتہ لگانے میں مشکل پیش آرہی ہے۔تیز ہواوں اور اونچی لہروں نے امدادی کارکنوں کے کام کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

Views All Time
Views All Time
165
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پاکستانی نصاب تبدیل کیا جائے ،امریکی کمیشن کا دباؤ
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: