Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ملکہ برطانیہ کے بعد پرنس چارلس بھی پیراڈائزڈ لیکس میں – قلم کار

by نومبر 8, 2017 ہیڈ لائن
ملکہ برطانیہ کے بعد پرنس چارلس بھی پیراڈائزڈ لیکس میں – قلم کار
Print Friendly, PDF & Email

لندن (یو این این)مبینہ ٹیکس چوری کے لیے بنائے گئے آف شور اکانٹس کی تفصیلات منظر عام پر لانے والے پیراڈائز پیپرز میں ملکہ برطانیہ کے بعد شہزادہ چارلس کا نام بھی سامنے آگیا ہے۔ پیرا ڈائز لیکس کے مطابق شہزادہ چارلس کی کمپنی نے برمودا میں اپنے دوست کی آف شور کمپنی میں سرمایہ لگا کر زبردست منافع کمایا۔ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم کے حوالے سے بھی یہی انکشاف کیا گیا تھا کہ انہوں نے آف شور کمپنیوں میں کئی ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی۔پیراڈائز لیکس سامنے آنے کے بعد برطانوی میڈیا میں شاہی خاندان ایک بار پھر موضوع بحث ہے۔دوسری جانب ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ معاملات کو مزید شفاف بنایا جائے۔گزشتہ برس جاری ہونے والے پاناما پیپرز پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فونسیکا کی دستاویزات پر مبنی تھے لیکن اب جاری ہونے والے پیراڈائز پیپرز کمپنی ایپل بائی کی دستاویز پر مشتمل ہیں۔ پیراڈائز پیپرز میں 47 ممالک کے 127نمایاں افراد کے نام شامل ہیں۔ پیراڈائز لیکس میں ایک کروڑ 34لاکھ دستاویزات شامل ہیں اور اس کام کیلئے 67ممالک کے 381صحافیوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔پیراڈائز لیکس کا بڑا حصہ کمپنی ایپل بائی کی دستاویزات پر مشتمل ہے اور یہ دستاویزات سنگاپور اور برمودا کی دو کمپنیوں سے حاصل ہوئی ہیں۔ پیرا ڈائز پیپرز پہلے جرمن اخبار نے حاصل کئے اور آئی سی آئی جے کے ساتھ شیئر کئے ۔ ان میں 180 ممالک کی 25 ہزار سے زائد کمپنیاں، ٹرسٹ اور فنڈز کا ڈیٹا شامل ہے۔ پیراڈائز پیپرز میں 1950 سے لے کر 2016 تک کا ڈیٹا موجود ہے ۔پیراڈائز پیپرز میں جن ممالک کے سب سے زیادہ شہریوں کے نام آئے ہیں ان میں امریکا 25 ہزار 414 شہریوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔ برطانیہ کے 12 ہزار 707 شہری، ہانگ کانگ کے 6 ہزار 120شہری، چین کے 5 ہزار 675 شہری اور برمودا کے 5 ہزار 124 شہری شامل ہیں۔

Views All Time
Views All Time
115
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   زیادہ بحث مردوں کیلئے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے: تحقیق
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: