Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے خطرے میں ہیں : ٹرمپ کا یورپ کو انتباہ

by اکتوبر 23, 2017 ہیڈ لائن
ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے خطرے میں ہیں : ٹرمپ کا یورپ کو انتباہ
Print Friendly, PDF & Email

واشنگٹن(یو این این)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ یورپی ممالک ایران کو ٹکنالوجی کی فروخت کے ذریعے تہران کے ساتھ اربوں ڈالر کے سمجھوتے کر رہے ہیں تاہم اس روش کو جاری رکھنے کے بعد یورپ کے لیے یہ مشکل ہو جائے گا کہ وہ تہران کے ساتھ کچھ کر سکے۔ اتوار کی رات امریکی چینل "فوکس نیوز” کے ساتھ انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ "یورپی ممالک کے سربراہ میرے دوست ہیں۔ میں نے ان کو کہہ دیا ہے کہ آپ لوگ ایران کے ذریعے مال بنا سکتے ہیں اور حوالے سے فکرمند نہ ہوں۔ ایران جرمنی ، فرانس اور دیگر ممالک سے ٹکنالوجی خرید رہا ہے جو کہ اربوں ڈالروں کے سمجھوتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ ہم سے بھی بوئنگ طیارے خریدے گا اگرچہ مجھے معلوم نہیں کہ یہ سمجھوتہ پایہ تکمیل تک پہنچے گا یا نہیں۔ تاہم جب ایران یورپ سے یہ ٹکنالوجی خرید رہا ہے تو بعد ازاں ان ممالک پر تہران کے ساتھ نمٹنا مشکل ہو جائے گا۔ جہاں تک میرے لیے ان ممالک کی سپورٹ کا تعلق ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایسا کریں گے”۔ شمالی کوریا کے حوالے سے ٹرمپ نے ایک بار پھر اس موقف کو دہرایا کہ شمالی کوریا کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا تمام تر امکانات کے واسطے پوری طاقت کے ساتھ تیار ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ "ہم اس حد تک تیار ہیں کہ آپ ہر گز یقین نہیں کریں گے۔ اگر ضرورت پڑی تو پھر آپ ہماری مکمل تیاری دیکھ کر حیران رہ جائیں گے”۔ امریکی صدر نے پیونگ یانگ کے خلاف فوجی آپشن کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پوچھا جائے کہ ایسا نہ کرنا بہتر ہوگا تو جواب ہے ” جی ہاں” اور اگر یہ پوچھا جائے کہ کیا ایسا ہوگا تو جواب ہے "کوئی نہیں جانتا”۔ ٹرمپ اس سے پہلے یہ موقف دہرا چکے ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو پیونگ یانگ کو عسکری حملے کا نشانہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔ امریکی صدر شمالی کوریا کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔

Views All Time
Views All Time
154
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   نئے آغاز کا امکان | ایاز امیر
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: