سعودی عرب جرمنی میں مذہبی انتہا پسندی کا سپورٹر : جرمن انٹیلی جنس

Print Friendly, PDF & Email

(قلمکار مانٹیرنگ ڈیسک )ایک جرمن زبان کی ویب سائٹ

http://www.sueddeutsche.de/…/extremismus-saudis-unterstuetz…

کے دعوے کے مطابق جرمن اخبار Süddeutsche Zeitung میں ایک خصوصی سٹوری شایع ہوئی ہے-جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ جرمنی کی ایک انٹیلی جنس رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ سعودی عرب جرمنی میں وہابی بنیاد پرستوں کو فنڈنگ کررہا ہے۔اس انٹیلی جنس رپورٹ کے اہم نکات یہ ہیں:

سعودی عرب، کویت اور قطر کی بہت سی تنظیمیں ایسی ہیں جن پہ شبہ ہے کہ وہ جرمنی میں وہابی بنیاد پرستوں کی مدد کررہی ہیں۔

اس اخبار کا کہنا ہے کہ یہ خفیہ رپورٹ جرمنی کے سرکاری اداروں این ڈی آر ، ڈبلیو ڈی آر ، بی این ڈی اور فیڈرل آفس فار پروٹیکشن آف دی کانسٹی ٹیوشن کی تحقیقات پہ مشتمل ہے۔

حکومت کو تشویش یہ لاحق ہے کہ جرمنی میں متشدد وہابی بنیاد پرست سین اور زیادہ وسیع ہوسکتا ہے۔

جرمنی کے صحافی جارج ماسکولو نے برلن سے اس رپورٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ جرمن حکام کا خیال یہ ہے کہ جرمنی ویں وہابی بنیاد پرستوں کو سعودی،کویتی اور قطری  تنظیموں سے ملنے والی یہ امداد ان ملکوں کی حکومتوں کی اجازت اور علم سے ہورہی ہے۔
جرمن حکام کا کہنا ہے کہ عرب ریاستوں کی جانب سے وہابی بنیاد پرستوں کو ملنے والی امداد جرمنی کے اندر وہابی مساجد اور وہابی مذہبی سنٹرز کی تعداد میں اضافہ کررہی ہیں اور اس سے یہاں پہ وہابی بنیاد پرست ملازم مولویوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔اور اس سے وہابی بنیاد پرست برانڈ جرمنی کے اندر بڑھتا جارہا ہے۔

حکومت کا خیال یہ ہے کہ وہابی بنیاد پرست مذہب بنیادی طور پہ بہت تنگ نظر، عدم برداشت اور پسماندگی پہ مبنی ہے اور یہ جرمنی کے معاشرے میں عدم برداشت ، تشدد اور پھر دہشت گردی کو پروان چڑھا سکتا ہے اور جرمن حکومت کا یہ بھی خیال ہے نئے شامی اور عراقی پناہ گزینوں میں وہابی بنیاد پرست اور انتہا پسند بھی شامل ہوسکتے ہیں جو یہاں اور زیادہ عدم برداشت پھیلاسکتے ہیں۔

دو جرمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کا خیال یہ ہے کہ وہابی بنیاد پرست تنظیمیں طویل المعیاد سٹریٹجی پہ عمل پیرا ہیں۔جیسے احیائے اسلام ہیرٹیج سوسائٹی –آر آئی ایچ ایس کویت سے ، شیخ عید چئیریٹی فاؤنڈیشن قطر سے اور مسلم ورلڈ لیگ سعودی عرب سے یورپی اور جرمن وہابی بنیاد پرست مساجد اور مدارس کو فنڈنگ کررہی ہیں۔

آر آئی ایچ ایس نے جنوبی جرمنی کے ایک شہر میں 3300 مربع میٹر زمین خرید کی اور یہاں پہ معذروں کے لئے ایک مرکز بنانے کا منصوبہ رکھا جس کی آڑ میں ساتھ ہی وہابی مدرسہ اور وہابی تعلیمی مرکز کھولنے کی کوشش کی گئی جس پہ جرمن پولیس نے مداخلت کی اور اس دوران جرمن حکام کو معلوم ہوا کہ آر آئی ایچ ایس امریکہ میں 2008ء میں دہشت گردوں کو فنڈنگ کے سبب بین ہوچکی ہے۔بظاہر آر آئی ایچ ایس اور سعودی حکومت میں باقاعدہ کوئی لنک نظر نہیں آیا لیکن جب کوئی اس تںطیم کے خلاف کاروائی شروع ہوئی سعودی حکام سرگرم نظرآئے۔جرمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کہنا یہ ہے کہ اس تنطیم کی اور جہادی دہشت گردی وہابی بنیاد پرست تنظیموں کی فکر اور نظریہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔

جرمنی کی وفاقی حکومت نے سعودی عرب کو کئی مرتبہ کہا ہے کہ وہ جرمنی میں وہابی بنیاد پرستوں کی مدد کرنا بند کرے۔لیکن ریاض میں حکومت کا کہنا ہے جرمنی میں وہابی بنیاد پرست تنظیميں خود مختار ہیں جبکہ جرمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مطابق ان تنظیموں کا سعودی حکومت سے سعودی عرب میں گہرا تعلق ہے-انٹیلی جنس رپورٹ میں بہت سے سعودی آفیشل اور کئی ایک نامور مذہبی وہابی بنیاد پرست شخصیات کا جرمنی میں داخلہ بند کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

Views All Time
Views All Time
395
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   اک ملاقات اک فسانہ - حیدر جاوید سید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: