Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کوئٹہ – پولیس ٹریننگ سنٹر پر دہشت گردوں کا حملہ، 55 اہلکار شہید

by اکتوبر 25, 2016 ہیڈ لائن
کوئٹہ – پولیس ٹریننگ سنٹر پر دہشت گردوں کا حملہ، 55 اہلکار شہید
Print Friendly, PDF & Email

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں تین خودکش حملہ آوروں نے کوئٹہ کے پولیس ٹریننگ کالج پر حملہ کر کے کم از کم 55 پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے اور اس حملے میں سو سے زائد افراد زخمی ہیں۔

سکیورٹی فورسز کے مطابق حملہ آور مارے جا چکے ہیں اور علاقے کو سرچ آپریشن کے بعد کلیئر کر دیا گیا ہے۔

یہ حملہ پیر کی شب رات دس بجے کے قریب پر کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے زیادہ تر زیر تربیت پولیس اہلکار ہیں۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے جائے وقوعہ کے دورے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سب سے پہلا حملہ پولیس ٹریننگ سینٹر کے عقبی علاقے میں واقع واچ ٹاور پر کیا گیا جہاں موجود سنتری نے بھرپور مقابلہ کیا لیکن جب وہ مارا گیا تو حملہ آور دیوار پھلانگ کر کالج کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کی اطلاع ملتے ہی ایف سی، پولیس اور کمانڈو وہاں پہنچ گئے اور حملہ آوروں کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا۔

وزارتِ داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 55 زیادہ ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ نے بتایا کہ حملہ آوروں میں سے دو نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا جبکہ بقیہ ایک کو سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے مار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی چار گھنٹے میں مکمل کی گئی۔

آئی جی ایف سی میجر جنرل شیر افگن نے میڈیا کو بتایا کہ حملہ آوروں کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی العالمی سے تھا اور انھیں افغانستان سے ہدایات مل رہی تھیں۔ انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ ممکن ہے کہ کچھ پولیس اہلکار بھی حملہ آوروں سے ملے ہوئے ہوں۔

میجر جنرل نے کہا کہ سکیورٹی اداروں نے اس سے قبل حالیہ مہینوں میں کئی بار حملوں کی کوشش کی جنھیں ناکام بنا دیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ شدت پسندوں نے محرم کے موقعے پر بھی ایک بڑے حملے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم سکیورٹی اداروں نے اسے ناکام بنا دیا۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں غیر ملکی سیکورٹی ایجنسیاں ملوث ہو سکتی ہیں۔

انھوں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ یہ حملہ سکیورٹی میں کسی نقص کی وجہ سے ہوا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ایسی بات سامنے آئی تو اس کے بارے میں تحقیقات کی جائیں گی۔

دوسری جانب سول ہسپتال میں موجود سیکریٹری صحت نورالحق بلوچ نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ 85 زخمی اہلکاروں کو سول ہسپتال پہنچایا گیا ہے جبکہ 25 سے زائد زخمی اہلکاروں کو بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق کئی اہلکاروں نے عمارت سے باہر نکلنے کے لیے چھلانگیں لگائیں جن سے وہ زخمی ہو گئے اور ان کا مقامی ہسپتالوں میں علاج جاری ہے۔

زخمیوں کو شہر کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، اور شہر کے تمام ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے جب کہ ڈاکٹروں کی چھٹیاں معطل کر دی گئی ہیں۔

بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ ثنا اللہ زہری نے مقامی نیوز چینل جیو نیوز کو بتایا کہ ’مجھے چند روز پہلے اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کچھ دہشت گرد کوئٹہ شہر میں گھس گئے ہیں جس کے بعد پورے شہر میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا تھا۔ انھیں شہر کے اندر موقع نہیں ملا تو وہ شہر سے باہر تربیتی مرکز تک پہنچ گئے۔‘

سکیورٹی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ’یہ تربیتی مرکز خاصے بڑے علاقے پر پھیلا ہوا ہے اور اس کا رقبہ دو ڈھائی سو ایکڑ ہے۔ یہ شہر سے 15 کلومیٹر دور ہے اور وہاں رات کے وقت اور سردیوں کے موسم کا فائدہ اٹھا کر کوئی بھی گھس سکتا ہے۔‘

ٹریننگ سینٹر سے بازیاب کروائے گئے ایک زیرِ تربیت اہلکار نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ساڑھے نو سے دس بجے کے درمیان شدت پسندوں نے اندر داخل ہوتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

پاکستان فوج کے شعبۂ اطلاعات آئی ایس پی آر نے بھی ایک پریس ریلیز جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پانچ سے چھ دہشت گرد تربیتی مرکز میں داخل ہوئے ہیں اور ان کے خلاف آپریشن جاری ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

 

Views All Time
Views All Time
280
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   نائجیریا کی فضائیہ نے ’غلطی سے‘ درجنوں افراد ہلاک کر دیے
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: