نیا علاقائی اتحاد اور ہمارے سیاستدان

Print Friendly, PDF & Email

akram sheikhیہ محض حسن اتفاق نہیں ….بلکہ نئی علاقائی صف بندی کی نئی حقیقت ہے کہ…. بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا افسر کل بھوشن ایران کے راستے بلوچستان آیا اور گرفتار ہوا۔ یہ شخص بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی اور غیر قانونی سرگرمیوں کی نگرانی کرتا تھا….جس پر پاکستان نے ایران اور ہندوستان کے ساتھ رابطہ بھی کیا۔
اسے بھی محض حسن اتفاق نہیں کہا جا سکتا کہ….تحریک طالبان افغانستان کا سربراہ ملا اختر منصور بھی ایران کے راستے ہی بلوچستان میں داخل ہوا اور اس کو بلوچستان کے علاقہ نوشکی میں ہی امریکا نے ڈرون حملے کا نشانہ بنایا جب وہ اور اس کا ڈرائیور سفر کر رہے تھے۔ گاڑی کے پرخچے اڑ گئے دونوں ہی مسار جل کر کوئلہ بن گئے۔ مگر ملا اختر منصور کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ محفوظ رہے۔
پاکستانی حکام نے کہا کہ….وہ ملا اختر منصور نہیں بلکہ کوئی اور شخص ہے۔ لیکن کچھ دن بعد جب اس کی لاش وصول کرنے کوئی شخص آیا اور ادھر تحریک طالبان کی قیادت آیندہ کی امارت کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ گئی تو نیم دلی سے اعتراف کیا گیا لیکن وہ ابھی ادھورا۔ اس میں بھی الزام تراشی تھی۔
امریکا کے صدر اوباما دعویٰ کر رہے تھے کہ ہلاک ہونے والا شخص ملا اختر منصور ہی تھا اور کہا گیا کہ….پاکستان کی سرزمین میں موجود خطرات کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے جو دہشت گرد اقوام عالم کے لیے خطرہ ہیں انھیں محفوط ٹھکانے نہیں ملنے چاہییں۔ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں دنیا کے لیے خطرہ ہیں ان کا خاتمہ کریں گے….اس واضع دھمکی سے کچھ اور اشارے بھی واضع ہوتے ہیں جن کو نئے علاقائی سیاسی اور اقتصادی اتحاد کے تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ٹھکانے مبینہ طور پر کہاں کہاں موجود ہیں اور ان کو ختم کرنے کے لیے کہاں سے ”ڈیمانڈز“ آتی ہیں اس کو بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے۔ اور پھر اس کا اندازہ لگانے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہیے کہ ڈرون حملے بلوچستان سے بھی آگے بڑھ سکتے ہیں بلوچستان میں ڈرون حملہ عین اس وقت ہوا تھا جب بھارت کے وزیراعظم اور افغانستان کے صدرایران کے دورے پر آنے والے تھے جہاں تینوںملکوں کے درمیان 12 معاہدے ہوئے تھے۔ ان کابنیادی مقصد چاہ بہار کی بندرگاہ کو فعال بنا کر تجارتی راہداری بنانا تھا جس پر بھارت کی طرف سے 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا گیا ہے مودی کا کہنا تھا کہ….تیل اور گیس کی صنعتیں نئی دہلی اور تہران میں اقتصادی تعاون کا اہم حصہ ہیں یاد رہے کہ….ایران سے نئی دہلی تک گیس پائپ لائن پاکستان کے راستے منصوبہ بھارت نے امریکا کی خواہش پر ہی منسوخ کیا تھا اس کے متبادل سمندر کے راستے گیس پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ سامنے آیا تھا جس کو اخراجات کی زیادتی کے باعث منسوخ کر دیا گیا تھا….کیا اب اسی کو قابل عمل بنایا جائے گا! یہ امر قابل ذکر ہے کہ بیس پچیس سال پہلے نہ تو امریکا اور بھارت یوں مل کر ایشیا میں سیاسی اور اقتصادی بالادستی کے خوابوں کو عملی شکل دے رہے تھے اور نہ ہی ایران اور امریکا کے درمیان بہتر تعلقات تھے بلکہ ایران کے ایٹمی پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں مبینہ مداخلت کی بنا پر ایران کو اقتصادی پابندیوں کا سامنا تھا جو اب مشروط طور پر ختم ہو گئی ہیں جس کے بعد یورپی ممالک کے بھی ایران کے ساتھ اقتصادی روابط ہو ئے ہیں تو ادھر ہندوستان میں مجموی معاشی ترقی کی شرح بھی سات فی صد سے زائد نہیں تھی….ایران اور بھارت کا علاقائی سطح پرسیاسی کردار بھی اتنہائی محدود تھا۔ جب کہ مذکورہ اقتصادی پابندیوں کے دوران میں ایران بھی خطے میں ایک نئی معاشی قوت بن کر باقاعدہ سامنے آ چکا ہے اور اب وہ علاقائی کردار کے لیے بھی متحرک ہے…. یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک تہران، بیجنگ اور ماسکو کے درمیان تعلقات کے فروغ کی باتیں بھی چلتی رہی ہیں تینوں ملکوں کے درمیان اقتصادی رابطوں کو نئے ایشیائی اتحاد کے تناظر میں بھی دیکھا جاتا تھا۔ لیکن اب یہ صورت حالات بالکل الٹ ہو گئی ہے۔ ایران، بھارت افغانستان یا امریکا نئے علاقائی اتحاد کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ جن کے بالمقابل چین، روس اور پاکستان ایک صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں اس کی قیادت چین کے پاس ہے۔ جو پاکستان کی بندرگاہ گوادر کو صرف تجارتی اور صنعتی مرکز ہی نہیں بنانا چاہتا بلکہ یہاں سے مشرق وسطیٰ کی مارکیٹوں تک آسان رسائی کا خواہشمند ہے۔ جب کہ امریکی حکام کی طرف سے یہ ردعمل بھی سامنے آ چکا ہے کہ گوادر کو چین ”نیول بیس“ نہیں بنانے دیں گے۔ یاد رہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے رواں مہینے بیجنگ کا دورہ کیا ہے جہاں ان کی ملاقاتیں اپنے ہم منصب کے علاوہ چینی حکام سے بھی ہوئی ہیں انھوں نے ”سی پیک“منصوبے کو ہر حال میں پایہءتکمیل تک پہنچانے کا عزم بھی دہرایا ہے جس کی سیاسی چینی قیادت نے بھی تائید کی ہے۔
صاحبو….افسوس کہ ہماری بعض سیاسی جماعتیں اور سیاستدان ”پاناما پیپرز“ پر اپنی سیاست کی دکانیں چمکائے ہوئے ہیں ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ نوازشریف سے وزارت عظمیٰ کا قلمدان چھین لیا جائے لیکن انھیں علاقائی سطح پر ہونے والی سیاسی اور اقتصادی تبدیلیوں اور نئی صف بندیوں کا ادراک ہی نہیں۔ کہیں ٹی او آرز پر اختلافات کے باوجود سیاسی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تو کہیں کرپشن کے خاتمہ تک ”ٹرین مارچ“ جاری رکھنے کا اعلان کیا جا رہا ہے تا کہ سیاسی افراتفری موجود رہے اور پاکستان نئے سیاسی منظرنامے میں کوئی فیصلہ کن کردار ادا نہ کر سکے امریکا سے دیرینہ رفاقت چھوڑ کر آزاد اور مثبت عمل کی طرف پیش رفت کر سکے۔ پاکستان سیاسی اور اقتصادی زنجیروں میں جکڑا رہے اور عالمی مالیاتی اداروں سے رہائی حاصل نہ کر سکے۔
اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ….غلامی سے رہائی بہت مشکل ہوتی ہے غلامی سے زیادہ بری غلامانہ ذہنیت ہوتی ہے اور غاصب بھی آسانی سے غلاموں کو آزاد نہیں کرتے۔ لیکن وقت اور حالات کے جبر میں ایسے مواقع کم کم ہی آتے ہیں اور جو قومیں ان کی قیادتیں اگر ان سے فائدہ نہیں اٹھاتیں تو وہ بھی تیزی سے گذرتے ہوئے وقت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ اس لیے صاحبو….آؤ اس موڑ پر کھڑے ہو کر صدائے اتحاد بلند کریں اور اپنے اپنے قائدین کو بھی دانشمندی کا مشورہ دیں۔

Views All Time
Views All Time
371
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   افغانستان میں دنیا کے سب سے بڑے بم سے حملہ-علی عمران شاہین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: