Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

چھوٹی چھوٹی خوشیاں

چھوٹی چھوٹی خوشیاں
Print Friendly, PDF & Email

دسمبر 2017ء کی ایک شام کراچی میں اس دن بہت ٹھنڈ تھی۔ لیکن چونکہ گاؤں میں شادی تھی اس کی شاپنگ بھی مجھے کرنی تھی لہذا اپنی کزن کو ساتھ لیا اور مارکیٹ آ گئی۔

تین چار گھنٹے شاپنگ کرنے کے بعد تھک گئے تھے۔ واپسی کی راہ لی۔ مارکیٹ سے باہر آ کر ڈرائیور کو کال کی۔ اندھیرا ہو گیا تھا۔ ہم گاڑی کا انتظار کر رہے تھے کہ اتنے میں ایک چار پانچ سال کی بچی اس سردی میں چھوٹی چھوٹی آستینوں کی باریک سی قمیض پہنے میرے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑی تھی۔ میں نے چونک کر اس بچی کو دیکھا اور بولی تمہاری ماں کیسی عورت ہے جو اتنی سردی میں تمہیں بھیک مانگنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ پیار سے اس کے گال پر ہاتھ رکھا اور پرس میں ہاتھ ڈالا تو شاید دس روپے کا نوٹ تھا۔ اس کو تھما دیا اور جلدی سے پرس بند کیا۔ کیونکہ کراچی کے جو حالات ہیں وہ سب جانتے ہیں۔ اس لیے میں نے اسے جو ہاتھ میں آیا اس بچی کو دے دیا۔

وہ بچی پیسے لے کر بھاگ گئی۔ تو میں نے دیکھا سامنے ہی ایک دوکان کے آگے ایک عورت تین بچوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔ اس نے وہ پیسے ماں کو دیے اور میری طرف اشارہ کر کے اپنی ماں کو کچھ بتایا۔ اس نے جو بھی بتایا ہو۔ لیکن اس کے چہرے کی خوشی میں بھولتی نہیں۔ جو پیسوں سے زیادہ شاید اس بچی کو میرے پیار کرنے پر ہوئی یا پیار سے خیرات دینے پر۔ لیکن یہ تو خدا ہی جانتا ہے۔ مجھے بہت خوشی ہو رہی تھی۔ اتنے میں ہماری گاڑی آئی اور ہم گھر روانہ ہوگئے۔

اس دن سے میں نے سوچ لیا کہ اب میں جب بھی شاپنگ کروں گی اس میں کچھ حصہ اسی وقت کسی غریب کے لیے مختص کروں گی۔ جیسے اگر میں ہزار روپے خرچ کروں گی تو سو روپے اللہ کے نام دوں گی۔ جس نے مجھے اتنا دیا ہے کہ میں جو چیز خریدنا چاہوں خرید سکتی ہوں۔ یہ شکر ہے اس رب کا جس نے مجھے نوازہ ہے۔ اگر ہم سب اس طرح سے یہ طے کر لیں کہ اگر ہم اپنے بچوں کے لیے چار سوٹ لیں گے تو ایک کسی غریب کو بھی لے کر دیں گے، اپنے لیے چار چپلیں لیں گے تو ایک عام سی چپل خرید کر واپسی میں راستے میں بیٹھے ہوئے فقیر کو دیں گے۔ یہ شکر ہو گا اس رب کا۔ اور اللہ کہتا ہے شکر ادا کرنے سے میں نعمتوں میں اضافہ کرتا ہوں تو پھر دوستوں کیا خیال ہے اس بارے میں ایسی چھوٹی چھوٹی خوشیاں بانٹنی چاہئیے نا؟

Views All Time
Views All Time
374
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   خصوصی بچے خاص ہیں
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: