ضرورتِ رشتہ

Print Friendly, PDF & Email

Hussain Abbasسلّو، سلیم مرچنٹ چنگڑ کالونی کے انتہائی آوارہ، فضول اور ناکارہ لڑکوں کا گینگ لیڈرتھا۔ یہ اس گینگ کا لیڈر اپنے باپ ندیم مرچنٹ کی وجہ سے تھا۔ ندیم مرچنٹ صاحب کا اناج کا بڑا بیوپار تھااورسلّو ان کے بڑھاپے کے جذباتوں کی آخری نشانی ۔ حالانکہ سلّو سے بڑے اس کے سات بھائی اور چھ بہنیں تھیں مگر لمبائی کے حساب سے سلّو سب سے بڑا تھا۔ کوئی لگ بھگ چھ ساڑھے چھ فٹ کا۔ کچھ لوگوں کا تو یہ کہنا تھا اونٹ کا اونٹ ہوگیا ہے،اب ہم کو اونٹ کی لمبائی کیا پتہ۔ جہاں تک ہمارا دماغ کام کرتا ہے سلّو کوئی بارہ سال کی عمر کا تھا، جب مرچنٹ صاحب اپنی صراحی دار گول کمر کے گرد ہاتھ گھماتے تو تھپڑ سیدھا سلّو کے منہ پر پڑتا تھا۔ پھر اچانک دو تین سالوں میں وہ اتنا لمبا ہوگیا۔ہم کو لگتا ہے کہ اس کی لمبائی میں مرچنٹ صاحب کے تھپڑوں کا بڑا اہم کردار ہے ۔ سلّو ان سے بچنے کے لئے ہی لمبا ہوا ہوگا۔مگر اب مرچنٹ صاحب پہلے اس کے پیٹ ،جو کہ اس کی کمر سے لگا ہوا تھا، پر گھونسا مارتے تو وہ جھک جاتا۔ پھر اپنا روایتی تھپڑ اس کے منہ پر مارتے۔ پر ہمارا فائدہ تو اس کے تھپڑ کھانے میں ہی تھا ۔ وہ پہلے تھپڑ کھاتا، پھر ایک پورا سو روپے کا نوٹ لے کر اپنے مگرمچھ کے آنسو پونچھتا ہمارے ساتھ موج مستی پر نکل جاتا۔ پان ، بیڑی، تمباکو وغیرہ سے ہم سب آزاد تھے ۔ ہمارے دو ہی شوق تھے اچھا کھانا اور مفت کا کھانا۔ باقی سارے دوست تو ہماری ہی طرح فقرے تھے۔ تھپڑ تو ہر روز صبح و شام کبھی کبھی تو بے وقت بھی لگتے تھے مگر دودھ چینی کے پیسوں میں سے بچے ہوئے سکے بھی گھر واپس کرنے پڑتے تھے ۔ لہذا ہم روز صبح اٹھ کر یہ ہی دعا کرتے یا اللہ تو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے اور ہم غریبوں کا تو ہی سہارا ہے آج بھی ہمارے سلّو کو روز کی طرح دو چار درجن تھپڑ پڑوا دے اور تقریباََ ہر دن خدا ہماری دعا سن لیتا تھا۔
سلّو ہم سب دوستوں میں سب سے زیادہ لائق بھی تھا ۔ اللہ اللہ کر کے اس نے چھبیس سال کی عمر میں میٹرک کر ہی لیا تھا ۔ وہ بھی پورے ڈی گریڈ میں۔ ہم سب دوستوں نے تو پارٹی مانگ لی اور اگر نہیں بھی مانگتے تو بھی کھلانا تو اسی نے تھا۔آج ذرا خاص دن تھا ، اس لئے چائے کے ساتھ سموسے بھی منگوالئے وہ بھی اسپیشل۔ اس ہوٹل پر مکھیوں اور فقیروں کے علاوہ اگر کوئی اور آتا تھا تو وہ ہم تھے ۔ لہذا ہوٹل والے نے بھی بچے ہوئے اخبارکے ٹکڑے کئے اور ہر ٹکڑے پر ایک ایک سموسہ چٹنی کے ساتھ ڈال کر ہمارے ہاتھ میں دھردیا۔ سلّو اردو میں کمزور اور انگریزی میں ویک تھا۔ پر اتنا تو ہم بھی پڑھ سکتے تھے ۔
’’ضرورتِ رشتہ۔۔۔۔۔ ایک حسین دوشیزہ عمر بیس سال امریکہ میں مقیم۔۔۔۔۔ بس اس کے آگے کا اخبار کے ٹکڑے پر کسی اور کا سموسہ ہوگا بڑی مشکل سے سب اخبار کے ٹکڑے ادھر اُدھر سے پکڑے سب کو سیدھا الٹا کیا ، چٹنی صاف کی، مگر وہ بقیہ حصہ نہ ملا۔ آج ابّا بڑے یاد آئے ۔ روز مارتے اور کہتے ’’گدھے کے بچے کچھ پڑھ لے زندگی میں کام آئے گا ‘‘ ۔ اگر پتہ ہوتا کہ آج کے دن کے لیے کہہ رہے ہیں تو ضرور پڑھ لیتے ۔ ہائے امریکہ جانے کا چانس گنوادیا ۔ پڑھے لکھے ہوتے تو یہ تو پتہ ہوتا کہ یہ کون سا اخبار ہے۔ اب اردو کے اتنے اخبار نکلتے ہیں، کیا ہم سب پڑھ لیتے؟ ہمارا دماغ نا پھٹ جاتااور اگر اتنا پڑھ سکتے تو میٹرک نہ کرلیتے؟ میٹرک پر یاد آیا سلّو نے تو میٹرک کر لیا ہے اس کو دل بھر کر گالیاں دیں۔ ’’ تو ۔۔تونے تو میٹرک کیا ہے ، اخبار بھی نہیں ڈھونڈ سکتا۔۔۔اگر تو اخبار ڈھونڈ لے تو ہم تیرے ابا سے خود بات کریں گے۔ تیری شادی امریکہ والی گوری گوری میم سے کروائیں گے ۔ پھر تو امریکہ جائےگا ‘‘ وغیرہ وغیرہ سلّو کے جذبات کو بھڑکا کر ہم نے اس سے سوال کیا ’’ابے امریکہ جا کر ہم یاروں کو بھول تو نہیں جائےگا؟‘‘۔ سلّو کے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے چہرے پر ایسی مسکراہٹ کہ جس کو وہ روک ہی نہیں پا رہا تھا۔ جھٹ بولا ’’پاگل ہوگیا ہے تو ؟ میں تم لوگوں کو کیسے بھول سکتا ہوں ۔ میں تم سب کو وہاں بلاؤں گا۔ پھر ہم وہاں ٹھنڈی سڑک کے کنارے مونگ پھلی اور گوڈ لاٹھی کھائیں گے ‘‘ ۔ ہم نے لقمہ دیتے ہوئے کہا ’’ابے گوڈ لاٹھی وہاں کہاں ملے گی تو بھی نا۔۔۔‘‘ ابھی ہم سلّو کی شادی اس امریکہ والی میم کے ساتھ کرواکر امریکہ کی سڑکوں پر ناچ گا ہی رہے تھے کہ ہوٹل کے مالک نے ہمارے کان کے پردے ہلادئیے۔ ’’چلو چلو اٹھو یہاں سے ، آگے بڑھو ، کام کے نہ کاج کے۔۔۔ ناکارہ ، بیکار دس بندے اور پانچ چائے۔ مفت خورے اٹھو یہاں سے جگہ خالی کرو۔ کسٹمر آئے ہیں ۔۔۔‘‘ اور وہ نہ جانے کیا کیا سناتا رہا۔ ایک فقیر کے آگے ہم کو اپنی یہ بے عزتی اچھی نہیں لگی ۔ ہمیں بھی غصہ آگیا، پلٹے اور بولے۔ ’’ابے اوئے ! سن بے جب ہم امریکہ سے واپس آئیں گے نا تو تُو ہمارے آگے پیچھے گھومے گا تو ہم تیرے اس دو کوڑی کے ہوٹل پر تھوکنے بھی نہیں آئیں گے ۔ سمجھا تُو ؟چل ہٹ تھو ۔۔۔۔ ‘‘ اور ہم بھی اس کو زبانیں چلاتے گالیاں دیتے باہر آگئے۔ اور اخبار کے ٹکڑوں کی چٹنی صاف کر کر کے سلّو کو دیتے گئے پڑھ نا پڑھ میرے بھائی کوشش کر نا یار۔۔۔بلآخر وہ ٹکڑا مل ہی گیا جس پر بقیہ اشتہار چھپا ہوا تھا۔ سلّو نے اپنے میٹرک کا پورا زور لگاکر پڑھنے کی کوشش کی۔ تھوڑی دیر تک تو ہجے کی ، پھر سسکیوں کی اور پھر ہچکیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ سلّو یہ بولتا چیختا چلاتا گھر کی جانب دوڑ پڑا ’’ نہیں نہیں بالکل نہیں۔۔۔ ایسا نہیں کرونگا ہرگز نہیں کبھی بھی نہیں ۔ساری زندگی تم لوگوں کی خاطر ابا سے پٹائی کھائی پر یہ تو بلکل نہیں نہیں نہیں کبھی نہیں۔۔۔۔۔ ‘‘ چیختا ہوا بھاگتا جارہا تھا۔ ہم کچھ دیر تک تو حیران پریشان اخبار کر ٹکڑے کو ہاتھ میں لئے سوچتے رہے کہ کیا ہوا ۔ پھر ہمت کی اور ساتویں جماعت کا سارا سبق دھرا کر اس اشتہار کو پڑھنے کی کوشش کی۔ مکمل اشتہار کچھ یوں تھا:
ایک حسین دوشیزہ ، عمر بیس سال، امریکہ میں مقیم ، گرین کارڈ ہولڈر ، دونوں ہاتھوں اور پاؤں سے معزور ، اور ذہنی توازن بھی ٹھیک نہیں ، کے لئے اچھے شریف خاندانی نو جوان کے رشتہ کی ضرورت ہے عمر کی کوئی قید نہیں۔خواہش مند حضرات ذیل میں درج پتہ پر رابطہ کریں۔‘‘
اگلی صبح ہی سے سلّو یعنی سلیم مرچنٹ اپنے والد کے گودام پر کام کرنے جانے لگااور میں نے بھی آوارہ گردی چھوڑ موٹر مکینکی سیکھنا شروع کردی۔ آج سلیم کے تین بیٹے اور ایک چاند سی بیٹی ہے سب مرچنٹ ہاؤس میں ہی رہتے ہیں ۔ اب سلّو کو مرچنٹ صاحب بلکل نہیں مارتے بس کبھی کبھی جب صبح کمرے سے باہر آتا ہے تو منہ پر ایک ادھا نیل کا نشان نظر آتا ہے۔

Views All Time
Views All Time
457
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   اشتہار سے اشتہاء تک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: