Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

قومی نفاذ اردو کانفرنس

by جولائی 21, 2016 کالم
قومی نفاذ اردو کانفرنس
Print Friendly, PDF & Email

Rana Ijazآئین پاکستان کے آرٹیکل 251 کے تحت پاکستان کی قومی زبان اردو ہے ، جبکہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت قرار دے چکی ہے کہ پاکستان کی سرکاری و قومی زبان اردو ہے ۔اس وقت ملک بھرمیں صرف10 فیصد افراد انگریزی بول و سمجھ سکتے ہیں، جبکہ 90 فیصد افراد صرف اردو بول اور سمجھ سکتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود عوام پاکستان پر انگریزی زبان مسلط ہے اور ملک بھر میں عملی طور اردو کا نفاذ عمل میں نہ آسکا ہے ۔ ملک کے سرکاری و نجی اداروں سمیت پاکستان بھر کی عدلیہ میں عملی طور پر نفاذ اردو کے لئے 24 جولائی 2016 ء بروز اتوار بوقت ساڑھے نو بجے صبح ایوان قائد ( نظریہ پاکستان کونسل ) اسلام آباد میں ایک عظیم الشان ’’ قومی نفاذ ادرو کانفرنس‘‘ کا انعقاد عمل میں لایا جارہا ہے جس کے مہمان خصوصی محسن ملت ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہوں گے ۔ اس موقع پر ملک بھر کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے اہل قلم و اہل دانش شرکت کریں گے ، اس کانفرنس کے انعقاد سے یقیناملک میں نفاذ اردو کی راہ ہموار ہوگی۔
آج سے تقریباً ایک سال قبل 8 ستمبر 2015ء کے دن عدالت عظمیٰ پاکستان کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل تین رکنی بنچ نے نفاذ اردو کا تاریخ ساز فیصلہ سناتے ہوئے جوائنٹ سیکرٹری کابینہ وتمام وزارتوں اور ڈویژنز کے سیکرٹریز اور ایڈیشنل سیکرٹریز ،انچارج صاحبان ، سیکرٹری برائے وزیر اعظم ، وزیر اعظم آفس ، سیکرٹری وزارتِ اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ حکومت پاکستان اسلام آبادسمیت دیگر اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھاکہ وفاق کے زیر انتظام کام کرنے والے تمام ادارے (سرکاری و نیم سرکاری) اپنی پالیسیوں کا تین ماہ کے اندر اردو ترجمہ شائع کریں۔ وفاق کے زیر انتظام کام کرنے والے ادارے(سرکاری و نیم سرکاری) تمام قوانین کا اردو ترجمہ تین ماہ میں شائع کریں۔ وفاقی حکومت کے زیر انتظام کام کرنے والے تمام ادارے(سرکاری و نیم سرکاری) ہر طرح کے فارم تین ماہ میں انگریزی کے ساتھ اردو میں بھی فراہم کریں۔ تمام عوامی اہمیت کی جگہوں مثلا عدالتوں، تھانوں، ہسپتالوں، پارکوں، تعلیمی اداروں، بینکوں وغیرہ میں رہنمائی کے لیے انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی بورڈ تین ماہ کے اندر آویزاں کیے جائیں۔ پاسپورٹ آفس، محکمہ انکم ٹیکس، اے جی پی آر، آڈیٹر جنرل آف پاکستان، واپڈا، سوئی گیس، الیکشن کمشن آف پاکستان، ڈرائیونگ لائسنس اور یوٹیلٹی بلوں سمیت تمام دستاویزات تین ماہ میں اردو میں فراہم کریں۔ پاسپورٹ کے تمام اندراجات انگریزی کے ساتھ اردو میں بھی منتقل کیے جائیں۔ وفاقی حکومت کے زیر انتظام کام کرنے والے تمام ادارے(سرکاری و نیم سرکاری) اپنی ویب سائٹ تین ماہ کے اندر اردو میں منتقل کریں۔ پورے ملک میں چھوٹی بڑی شاہراہوں کے کناروں پر راہ نمائی کی غرض سے نصب سائن بورڈ تین ماہ کے اندر انگریزی کے ساتھ اردو میں بھی نصب کیے جائیں۔ فیصلے کے مطابق تمام سرکاری تقریبات/ استقبالیوں کی کارروائی مرحلہ وار تین ماہ کے اندر اردو میں شروع کی جائے۔‘‘
پاکستان سپریم کورٹ کے آئین کے آرٹیکل 251 پر عمل درآمد اور نفاذ اردو کا فیصلہ سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے ، کیونکہ ملکی ترقی کے لئے قومی زبان کا نفاذ ازحد ضروری تھا۔ جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ قوموں کی ترقی میں مادری اور قومی زبان نہایت ہی اہمیت کی حامل ہوتی ہے ، اور زبان سے ہی اشخاص اور معاشرے کا تہذیب و تمدن منسلک ہوتا ہے۔ پاکستان کی ترقی میں اردو زبان کا نفاذ بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے، اگرچہ ریاست پاکستان کی اس بنیاد سے اختلاف کرنے اور اس بنیاد کو کھوکھلا کرنے والوں کی بھی کمی نہیں، لیکن انھیں تحریک پاکستان سے کوئی ایسا حوالہ نہیں ملتا، جس سے وہ اردو کے سوا کسی دوسری زبان کو پاکستان کی قومی زبان کے طور پر ثابت کر سکیں۔ قائداعظم نے 1948 میں ڈھاکا میں اردو کو قومی زبان قرار دیا۔ قیام پاکستان سے پہلے سب ہی متفق تھے کہ اس مملکت کی زبان اردو ہوگی۔ 1948ء میں بھی قائداعظم نے تحریک پاکستان کے اسی موقف کو دہرایا۔
بلاشبہ پاکستان کا شمار باقاعدہ رائے شماری کے ذریعے وجود میں آنے والی ریاستوں میں ہوتا ہے۔ جب ریاست ایک ضابطے کے تحت وجود میں آئی، تو پھر اس کی بنیاد سے انحراف مناسب نہیں۔بنیادی طور اس کے قیام میں مذہب کو دخل تھا، مذہب کے بعد دوسری اہم چیز زبان تھی۔ برصغیر میں مسلمانوں کی علیحدہ ریاست کی تحریک کے دوران ہمیشہ دو ٹوک انداز میں اردو کو نئی ریاست کی زبان قرار دیا گیا۔ گویا زبان، مذہب کے ساتھ ریاستی نظریے کی دوسری بڑی بنیاد ہے۔ریاستوں کے امور آئین کے تابع ہوتے ہیں اور آئین ریاستوں کے مقاصد پر استوار ہوتا ہے۔ آئین میں ریاست کی بنیاد کو چھیڑنے کی اجازت نہیں ہوتی، کیوں کہ آئین سے پہلے ریاست وجود میں آتی ہے، جس کا کچھ پس منظر ہوتا ہے۔ اردو اور ہندی کے تنازع نے متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں میں شدید تشویش کی لہر پیدا کی۔ یہی وجہ ہے کہ 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کے وقت سے ہی اردو کو مسلمانوں کے ثقافتی ورثے کی حیثیت سے اپنے منشور میں شامل کیے رکھا۔ 1946ء میں پاک و ہند کی پہلی عبوری حکومت میں سردار عبدالرب نشتر وزیر ڈاک وتار بنائے گئے تو پہلی بار ریلوے کے نظام الاوقات، ٹکٹوں اور فارم پر اردوکو اختیار کیا گیا۔ 1946ء میں مسلم لیگ کے اجلاس میں فیروز خان نون نے انگریزی میں تقریر شروع کی تو ہر طرف سے ’’اردو۔اردو‘‘ کی آوازیں آئیں۔ جس پر انھوں نے چند جملے اردو میں کہے اور پھر انگریزی میں شروع ہو گئے، مجمع سے پھر اردو اردو کا مطالبہ ہوا، تو انھوں نے کہا کہ ’’مسٹر جناح بھی تو انگریزی میں تقریر کرتے ہیں۔‘‘ یہ سننا تھا کہ قائداعظم کھڑے ہوئے اور فرمایا ’’فیروز خان نے میرے پیچھے پناہ لی ہے، لہٰذا میں اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان کی زبان اردو ہو گی۔ ‘‘
پاکستان سپریم کورٹ کے آئین پاکستان کے آرٹیکل 251 پر عمل درآمد اور ملک میں نفاذ اردو کے فیصلے کو تقریباً ایک سال مکمل ہوگیا ہے ،مگرآج بھی ملکی اداروں میں انگریزی ہی کا راج ہے ، حتیٰ کہ خود عدلیہ میں بھی انگریزی ہی رائج ہے۔ پاکستان بھر میں اردو ہی وہ زبان ہے جسے تقریباً ہر فرد اپنی مادری زبان کے بعد سب سے زیادہ بہتر طور پر بول، سمجھ اور لکھ سکتا ہے۔ پاکستان بھر کے تمام مکاتب فکر کو 24 جولائی کو منعقد ہونے والی ’’قومی نفاذ اردو کانفرنس ‘‘ میں زیادہ سے زیادہ شرکت کرکے کامیاب بنانا چاہئے تاکہ حکومت ملک کے تعلیمی ، سرکاری و نجی اداروں اور عدالتوں میں لکھنے اور بولنے میں اردو کو بطور قومی و سرکاری زبان نافذ العمل قرار دے ، تاکہ عوام پاکستان کو آسانی میسر آئے اور قانون کی بالادستی ہو۔

Views All Time
Views All Time
301
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   سولہ جولائی 2016ء : تکفیری فاشزم کے خلاف تجدید عہد کا دن
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: