Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ہمارے کوچوان – رنگ وہی، انداز وہی

by مئی 8, 2018 حاشیے
ہمارے کوچوان – رنگ وہی، انداز وہی
Print Friendly, PDF & Email

اگر آپ اسلام آباد میں ہیں اور آپ بھی کریم یا اوبر سروس استعمال کرتے ہیں تو آپ جانتے ہوں گے کہ یہ ٹیکسی سروسز چلانے والے زیادہ تر اپنی گاڑیوں کو پارٹ ٹائم آمدن کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اکثر بہت ہی پڑھے لکھے اور معزز گھرانوں سے بھی ہیں۔خود بہت بڑے افسر یا ان کی اولاد بھی ہوسکتے ہیں۔کبھی کبھار ان کے ساتھ گپ شپ بھی ہوجاتی ہے۔خوش لباس بھی ہیں خوش اطوار بھی۔ چہرے پہ خوشحالی کی چمک رکھنے والے لوگ فخر سے بتاتے بھی ہیں کہ "جی میری اپنی گاڑی ہے آپ کو پتہ ہے مہنگائی کتنی ہو چکی ہے۔بس پارٹ ٹائم چلاتے ہیں۔کچھ اخراجات پورے ہو جاتے ہیں”۔اپنے دیس کے ان پڑھے لکھے باشعور باروزگار جوانوں کو دیکھ ایک واقعہ یاد آگیا اسی کا ذکر کرنا چاہوں گی۔

آج سے پندرہ سال پہلے تک ہمارے چھوٹے شہروں میں رکشے بہت کم ہوتے تھے اور تانگے عام تھے۔بڑے بڑے افسر بھی اس سواری کو عام استعمال کرتے تھے۔امیر اور اونچے متوسط گھرانوں کےبچوں کو اسکول لانے لے جانے کے لئے باقاعدہ تانگے لگے ہوتے تھے۔ایسے ہی ایک تانگے والے کو میرے بھائی نے بھی کہہ دیا تمہارے تانگے میں جگہ ہے تو کل سے میری بہن کو بھی سکول لے جایا کرنا۔اس نے حامی بھر لی۔اگلے دن میں ٹائم سے تیار ہوکر لان میں ٹہلنا شروع ہوگئی۔ گھر کی گھنٹی کی آواز پہ گیٹ کھولا تو سامنے ہی یہ کڑکتا چمکتا سفید لباس پہنے ایک خوش شکل،خوش لباس،چہرے پہ خوشحالی کی چمک لئے ایک بندہ میرے سامنے کھڑا تھا۔ میں تھوڑا سا ہڑبڑا گئی۔پھر تصدیقی انداز میں پوچھا۔تانگے والا؟؟

یہ بھی پڑھئے:   امیدِ بہار

اس نے پورے دانت نکال کر جواب دیا، جی آ، بی بی جی۔میں اس کے عالیشان تانگے کی طرف بڑھی ۔اس کا تانگہ،تانگہ کم دولہے کی سجی ہوئی سواری زیادہ لگ رہا تھا۔ میری تعریفی نظریں دیکھ کر ایک دم سے گردن اکڑا کے بولا۔بی بی جی اے میرا اپنا ہی تانگہ وے۔تے میں اپنیاں ساریاں ہی ریجاں ایہدے تے لا لیاں۔

آج کریم اوبرچلانے والوں کو دیکھ پتہ نہیں کیوں مجھے وہ تانگے والا یاد آگیا۔پاکستان میں بےروزگاری اور مہنگائی اتنی بڑھ چکی ہے کہ یونیورسٹی سے لاکھوں کی ڈگریاں ہاتھ میں رکھنے والے،یا پھر بڑے بڑے عہدوں پہ رہنے والے آج "کوچوان” بننے پہ مجبور ہوچکے ہیں۔میرے نزدیک یہاں تک بھی سب ٹھیک ہے،پر میں دیکھ رہی ہوں کہ ہمارے سیاستدانوں کے دعوے جتنے بلند ہوتے جارہے ہیں۔ہمارے تن کے لباس اتنے ہی چیتھڑے ہوتے جارہے ہیں ۔آج یہ بڑی بڑی گاڑیوں کے ڈرائیور میرے اس دورکے تانگے والے کوچوان کے معیاروالے لباس میں ہیں۔خوف آتا ہے جب سوچتی ہوں۔ کیا اب ان ملبوسات کے چیتھڑے اڑائے جانے کی باری ہے۔

Views All Time
Views All Time
103
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: