Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

توہین تسبیح اور بندروں کی بندگی-نعیم احمد

Print Friendly, PDF & Email

جس ہاتھ میں وہ تسبیح پکڑے اللہ کا ذکر کر رہا تھا، اس کا وہ ہاتھ اس کی پیٹھ پر موجود تھا اور وہ بڑے انہماک سے ٹہلتے ہوئے ذکر میں مشغول تھا۔ اچانک ایک مولانا کی وضع والے شخص نے اسے اس طرح تسبیح پڑھتے دیکھ لیا۔ اس نے شور مچا دیا کہ دیکھو یہ تسبیح کو پیٹھ پیچھے رکھ کر اس کی توہین کر رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ شور زیادہ ہونے پر معاملہ بڑھتا اور سادہ لوح عوام بنا سوچے سمجھے اسے اپنی عدالت لگا کر فیصلہ اور سزا سنا کر اس پر عمل درآمد کرتی کہ مسجد کے ادب و احترام کے پیش نظر انہیں خاموش کرا دیا گیا۔ تسبیح والا شخص سہمے ہوئے ایک جانب بیٹھ گیا۔ بظاہر یہ چھوٹا سا واقعہ ہے، لیکن رونما ہو جانے کی صورت میں کس قدر بھیانک نتائج اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

انڈیا کی ریاست ہماچل پردیش کے دارالحکومت شملہ میں ایک بندر نے چیڑھ کے خوبصورت جنگل میں آنے والے سیاحوں پر کرنسی نوٹوں کی بارش کر دی۔ جنگل میں آنے والے سیاح ایک گھنٹے تک نوٹ اکٹھے کرتے رہے۔ اطلاعات کے مطابق دس ہزار روپے مالیت کی یہ بھارتی کرنسی ایک قریبی گھر سے چرائی گئی تھی۔ یہ بندر کھانے کی تلاش میں ایک گھر میں داخل ہوا، تاہم اسے کھانے کو تو کچھ نہ ملا تو وہ یہ کرنسی چرا کر لے گیا۔ بندر اپنے ہاتھ میں نوٹ پکڑ کر پہلے تو ایک ٹین کی چھت پر بیٹھا رہا پھر کچھ دیر بعد اس نے ایک ایک کر کے نوٹ لوگوں کی جانب پھینکنا شروع کر دیے۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت کی اس ریاست میں تین لاکھ بندر ہیں. یہ جگہ ایک عرصے سے ان کے لیے جنت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہندوؤں میں بندر کو مقدس (ہنومان) خیال کیا جاتا ہے اور وہ ان کی پرورش بڑے اہتمام سے کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں کے دوران بندروں کے انسانوں کے ساتھ تنازعات میں تیزی آئی ہے اور وہ انسانوں پر حملے اور انہیں جانی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ہماچل پردیش میں حکام نے بندروں کو ایک مصیبت قرار دیا ہے۔ سڑکوں پر گھومنا، شہریوں کو تنگ کرنا، سامان چرانا اور گھروں میں گھس کر چیزوں کی توڑ پھوڑ کرنا، غرضیکہ بندروں نے لوگوں کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ بندروں کی حد سے بڑھتی شرارتوں کے بعد ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت سے بندروں کے خلاف ایکشن لینے کی اپیل کی جس کے بعد بندروں کو موذی جانور قرار دے دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں اب بندروں کو مارنے کی مہم چلائی جائے گی۔

ملک میں جب تک تعلیم کا حصول تمام لوگوں کے لیے آسان نہیں ہو گا لوگوں میں شعور بیدار نہیں ہو گا اور جب تک نوجوان طبقہ برسر روزگار نہیں ہو گا اس وقت تک بے روزگار نوجوان اسی طرح کے لوگوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنتے رہیں گے اور اسی طرح کے واقعات جنم لیتے رہیں گے۔ تعلیم اور روزگار مہیا کرنا یقیناً ریاست کی ذمہ داری ہے۔ جب ریاست اپنی اس ذمہ داری کو پوری طرح سے انجام نہیں دے پا رہی تو نوجوان طبقے کو آگے بڑھ کر اس معاملے میں ریاست کا ہاتھ بٹانا چاہیے۔ پڑھے لکھے افراد کو اپنے اردگرد دیکھنا ہو گا کہ کتنے بچے ایسے ہیں جو معاشی حالات کی وجہ سے سکول نہیں جا پا رہے، وقت نکال کر اپنے علاقے کی سطح پر انہیں کسی جگہ پڑھانے کا انتظام کریں۔ یقین کیجیے اس طرح کی کوشش، محنت اور پڑھائی کے نتیجے میں ہی ایسے ایسے گوہر نایاب سامنے آتے ہیں کہ دنیا حیران رہ جاتی ہے۔ نوجوانوں میں کچھ ایسے افراد جو معاشی طور پر تھوڑا بہتر ہوں انہیں اپنے جیسے نوجوانوں کے لیے آگے بڑھ کر ان کے روزگار کے لیے کوشش کرنی ہو گی۔ مخیر حضرات کو آگے آ کر ان نوجوانوں کے لیے سود سے پاک چھوٹے چھوٹے قرضوں کا انتظام کرنا ہو گا، جس سے یہ لوگ کسی بھی قسم کی گھریلو انڈسٹری قائم کر کے یا چھوٹا موٹا کاروبار کر کے اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔ ہنر سکھانے کے لیے تعلیم یافتہ افراد کو ایسے اداروں میں داخلہ دلوایا جائے جہاں سے فراغت کے بعد یہ نوجوان معاشرے کے لیے بہتر شہری ثابت ہو سکیں۔

مذہب کے نام پر کسی پر بھی کسی بھی قسم کی توہین کا الزام لگا کر یہ جو شہریوں کو سرعام سزا دے دی جاتی ہے۔ یہ بہت خطرناک صورت حال ہے۔ اس میں نام نہاد علماء حضرات جو کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کا سدباب ہونا چاہیے۔ ملکی سطح پر جمعے کے اجتماعات کا انعقاد کیا جائے۔ ریاست کی جانب سے جمعے کا خطبہ تفویض کیا جائے اور اس کی روشنی میں واعظ حضرات کے ذریعے سے اردو میں لوگوں کی اصلاح کی تربیت کا اہتمام کیا جائے۔ عوام میں قانون کے احترام کا شعور اجاگر کیا جائے۔ انہیں بتایا جائے کہ قانون کو کسی قسم کی صورت حال میں بھی اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔ جو کام قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہے، وہ انہی کو کرنا ہے۔ عوام کا کام قانون کی پاسداری کرتے ہوئے غلط افعال کی نشاندہی کرنا ہے نہ کہ اپنی ہی عدالت لگا کر فیصلہ صادر فرما کر سزا دے دینا۔ یہ جو غلط رجحان چل پڑا ہے یہ امن عامہ کے لیے بہت خطرناک ہے، اگر اس کی روک تھام نہ کی گئی تو عین ممکن ہے کہ یہ آگ ہمارے اپنے گھروں تک بھی پہنچ جائے۔

dunyanews.tv

Views All Time
Views All Time
446
Views Today
Views Today
3

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: