Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

رمضان ٹرانسمیشن میں موجود خرافات

by جون 9, 2016 بلاگ
رمضان ٹرانسمیشن میں موجود خرافات
Print Friendly, PDF & Email

ramzan transmissionماہ رمضان بے شمار رحمتیں،برکتیں اور فضیلتیں اپنے جلو میں سمیٹے ہوتا ہے-اس ماہ مبارک میں ہر خاص وعام دل جمعی سے مشغول عبادت ہوتا ہےدل ازخود نیکیوں کی طرف مائل رہتا ہےاور پورا مہینہ ایک پر نور فضا چهائی رہتی ہےگو اس ماہ میں شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں لیکن انسانوں کے نفس ہنوز بدی پر قائم رہتے ہیں کہ ان نفوس کو برائی کی جانب متوجہ ہونے کے لیے کوئی بیرونی محرک درکار نہیں ہوتا کہا جاتا ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہےکیونکہ اکثر اس سے شعوری اور لاشعوری طور پر غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں لیکن ماحول کے زیر اثر اس میں تبدیلی آنا لازمی امر ہوتا ہےبہر کیف کچه انسانوں پر وقت و حالات اتنی شدت سے اثر انداز نہیں ہوتے جتنے کہ عام افراد پر ہوتے ہیں-ایسے ہی نفوس کے پجاری اس ماہ مقدس میں بهی ملاوٹ،ذخیرہ اندوزی،دهوکہ دہی،جهوٹ اور منافقت جیسے قبیح اعمال پر کار بند رہتے ہیں-
گزشتہ چند سالوں میں دوسری سرفہرست خرافات کے ساتھ ساتھ ایک اور غلط رجحان جو ہمارے معاشرے میں پروان چڑها ہے وہ رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر طوفان بدتمیزی ،فحاشی اور چینلز کی ہائی ریٹنگ کی دوڑ میں سب سے آگے ہونے کے لیے پرده سکرین پر بنا تحقیق اسلام کے نام پر کچه بهی دکهانے کا رجحان ہے جوکہ زور پکڑتا جارہا ہے-ہونا تو یہ چاہیے تها کہ رمضان المبارک میں اسلام سے متعلقہ علمی،ادبی،فکری،تعلیمی اور معلوماتی پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا جس میں مفتی ،علماء اور مذہبی سکالرز مدعو کیے جاتے اور وہ اسلام سے متعلق جامع معلومات،شعریعت کے احکامات اور قرآن و سنت کی روشنی میں مختلف مسائل کے حل کا بیان کرتے چہ جائیکہ ان رنگا رنگ ٹرانسمیشنز میں ہونق قسم کا میزبان (جو کہ اکثر اوقات کوئی سنگر،ماڈل ،شعبدہ باز اور ادکار ہی) جلوہ گر ہوتا ہے جوکہ ہمہ قسم کے اللوں تللوں میں مصروف عمل ہوکر پورا رمضان خلقت کو پاگل کیے رکهتا ہے تقریبا تمام ہی ٹی وی چینلز پر یہی خرافات دیکهنے کو ملتی ہیں حضرت میزبان (خاتون ہو یا مرد)مختلف برانڈز کا لباس زیب تن کرکے دلکش،دلنیش(سمجه تو گئے ہوں گئے )اور لبهانے والے انداز میں کبهی تو وہاں بیٹهے ناظرین میں مختلف کمپنیوں کے موبائل بانٹ رہے ہوتے ہیں کبهی سکوٹر اور کاریں تقسیم کر رہے ہوتے ہیں کبهی عمرے کے ٹکٹ بانٹے جارہے ہوتے ہیں تو کبهی فردوس، وردہ اور گل احمد کے لان کی بندر بانٹ ہو رہی ہوتی ہے-"کوئز سگمینٹ”میں اسلام سے متعلقہ مفید سوالات تو پوچهے جاتے ہیں مگر انعامات کا حصول میزبان کا پهرکی طرح ادهر سے ادهر گهومنے اور ناظرین کے مکمل ناچ کی صورت میں سامنے آتا ہے کہ انسان اشد حیرانگی کا شکار ہو جاتا ہے ایسے مظاہرہ ملاحظہ کرکے اور ہر منظر پر لاشعوری طور پر استغفار کا کلمہ میکانکی طور پر زبان پر جاری ہو جاتا ہے-اس پر مستزاد یہ کہ بجائے علماء کے طاہر شاہ جیسے سنگرز مدعو کیے جاتے ہیں کبهی ان کی گنهیری زلفوں سے کهیلا جاتا ہے تو کبهی ان سے دوران پروگرام ہی "آئی ٹو آئی”گوایا جاتاہے-رمضان کی بابرکت ساعتوں میں کم وبیش ہر چینل پر یہی بے ہودگیاں دیکهنے کو ملتی ہے-میرا مقصد کسی کی تضحیک ہے نہ کسی فرد کی دل شکنی افسوس ہے تو پیمبرا کی مجرمانہ خاموشی پر ہے کہ آخر وہ کیوں ایسے وقت میں "خواب خرگوش "کے مزے لوٹ رہا ہے اور قطعا کسی بهی بات کا نوٹس نہیں لے رہا- مختلف چینلز کے "پنڈت ومہاجن” ذہینت کے مالکان تو چینل کی "ٹاپ ریٹنگ”کے لیے ہر حد پار کر چکنے کو بے چین ہیں -پیمبرا کو ایسے وقت میں "میڈیا ایتهکس”کیوں یاد نہیں؟-خدا راہ اس گمراہ کن رجحان کو ختم کرکے رمضان ٹرانسمیشن کو حقیقی معنوں میں اسلام پر توجہ مرکوز کروانے ،اسلام سیکهنے،سکهانے ،پهیلانے اور مخلوق کی بهلائی کا اجتماعی شعور اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا جائے-

Views All Time
Views All Time
995
Views Today
Views Today
3
یہ بھی پڑھئے:   عدم برداشت - عامر اشفاق
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: