دسویں عالمی اردو کانفرنس اورعصری ادب اطفال

Print Friendly, PDF & Email

سرکاری سطح پر جتنی بھی ادبی کانفرنسز منعقد ہوئی ہیں منتظمین نے ہمیشہ اس صنف سے مغائرت برتی ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بچوں کا کوئی ادیب کسی اعلیٰ عہدے پر فائز نہ ہوسکا،کہ وہ بھی کسی پی آر شپ کے بل پوتے پر بہتوں سے ہاتھ ملاتا اور ادب اطفال سے مغائرت برتنے کی وجہ پوچھتا۔یا کہیں ہاتھ مل بھی جاتا ،تو وہ بات کرنے میں اپنا گھاٹا محسوس کرتا ۔زندگی میں کوئی تحریک اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتی جب تک اس کے پیچھے کوئی توانا آواز نہ ہو، یا اگر ہوتو اس میں پائیداری و استقامت نہ ہو۔ایسی ملگجی آوازیں لتاڑ دی جاتی ہےیا از خود بند ہوجاتی ہیں کیوں کہ وہ نہ صدائے احتجاج کی صف میں شمار ہوتی ہیں نہ کسی فرد خاص کی آواز کہ ان پر دھیان دیا جائے ۔شاید ادب اطفال بھی اسی لئے نظر انداز ہورہا ہے کہ اس کے لکھنے والوں کی صدائے احتجاج میں پائیداری نہیں رہی ۔اگر ایک فرد نے جاکر احتجاج ریکارڈ کروا دیا تو دوسرے نے ایسے احتجاج کو طنز جانا اور ہوائی نعرہ خیال کیا ۔

ادب اطفال عصر حاضر کی ایک اہم ضرورت ہے ۔ہم اپنے بچوں کے لئے جہاں بھاری بھرکم کتب کا بوجھ اٹھا ئے پھرتے ہیں یہ دن رات اسے انگریزی اور سائنس کی کتابیں پڑھا کر اس کا دماغ تجارتی اور مشینی بنانے کی تگ و دو میں رہتے ہیں ۔ادب اطفال کے لئے تحریر کردہ اخلاقی کہانیاں اسلامی کہانیاں تاریخی کہانیاں چڑیوں اور پرندوں، تتلیوں کی کہانیاں بچے کو اس کا بچپن عطا کرتی ہیں ۔انسانیت سے روشناس کرواتی ہیں ۔ایک نئی تہذیب ایک نئے جہاں میں پہنچاتی ہیں۔اور یہ ایسے اسباق پر مشتمل ہوتی ہیں جو بچوں کو ان کے بڑے ہوجانے پر بھی نہیں بھولتیں۔گفتگو شروع کرنے کا مقصد یہ ہےکہ کل سے کراچی آرٹسل کونسل میں شروع عالمی کانفرنس میں ادب اطفال پر بھی ایک سیشن رکھا گیا ۔کراچی آرٹسل کونسل کے چیئرمین جناب احمد شاہ صاحب کا یہ اقدام قابل تحسین ہے کہ انہوں نے ادب اطفال کو ادب کی صنف مانا اور اس کا سیشن شامل کرنے کی منظوری دی ۔یہ منظوری نہ ہوتی گر اس کے پیچھے کوئی نمائندہ کوئی ایک آواز موجود نہ ہوتی ۔گر تھی تو بیل و شیر کی آواز کہ جس نے حساس اذہان پر منفی تاثر چھوڑے ۔یہاں چئیرمین احمد شاہ کی بلند حوصلگی ،اعلیٰ ظرفی اور کشادہ دلی کا بیاں ہے کہ بیل و شیر کی وہ آواز سن کر جس طور انہیں برا ماننا چاہیے تھا وہ انہوں نے نہیں منایا اور جس طرح محسنِ ادب اطفال جناب ابنِ آس محمد کی باقاعدہ گزارش پر آمناََ و صدقناََ کہا وہ ایک بلند مرتبہ انسان کی پہچان ہے ۔ یہ حامی ان کی ایک بڑی عظمت کی دلیل ہے ۔

یہ بھی پڑھئے:   خدا ہمیں اُس بے فکری سے محفوظ رکھے جو احمد لدھیانوی کی آمد سے مشروط ہو ۔ نور درویش

کل سے شروع ہونیوالے ادب اطفال کا سیشن دن بارہ بجے شروع ہوگا۔ادب اطفال کے اس سیشن کی صدارت جناب رضا علی عابدی کریں گے ۔رضا علی عابدی ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں ۔ادب اطفال اور ان سے امور نفسیات پر ان کا کام خاصا دیکھنے کے لائق ہے ۔آپ ایک عرصہ بی بی سی ریڈیو سے بھی منسلک رہے۔شرکائے گفتگو میں محترم محمود شام بھی اظہار خیال فرمائیں گے ۔میں شام صاحب کو آبروئے ادبِ اطفال کہتا ہوں کہ انہوں نے ادبِ اطفال کے لئے جو کاوشیں کی ہیں۔ان سے صرفِ نظر احسان فراموشی کے سوا کچھ بھی نہیں۔انہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی پچاس سال صحافت کو دئیے۔متعدد کتب کے مصنف و مختلف رسائل کے مدیر رہے ۔بچوں کے رسائل کے مدیر رہے تو باقاعدہ خط لکھ کر اپنے زمانے میں لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔اپنے دفتر میں ادیب الاطفال کے لئے روزگار کے دروازے کھولتے رہے اس سیشن میں ان کا، مقالہ ادب اطفال کی عصری صورتحال پر روشنیوں کے نئے در وا کرے گا۔مقالہ نگار ابن آس محمد ایک روشن عہد ہیں ادب اطفال کا، آپ نے بچوں کے لئے ساڑھے چھ ہزار کہانیاں لکھیں ۔حکومت پاکستان کے ذیلی ادارے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے ان کے 14مجموعوں کو انعام سے نوازہ۔ بچوں کے لیے لکھی جانے والی انگریزی کی مقبول ترین کتاب ہیری پوٹر کا ترجمہ کیااور پھر انگریزی کے کلاسک ناول لارڈ آف دی رنگز کو بچوں کے لیے اردو میں منتقل کیا۔ابن آس محمد کا ذکر یہاں اس خوبی سے بھی خالی نہیں کہ کل ہونیوالے سیشن کی منظوری دراصل ان کی شعوری کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔وہ اگر منتظمین سے نہ ملتے تو شاید کسی اور نے بھی یہ ضرورت محسوس نہیں کرنی تھی کہ ادب اطفال کانفرنس کیوں ضروری ہے ۔وہ ایک بڑے ادیب تو ہیں ہی لیکن ایک بڑےآدمی بھی ہیں ۔یہ نہیں کہ لکھنا تھا لکھ لیا چھپنا تھا چھپ لیا لیکن جہاں ادب اطفال کے فائدے کے لئے عملی اقدام کی ضرورت محسوس کی تو منتظمین سے ہاتھ ملانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ہمارا اردو ادب اطفال ان کا احسان مند ہے ۔اردوئے ادب طفال کی خدمت انہوں نے جس عرق ریزی سے کی ۔وہ سونے کے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے ۔تقریب میں محترمہ رومانہ حسن کا بھی مقالہ ہے۔گرچہ میرا ان سے نام کی حد تک کوئی تعارف ہے مگر میرا یقین ہےبچوں کے ادب کی عصری فضاپر ان کا مقالہ اردوئے ادبِ اطفال کے لئے نیک شگون ثابت ہوگا ۔

یہ بھی پڑھئے:   ٹوٹتی امیدیں(۳) - شاہد عباس کاظمی

کل کے ہونیوالے سیشن میں مقررین کی گفتگو اور ان کی مفید تجاویز ادب اطفال کے لئے بہتری کا سماں ثابت ہوں گی ۔میں عالمی کانفرنس میں شامل اس سیشن کا بھر پور خیر مقدم کرتا ہوں اور چئیرمین کراچی آرٹس کونسل جناب احمد شاہ صاحب سے بھی امید رکھتا ہوں کہ جب تک وہ اس سسٹم کا حصہ ہیں ادب اطفال کی برابر پذیرائی کرتے رہیں گے ۔

Views All Time
Views All Time
477
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: